تازہ ترین  
ہفتہ‬‮   19   جنوری‬‮   2019

کیا آپ جانتے ہیں کہ کن وجوہات کی بنا پر سور کا گوشت حرام قرار دیا گیا ہے ؟


کیا آپ کو اپنے بزرگوں کی سکھائی ہوئی یہ بات یاد ہے کہ لفظ سور نہیں کہنا چاہیے، اس سے زبان ناپاک ہو جاتی ہے۔میں بھی کئی سال یہی سمجھتا رہا۔ بعد میں قرآن پاک اورترجمہ پڑھا تو انکشاف ہوا کہ اللہ تعالیٰ نے خود اپنی کتاب میں اس جانور کا نام لے کر ذکر کیا ہے کہ یہ حرام ہے ۔ جبکہ یہ تحریر ایک مسیحی کی لکھی ہوئی پوسٹ سے لی گئی ہیں۔اس مسیح کی لکھی گئی پوسٹ کے مطابق سور کی غذا نہایت ہی گندی ہوتی ہے۔ یہ فضلہ جات کھا لیتا ہے، خراب پھل، سبزیاں، مردہ

جانور اور کیڑے مکوڑے سب کچھ نگل جاتا ہے۔سور کا گوشت غذاوں میں پوشیدہ زہریلے کیمیل ایک فوم کی طرح چوستا ہے۔ اس لیے اس کا گوشت زہریلا ہوتا ہے۔دودھ پلانے والے دیگر جانوروں کی طرح سور کو پسینہ نہیں آتا۔ پسینے کا ایک مقصد جسم سے فاسد مادوں کو خارج کرنا ہے۔ لہذا پسینہ نہ آنے کی وجہ سے یہ فاسد مادے سور کے جسم میں ہی رہتے ہیں۔سور کے گوشت کیڑے مکوڑے دوسرے جانوروں کے گوشت کی نسبت زیادہ جلد آ جاتے ہیں۔ سور اپنی گندی غذا کو بھی محض چار گھنٹوں میں ہضم کر لیتا ہے۔ یعنی ان کا نظام انہظام خوراک کو اچھی طرح صاف نہیں کرتا۔سور میں ایسی لگ بھگ 30 بیماریاں ہیں جو آسانی سے انسانوں میں منتقل ہو سکتی ہیں۔ اس لیے بائبل میں عیسائیوں کو سوروں کے پنجر تک کو چھونے سے منع کیا ہے۔




 سب سے زیادہ پڑھی جانے والی مقبول خبریں


آج کا مکمل اخبار پڑھیں

تازہ ترین خبریں




     
     
تمام اشاعت کے جملہ حقوق بحق ادارہ روزنامہ اوصاف محفوظ ہیں۔
Copyright © 2016 Daily Ausaf. All Rights Reserved