’’میت کا وارث کون ؟ ‘‘
  14  جون‬‮  2018     |     اوصاف سپیشل

ایک علاقہ میں ایک بابا جی کا انتقال ہو گیا ،جنازہ تیار ہوا اور جب اٹھا کر قبرستان لے جانے لگے تو ایک آدمی آگے آیا اور چارپائی کا ایک پاوں پکڑ لیا اور بولا کہ مرنے والے نے میرے 15 لاکھ دینے ہیں۔ پہلے مجھے پیسے دو پھر اس کو دفن کرنے دوں گا۔ اب تمام لوگ کھڑے تماشا دیکھ رہے ہیں، بیٹوں نے کہا کہ مرنے والے نے ہمیں تو کوئی ایسی بات نہیں کی کہ وہ مقروض ہے، اس لیے ہم نہیں دے سکتے، متوفی کے بھائیوں نے کہا کہ جب بیٹے ذمہ دار نہیں تو ہم کیوں دیں اب سارے کھڑے ہیں اور اس نے چارپائی پکڑی ہوئی ہے۔ جب کافی دیر گزر گئی تو بات گھر کی عورتون تک بھی پہنچ گئی۔ مرنے والے کی اکلوتی بیٹی نے جب بات سنی تو فورا اپنا سارا زیور اتارا اور اپنی ساری نقد دقم جمع کر کے

اس آدمی کے لیے بھجوا دی اور کہا کہ اللہ کے لیے یہ رقم اور زیود بیچ کے اس کی رقم رکھو اور میرے ابو جان کا جنازہ نہ روکو۔ میں مرنے سے پہلے سارا قرض ادا کر دوں گی۔ اور باقی رقم کا جلد بندوبست کر دوں گی۔ اب وہ چارپائی پکڑنے والا شخص کھڑا ہوا اور سارے مجمع کو مخاطب ہو کے بولا۔۔ اصل بات یہ ہے کہ میں نے مرنے والے سے 15 لاکھ لینا نہیں بلکہ اسکا دینا ہے اور اس کے کسی وارث کو میں جانتا نہ تھا تو میں نے یہ کھیل کیا۔ اب مجھے پتہ چل چکا ہے کہ اس کی وارث ایک بیٹی ہے اور اسکا کوئی بیٹا یا بھائی نہیں ہے۔ اب بھائی منہ اٹھا کے اسے دیکھ رہے ہیں اور بیٹے بھی۔ سبق۔1۔ بیٹی والے خوش نصیب ہیں۔ لہذا بیٹی کی پیدائش پہ خوش ہونا چاہیے نہ کہ غمگین۔ 2۔ بیٹیوں کی شریعت میں بہت فضیلت بیان کی گئی ہے۔


اس خبر کے بارے میں اپنی رائے دیجئے
پسند آئی
100%
ٹھیک ہے
 
کوئی رائے نہیں
 
پسند ںہیں آئی
 



  اوصاف سپیشل

آج کا مکمل اخبار پڑھیں

آج کا مکمل اخبار پڑھیں

اوصاف سپیشل

کالم /بلاگ


     
     
تمام اشاعت کے جملہ حقوق بحق ادارہ روزنامہ اوصاف محفوظ ہیں۔
Copyright © 2016 Daily Ausaf. All Rights Reserved