تازہ ترین  
منگل‬‮   23   اکتوبر‬‮   2018

تعویذ گلے میں نہ ہوتا تو وہ لڑکیاں میرا خون پی جاتیں کراچی کے گورکن کے ساتھ پیش آنے والا سچا واقعہ


میں نے اپنا بچپن اور جوانی قبرستان میں گزاردی ہے .میرا باپ بھی اس قبرستان میں گورکن تھا اور میں بھی پیدائشی گورکن پیدا ہوکر مر رہا ہوں یہاں.یہ کوئی بیس سال پرانی بات ہے .یہ جنوری کا مہینہ تھا . مجھے ایک قبر تیار کرنے کا کام ملا، جس کی تدفین بعدنماز عشاء تھی. اس دن صبح سے بارش بھی ہورہی تھی۔۔ اور قبرستان میں پانی اور کیچڑ ہوگیا تھا . خیرمیں نے مغرب کے بعد قبر تیار کرنا شروع کی اور اپنے کام سے فارغ ہوکر میں میت کا انتظار

کرنے لگا. میت آئی تو اس کوکرتے ہوئے رات کے 11بج گئے. جب تمام لوگ قبرستان سے چلے گئے تو میں نے بھی اپنا سامان سمیٹنا شروع کیا. تمام کاموں سے فارغ ہوکر میں بھی گھر جانے لگا۔ابھی میں نے آدھا قبرستان ہی پار کیا تھا کہ میں نے دیکھا قبرستان کے اندر مدھم سی روشنی نمودار ہوگئی ہے اور کچھ افراد وہاں موجود ہیں. میں حیران ہوا کہ اس وقت

کون آسکتا ہے ؟ میں اس جانب چل دیا تاکہ معلوم کروں یہ کون لوگ ہیں۔۔اور اگر وہ میت لیکر آئے تھے تو انہوں نے مجھے اطلاع کیوں نہ دی . جب میں نزدیک پہنچا تو دیکھا کہ برگد کے پرانے درخت کے نیچے کچھ لڑکیاں آگ جلا کر اس کے گرد بیٹھی ہیں اور آپس میں کسی غیرمانوس زبان میں باتیں کررہی ہیں. میں ان کے نزدیک پہنچااورزور دار آواز سے پوچھا’’

کون ہو تم اور اس وقت قبرستان میں کیا کررہی ہو؟ ‘‘ انہوں نے مجھے کوئی جواب نہیں دیا تو دوبارہ کہا’’تمہارے گھر والوں کو معلوم ہے کہاس وقت تم قبرستان میں ہو؟‘‘لیکن انہوں نے میری آواز سنی ان سنی کردی . دوسرے ہی لمحے ایک لڑکی جس انداز میں بولی وہ بڑا ہی

عجیب تھا.’’میں نے کہا تھا کہ یہ آئے گا‘‘ یہ جملہ سنتے ہی دوسری لڑکیاں بھی اپنی جگہ سے کھڑی ہوگئیں. اب جو میں نے غور سے ان کی جانب دیکھا تو ایسا لگا جیسے میں کوئی خواب دیکھ رہا ہوں.۔۔کیونکہ ان کی ناک تھی اور نہ ہی منہ تھا. ان کے چہرے پر کان تھے.اور

صرف آنکھیں تھیں جو انتہائی سرخ تھیں. یہ دیکھتے ہی میں نے بھاگنا چاہا تو مجھے لگا جیسے کسی نے میرے پاوں مضبوطی سے پکڑلئے ہوں، جنہیں میں کسی بھی طرح سے آزاد نہیں کراپارہا تھا. یہ دیکھ کر ان میں سے ایک لڑکی میرے قریب آئی اور جیسے ہی اس نے

قریب آکر مجھے چھونا چاہا، اس کو ایسا جھٹکا لگا جیسے کوئی شخص بے دھیانی میں بجلی کا ننگا تار چھولے۔یہ دیکھتے ہی وہ چلائی ’’اس کے پاس تو تعویذ ہے .اس کو کیسے ماروں میں‘‘. پھر اس لڑکی نے مجھ سے کہا ’’ آج اس تعویذ نے تجھے بچالیا ورنہ آج ہم تیرے خون

سے اپنی پیاسمٹاتیں‘‘ اس کے بعد وہ تمام عجیب الخلقت لڑکیاں اس درخت کے اندر اس طرح داخل ہوگئیں.جسے وہ ہوا سے بنی ہوں.۔۔اس کے ساتھ ہی میرے پاوں آزاد ہوئے اور میں وہاں سے بھاگ نکلا. دوسرے دن میں نے اس واقعے کا ذکر ایک مولوی صاحب سے کیا تو انہوں نے مجھے بتایا ’’ تمہارا سامنا رات کو چڑیلوں سے ہوا تھا جو تمہیں اپنا شکار بنانا چاہتی تھیں.

مگر تمہارے گلے میں جو تعویذ ہے اس نے تمہاری جان بچالی ہے‘‘ اس کے بعد پھر کبھی وہ مخلوق یا چڑیلیں مجھے دوبارہ نظر نہیں آئیں اور میں بھی قبرستان کے اس حصے میں صرف دن کے اوقات میں ہی جاتا ہوں۔




 سب سے زیادہ پڑھی جانے والی مقبول خبریں


آج کا مکمل اخبار پڑھیں

تازہ ترین خبریں

کالم /بلاگ


     
     
تمام اشاعت کے جملہ حقوق بحق ادارہ روزنامہ اوصاف محفوظ ہیں۔
Copyright © 2016 Daily Ausaf. All Rights Reserved