تازہ ترین  
پیر‬‮   10   دسمبر‬‮   2018

گزشتہ روز پاک فوج نے جس انتہائی خطرناک میزائل کا تجربہ کیا اس کا نام ’’غوری میزائل ‘‘ کیوں رکھا ؟


اسلام آباد (احمد ارسلان:روزنامہ اوصاف) گزشتہ روز پاک فوج نے انتہائی شاندار ایٹمی میزائل غوری کا کامیاب تجربہ کیاجس کی گونج پاکستان کے دور اور قریب کے دشمنوں تک صاف صاف پہنچی اور دشمن تھرا اٹھا ۔ غوری میزائل پاک فوج کی طاقت میں بےپناہ اضافے کا نام ہے ۔ یہ میزائل 1300کلومیٹر تک اپنے دشمن کو کمال درستگی کیساتھ نشانہ بنانے کی صلاحیت کے ساتھ ساتھ یہ روایتی جوہری ہتھیاروں کو بھی ساتھ لے جا سکتا ہے ۔

اب رہی بات اس کی کہ اس میزائل کا نام غوری کیوں رکھا گیا تو اس کا جواب یہ ہے کہ غوری نام برصغیر کی تاریخ میں بے حد مشہور ہے ۔ بر صغیر پر مسلمانوں کے تسلط کی شاندار تاریخ میں غوری بادشاہ کا نام اگر سر فہرست رکھا جائے تو بے جا نہ ہوگا اور یہی وہ نام بھی ہے جو پاکستان میں بچے بچے کی زبان پر ہے ۔ شہاب الدین محمد غوری نے ہندوستان کی تاریخ کے سب سے طاقتوربادشاہوں میں سے ایک پرتھوی راج چوہان کو عبرتناک شکست دیتے ہوئے اسے جہنم واصل کیا اور یہی وجہ ہے کہ آج بھی ہندو اس کا نام لیتے ہوئے کانپ جاتے ہیں ۔

دوسری جانب ہندوستان پاکستان کا دشمن اول سمجھا جاتا ہے اورپاکستان کی جانب سے خطرناک ایٹمی میزائل کا نام غوری رکھا جانا وطن عزیز کی مسلح افواج کی جانب سے ایک اشارہ بھی ہے کہ مملکت خدادا د کی مسلح افواج کے خون میں آج بھی کھولتے ہوئے پارے کی طرح نعرہ تکبیر گردش کرتا ہے اور خبردار جو تم نے ہمارے پیارے ملک کی جانب میلی آنکھ سے دیکھا کیونکہ پھر تاریخ ایک بار خود کو دہرائے گی اور’’ پرتھوی راج چوہان ‘‘ غوری کے ہاتھوں نیست و نابود ہو جائے گا ۔ پاکستان زندہ باد ۔۔ پاک فوج پائندہ باد

ہم اپنے قارئین کیلئے غوری بادشا ہ کی مختصر پیش کر رہے ہیں جو یقینا آپ کے علم میں اضافہ کا سبب بنے گی ۔
غوری خاندان کو حقیقی اہمیت دو بھائیوں غیاث الدین اور شہاب الدین محمد غوری کے زمانے میں حاصل ہوئی جو سیف الدین ثانی کے چچا زاد بھائی تھے اور سیف الدین کے انتقال کے بعد یکے بعد دیگرے تخت نشین ہوئے۔ غیاث الدین غوری نے غزنی کو مستقل طور پر فتح کر لیا اور شہاب الدین محمد غوری کو سلطان معز الدین کا خطاب دے کر غزنی میں تخت پر بٹھایا۔ غیاث الدین نے اس دوران ہرات اور بلخ بھی فتح کر لیے اور ہرات کو اپنا دار الحکومت بنایا۔ سلطان شہاب الدین غوری اگرچہ اپنے بھائی کا نائب تھا لیکن اس نے غزنی میں ایک آزاد حکمران کی حیثیت سے حکومت کی اور شمالی ہندوستان کو فتح کرکے تاریخ میں مستقل مقام پیدا کر لیا۔ شہاب الدین غوری نے اپنی فتوحات کا آغاز ملتان اور اوچ سے کیا اور 1175ء میں دونوں شہر فتح کر لیے اس کے

بعد 1179ء میں پشاور اور 1182ء میں دیبل کو فتح کرکے غوری سلطنت کی حدود کو بحیرۂ عرب کے ساحل تک بڑھا دیا۔ شہاب الدین نے 1186ء میں لاہور پر قبضہ کرکے غزنوی خاندان کی حکومت ہمیشہ کے لیے ختم کردی۔ فتح لاہور کے بعد شہاب الدین نے بھٹنڈا فتح کیا جس پر دہلی اور اجمیر کا ہندو راجہ پرتھوی راج چوہان ایک زبردست فوج لے کر اس کے مقابلے پر آیا اور تلاوڑی کے میدان میں شہاب الدین کو شکست دی لیکن شہاب نے اگلے ہی سال پچھلی شکست کا بدلہ چکاتے ہوئے نہ صرف پرتھوی راج کو شکست دی بلکہ وہ جنگ میں مارا بھی گیا۔ شہاب نے آگے بڑھ کر دہلی اور اجمیر کو فتح کر لیا اور اس کے سپہ سالار بختیار خلجی نے بہار اور بنگال کو زیرنگیں کیا۔ یوں پورا شمالی ہندوستان ان کے قبضے میں آگیا۔ غیاث الدین نے 46 سال حکومت کی۔ اس کے انتقال کے بعد شہاب الدین محمد غوری ہرات میں بھائی کی جگہ پوری غوری سلطنت کا بادشاہ بن گیا۔




 سب سے زیادہ پڑھی جانے والی مقبول خبریں


آج کا مکمل اخبار پڑھیں

تازہ ترین خبریں




     
     
تمام اشاعت کے جملہ حقوق بحق ادارہ روزنامہ اوصاف محفوظ ہیں۔
Copyright © 2016 Daily Ausaf. All Rights Reserved