تازہ ترین  
منگل‬‮   11   دسمبر‬‮   2018

عشق رسولﷺ کا عجیب واقعہ


شیخ الاسلام حضرت علامہ ظفر احمد عثمانی فرماتے ہیں کہ میں اس زمانے میں حج کے بعد مدینہ منورہ گیا ہم لوگوں نے کھانا کھانے کے بعد دستر خواں کو لے کر ایک ڈھیر پر جھاڑ دیا تاکہ روٹی کے بچے ٹکڑوں اور ہڈیوں کو جانور کھا جائیں ۔تھوڑی دیر کے بعد جب میں اپنے کمرے سے باہر نکلا تو یہ دیکھ کر حیران رہ گیا کہ ایک خوبصورت نو سال کا بچہ ان ٹکڑوں کو چن

چن کر کھا رہا ہے مجھے سخت افسوس ہوا ۔۔۔بچے کو ساتھ لے کر قیام گاہ میں آیا اور اسے پیٹ بھر کر کھانا کھلایا کیونکہ میں ایسی ہستی کے شہر میں تھا جو غریبوں کا والی اور غلاموں کا مولیٰ تھا۔۔۔۔میرے اس برتاؤ کو دیکھ کر بچہ بے حد متاثر ہوا میں نے چلتے وقت اس سے کہا کہ بیٹا تمہارے والد کیا کرتے ہیں۔اس نے کہا میں یتیم ہوں ۔۔میں نے کہا بیٹے میرے ساتھ ہندوستان چلو گے؟وہاں میں تم کو اچھے اچھے کھانے کھلاؤں گا۔۔عمدہ عمدہ کپڑے پہناؤں گا۔۔۔اپنے مدرسے میں تعلیم دوں گا۔۔۔جب تم عالم فاضل ہوجاؤ گے تو میں خود تم کو یہاں کر لے آؤں گااور تمیں تمہاری والدہ کے سپرد کر دوں گا۔۔۔تم جاؤ اپنی والدہ سے اجازت لے کر آؤ۔۔۔لڑکا بہت خوش ہوا اور اچھلتا کودتا اپنی والدہ کے پاس گیا ۔۔۔وہ بیچاری بیوہ دوسرے بچوں کے اخراجات سے پہلے

ہی پریشان تھی ۔اس نے فوراً اجازت دیدی۔بچہ فوراً آیا اور مولانا کو بتایا کہ میں آپ کے ساتھ جاؤں گا۔۔۔میری ماں نے اجازت دے دی پھر پوچھنے لگا کہ آپ کے شہر میں چنے ملتے ہیں ؟مولانا عثمانی نے بتایا یہ ساری چیزیں وافر مقدار میں تمہیں ملیں گی۔۔۔مولانا کا بیان ہے کہ میری انگلی پکڑے پکڑے مسجد نبوی میں وہ میرے ساتھ آیا اور ٹھٹک کر رہ گیا۔۔۔۔سرکار دو عالم کے روضہ مبارک کو دیکھا اور مسجد کے دروازے کو۔۔۔اور پوچھا کیا کہ بابا یہ دروازہ اور روضہ بھی وہاں ملے گا؟میں نے اس سے کہا کہ بیٹا اگر یہ وہاں مل جاتا تو میں یہاں کیوں آتا۔۔۔لڑکے

کے چہرے کا رنگ بدل گیا۔۔۔میری انگلی چھوڑ دی بابا تم جاؤ۔۔۔اگر یہ نہیں ملے گا تو میں ہرگز ہرگز اس دروازے کو چھوڑ کر نہیں جاؤں گا۔۔۔بھوکا رہوں گا۔۔۔پیاسا رہوں گا۔۔اس دروازے کو دیکھ کر اپنی پیاس بجھاتا رہوں گا۔۔۔جس طرح آج تک بجھاتا رہا ہوں۔۔۔یہ کہہ کر بچہ رونے لگا اور اس کے عشق کے دیکھ کر میں بھی رونے لگ گیا۔




 سب سے زیادہ پڑھی جانے والی مقبول خبریں


آج کا مکمل اخبار پڑھیں

تازہ ترین خبریں




     
     
تمام اشاعت کے جملہ حقوق بحق ادارہ روزنامہ اوصاف محفوظ ہیں۔
Copyright © 2016 Daily Ausaf. All Rights Reserved