رسول اللہ ﷺ کھجور کے ساتھ ککڑی کیوں کھاتے تھے، ککڑی میں قدرت کے کونسے راز پوشیدہ ہیں؟ لاکھوں روپے بچانے والا نسخہ
  8  جولائی  2018     |     اوصاف سپیشل

لاہور (نیوز ڈیسک)کڑی کو عربی میں قثا کہا جاتا ہے. حضرت عبداللہ بن جعفرؓ روایت ہے کہ رسول اللہﷺ کھجور کے ساتھ ککڑی کھاتے تھے .ککڑی کا مزاج سرد تر ہے‘ معدہ کی شدت حرارت کو بجھاتی ہے ‘ مثانہ کے درد کے لئے نافع ہے،پیشاب آور ہے. ، دیر ہضم ہے اس کی برودت سے معدہ کوکبھی ضرر بھی پہنچتا ہے. اس لئے اس کے استعمال کے وقت مصلح کا لحاظ رکھنا چاہیے تاکہ وہ اس کی برودت ورطوبت

کو معتدل کردے. رسول اللہﷺ نے اس کو تر کھجور کے ساتھ استعمال کیا. اگر اس کو چھوہارے‘کشمش‘ یا شہد کے ہمراہ استعمال کریں تو اس میں اعتدال پیدا ہوجاتا ہے. ککڑی میں پوٹاشیم زیادہ ہوتا ہے جس کی وجہ سے بلڈ پریشر نارمل رہتا ہے اس کا جوس ہائی اور لو بلڈ پریشر میں فائدہ دیتا ہے.ککڑی میں سلیکون اور سلفر کی بھی زیادہ مقدار ہوتی ہے جس سے بال مضبوط ہوتے اور بڑھتے ہیں . اب آخر میں آپ کو یہ بتاتے چلیں کہ ککڑی کو عام طور پر اردو میں کھیرا کہتے ہیں .تاہم عرب اور دوسرے ملکوں میں پائے جانے ولے کھیروں کی بناوٹ میں کافی فرق ہوتا ہے البتہ خواص یکساں ہوتے ہیں۔


اس خبر کے بارے میں اپنی رائے دیجئے
پسند آئی
95%
ٹھیک ہے
5%
کوئی رائے نہیں
 
پسند ںہیں آئی
 


 سب سے زیادہ پڑھی جانے والی مقبول خبریں





  اوصاف سپیشل

آج کا مکمل اخبار پڑھیں

آج کا مکمل اخبار پڑھیں

اوصاف سپیشل

کالم /بلاگ


     
     
تمام اشاعت کے جملہ حقوق بحق ادارہ روزنامہ اوصاف محفوظ ہیں۔
Copyright © 2016 Daily Ausaf. All Rights Reserved