تازہ ترین  
منگل‬‮   16   اکتوبر‬‮   2018

ہندو دھرم کی عورت کے مرنے پر اسے آگ میں جلایا جا رہا تھا کہ اچانک اس کے جسم میں لرزہ خیز تبدیلی آئی اور پھر۔۔۔!


ممبئی (مانیٹرنگ ڈیسک) ہندو دھرم کی عورت کے مرنے پر اسے آگ میں جلایا جا رہا تھا کہ اچانک اس کے جسم میں لرزہ خیز تبدیلی آئی اور پھر۔۔۔! ایسا واقعہ پیش آگیا جس نے سب کر لرزا کر رکھ دیا ۔ بھارت میں 24 سالہ رچنا سیسودیا ڈاکٹروں کی غلچ تشخیص کی بھینٹ چڑھ گئی۔ شادی شدہ خاتون کئی دنوں سے پھیپڑوں کے مرض میں مبتلا تھیں اور اسی لیے ان کا اسپتال میں علاج جاری تھا۔ تاہم چند روز قبل ڈاکٹروں نے رچنا کو مردہ قرار دے دیا جس کے بعد اس کے عزیز و اقارب نے اسے شمشان گھاٹ پہنچا کر نظر آتش کردیا۔ تفصیلات کے مطابق اسپتال کی انتظامیہ نے خاتون کے شوہر دویش چوہدری کو علی الصبح اہلیہ کے انتقال کی خبر سنائی۔ جس کے بعد شوہر نے خاتون کا جسد خاکی دوپہر میں اسپتال سے وصول کیا اور چند رشتہ داروں کے ہمراہ شمشان گھاٹ کا رخ کیا۔ رات کے وقت جب انہوں نے خاتون کو نظر آتش کیا تو ان کے ایک رشتہ دار نے جسم میں حرکت محسوس کرتے ہوئے شور مچادیا۔ اس وقت تک خاتون کو آگ نے پوری طرح لپیٹ میں لے لیا اور انہیں بچانا ممکن نہیں رہا۔بعد ازاں پوسٹ مارٹم رپورٹ سے پتہ چلا کہ خاتون کے پیھپڑوں میں چند ایسے ذرات پائے گئے ہیں جو آگ لگ جانے کی صورت میں سانس کے ذریعے انسان کے جسم میں داخل ہوجاتے ہیں۔ ڈاکٹروں کا کہنا ہے کہ اگر وہ خاتون سانس نہ لے رہی ہوتیں تو یہ ذرات ان کے پھیپڑوں تک نہیں پہنچ پاتے۔

اس سے نتیجہ یہ نکلا یہ خاتون کی ہلاکت پھیپڑوں میں انفکشن کے باعث نہیں ہوئی بلکہ زندہ نظر آتش کرنے کے موقع پر ہوئی۔ اس معاملے نے ایک عجیب موڑ اس وقت لیا کہ جب خاتون کے ایک رشتہ دار کیلاش سنگھ نے شوہر اور اس کے دیگر رشتہ داروں پر غیر معمولی جلد بازی کا مظاہرہ کرنے اور جان بوجھ کر زندہ جلائے جانے کا الزام عائد کردیا ہے۔ پولیس کا کہنا ہے کہ وہ اس معاملے کی تحقیقات کر رہی ہے اور ممکن ہے کہ یہ واقعہ اسپتال کے ڈاکٹر اور رشتہ داروں کی ملی بھگت کا نتیجہ ہو۔ اسپتال انتظامیہ اب بھی اپنے موقف پر قائم ہے کہ خاتون کی ہلاکت پھیپڑوں میں انفکشن کے باعث ہوئی۔




 سب سے زیادہ پڑھی جانے والی مقبول خبریں


آج کا مکمل اخبار پڑھیں

تازہ ترین خبریں

کالم /بلاگ


     
     
تمام اشاعت کے جملہ حقوق بحق ادارہ روزنامہ اوصاف محفوظ ہیں۔
Copyright © 2016 Daily Ausaf. All Rights Reserved