تازہ ترین  
جمعہ‬‮   16   ‬‮نومبر‬‮   2018

چین کی متعدد فرنیچر کمپنیوں اور سرمایہ کاروں نے انٹیریئرز پاکستان2018 میں دلچسپی ظاہر کی ہے : میاں کاشف اشفاق


لاہور(مانیٹرنگ ڈیسک) چین کی متعدد فرنیچر کمپنیوں اور سرمایہ کاروں نے14 دسمبر سے ایکسپو سینٹر لاہور میں شروع ہونے والی دسویں 3 روزہ میگا نمائش انٹیریئرز پاکستان 2018 میں دلچسپی ظاہر کی ہے ۔یہ بات شنگھائی میں پاکستان فرنیچر کونسل کے چیف ایگزیکٹو میاں کاشف اشفاق نے اپنے ایک بیان میں بتائی۔انہوں نے کہا کہ چین اور پاکستان کے درمیان فرنیچر کی باہمی تجارت کومزید فروغ دینے کی وسیع گنجائش موجود ہے اور دونوں ممالک کے نجی شعبے اس سیکٹر میں مشترکہ سرمایہ کاری کے منصوبوں پر کام کر سکتے ہیں جو ابھی تک پس منظر میں رہا ہے۔

انہوں نے کہا کہ وزیراعظم عمران خان کے ہمراہ پی ایف سی کے وفد کا دورہ چین بہت کامیاب رہا ہے اور اس کے دوررس اثرات مرتب ہونگے کیونکہ دونوں اطراف نے نہ صرف ایک دوسرے کے ملک بلکہ دیگر ممالک میں بھی مشترکہ میگا فرنیچر نمائشیں منعقد کرنے پر اتفاق کیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ چینی فرنیچر سازوں اور سرمایہ کاروں نے خطاطی والے پاکستانی فرنیچر میں گہری دلچسپی ظاہر کی اور اس حقیقت کو تسلیم کیا کہ پاکستانی فرنیچر پراڈکٹس کی عالمی مارکیٹوں میں بہت مانگ ہے، انہوں نے تجارتی مواقع کا جائزہ لینے کیلئے پاکستانی فرنیچر سازوں کو چین کے دورہ کی دعوت بھی دی۔ میاں کاشف اشفاق نے کہا کہ سی پیک کے تحت متعدد چینی سرمایہ کار پاکستان میں صنعتی یونٹس قائم کر رہے ہیں، اس سے مقامی افراد کو روزگار کے مواقع میسر آئیں گے اور بے روزگاری و غربت کے خاتمے میں مدد ملے گی۔ انہوں نے مزید کہا کہ دونوں ہمسایہ ممالک کی مجموعی آبادی ڈیڑھ ارب سے زیادہ ہونے کے باوجود باہمی تجارت کا حجم انتہائی کم ہے جسے فروغ دینے کی اشد ضرورت ہے اور چین پاکستانی فرنیچر کی بڑی مارکیٹ ثابت ہوسکتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان کی سالانہ فرنیچر ایکسپورٹ 8 سے 12ملین ڈالر ہے لیکن یہ اعداد و شمار انڈسٹری کی حقیقی صلاحیت اور اعلی معیاری فرنیچر سے مماثلت نہیں رکھتے اس لئے ضروری ہے کہ ہمارے برآمد کار بین الاقوامی ٹریڈ شوز اور فرنیچر نمائشوں میں فعال طور پر حصہ لیں۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان چینی کمپنیوں کو آسان رسائی فراہم کر رہا ہے اس کے جواب میں چین کو بھی پاکستانی کمپنیوں کو بھی مساوی سہولیات فراہم کرنا چاہیے جبکہ چین کو پاکستان میں صنعتی یونٹ قائم اور ٹیکنالوجی ٹرانسفر پر توجہ دینی چاہئے۔




 سب سے زیادہ پڑھی جانے والی مقبول خبریں


آج کا مکمل اخبار پڑھیں

تازہ ترین خبریں


کالم /بلاگ


     
     
تمام اشاعت کے جملہ حقوق بحق ادارہ روزنامہ اوصاف محفوظ ہیں۔
Copyright © 2016 Daily Ausaf. All Rights Reserved