پیٹرول پمپ پر صارفین کو کیسے گمراہ کیا جاتا ہے ؟اہم حقائق سامنے آگئے
  10  ‬‮نومبر‬‮  2017     |      کاروبار

ہمارے یہاں پیٹرول اسٹیشن پر دھوکا دہی کے واقعات کوئی نئی بات نہیں ہے۔ گزشتہ چند سالوں سے انٹرنیٹ پر اس ضمن میں بے تحاشہ واقعات سامنے آرہے ہیں۔ انہیں دیکھتے ہوئے سوال کیا جاسکتا ہے کہ ملک میں صارفین کے حقوق سے تعلق قانون محض دکھاوا ہیں یا کہیں ان پر عملدرآمد ہو بھی رہا ہے؟ یہاں سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ نت نئی ٹیکنالوجی اور سیکورٹی کیمروں کی موجودگی کے باوجود پیٹرول پمپ پر عوام کو کس طرح لوٹا جاتا ہے؟ اس کا جواب آپ کو اس مضمون میں مل جائے گا۔ آج ہم آپ کو یہی بتانے جارہے ہیں کہ پیٹرول پمپ پر عوام کو کن کن طریقوں سے لوٹا جاتا ہے۔ صارف کی توجہ ہٹانا آپ پیٹرول پمپ پر جاتے ہیں اور وہاں کھڑے شخص سے ایک مخصوص رقم کے عوض پیٹرول ڈالنے کا مطالبہ کرتے جس کے بعد وہ شخص میٹر پر زیرو لاتا اور مذکورہ رقم درج کرکے پیٹرول ڈالنا شروع کرتا ہے۔ آپ کی نظر بھی میٹر پر ہی ہوتی ہے لیکن اتنے میں ایک آواز آتی ہے ‘وائیپر لگا دوں سر’ بس یہ آواز آنے کی دیر تھی اور آپ کا کباڑا ہونا تھا۔ آپ کا دھیان جیسے ہی منتقل ہوتا ہے وہ شخص آپ کا کباڑا کردیتا یعنی ڈنڈی مار چکا ہوتا ہے۔ اسی لئے جب پیٹرول ڈلوارہے ہوں تو اپنی توجہ بٹنے نہ دیں بلکہ پہلے پیٹرول مکمل بھر جانے دیں اور پھر کسی بات کی طرف توجہ دیں۔ چُلّو بھر پیٹرول بچانے کا طریقہ ایک زمانہ تھا جب پیٹرول گاڑی میں منتقل کرنے کے لئے ایک شخص کا پائپ کو دبا کر پکڑنا ضروری ہوتا تھا۔ اس طرح کے نظام میں صارفین کی اکثر شکایات سامنے آتی رہتی تھیں۔ پھر جدّت کا دور آیا اور آٹو میٹک نوزل کا زمانہ آیا۔ لیکن کیا کریں صاحب چور چوری تو چھوڑ سکتا ہے لیکن فراڈ کرنا نہیں، اس آٹومیٹک نوزل میں بھی چُلّو بھر پیٹرول بچانے کی جگاڑ ڈھونڈ لی گئی۔ ہوتا وہی ہے آپ ایک مخصوص رقم کے عوض پیٹرول ڈالنے کا مطالبہ کرتے ہیں جس کے بعد پیٹرول پمپ کا امپلائی میٹر پر صفر لاکر نوزل کو گاڑی میں داخل کرکے پیٹرول بھرنا شروع کرتا ہے۔ اس بار آپ کو کوئی نہ پریشان کرے گا نہ دھیان بٹانے کی کوشش کرے گا بلکہ پیٹرول ڈالتے وقت جیسے ہی رقم پوری ہونے کا آپشن آئے گا وہ نوزل کو بند کردے گا جس سے چُلّو بھر پیٹرول کی ڈنڈی لگ جاتی ہے۔ باتوں میں لگانے کا طریقہ یہ طریقہ صارف کو بیوقوف بنانے کا سب سے پرانا طریقہ آہے اس طریقے میں صارف کو باتوں میں لگا کر ڈنڈی ماری جاتی ہے۔ ہوتا یہ ہے کہ جب آپ پیٹرول پمپ پر جاکر مخصوص رقم کے عوض پیٹرول ڈالنے کا مطالبہ کرتے ہیں تو وہ پیٹرول پمپ امپلائی آپ کو سلام کرکے، سیاسی ہلچل کے بارے میں بات کرکے یا کسی اور طریقے سے آپ کی توجہ ہٹاتا ہے۔ اس طرح وہ اپنی ہنر کا مظاہرہ کرکے صارف کو باتوں میں لگا کر بنا میٹر پر صفر کا ہندسہ دکھائے پیٹرول ڈالنا شروع کردیتا ہے۔ صارف بھی باتوں میں مگن ہوکر پیٹرول بھرواتا اور رقم کی ادائیگی چل دیتا ہے۔ پھر کہیں آگے جاکر اس کا پیٹرول ختم ہوجاتا ہے پھر صارف کو احساس ہوتا ہے اس شخص کا خوش اخلاقی سے سلام کرنا اور باتوں میں لگانا بلاوجہ نہیں تھا بلکہ دھوکا دینا تھا۔ گمراہ کرنے کا طریقہ آپ ایک پیٹرول اسٹیشن پر جاتے ہیں اور وہاں موجود فرد سے 1000 روپے کا پیٹرول بھرنے کی درخواست کرتے ہیں۔ خدمت گار مشین کے میٹر کو ‘صفر’ پر لاتا ہے اور آپ سے تصدیق کرلینے کی درخواست کرتا ہے۔ آپ میٹر کی طرف دیکھ کر یقین دہانی کرتے ہیں اور پیٹرول بھرنے کا اشارہ کردیتے ہیں۔ آپ کی آنکھیں مسلسل میٹر پر لگی رہتی ہیں۔ ایسے میں اچانک میٹر 200 پر آکر رک جاتا ہے اور آپ حیران رہ جاتے ہیں۔ آپ پیٹرول بھرنے والے فرد کو بتاتے ہیں کہ بھائی 1000 روپے کا پیٹرول ڈالنا ہے لیکن آپ نے صرف 200 کا ڈال دیا اور وہ جواباً اپنی عدم توجہی پر معذرت کرتے ہوئے پیٹرول دوبارہ بھرنے لگتا ہے۔ آپ ایک بار پھر حیران رہ جاتے ہیں کہ میٹر 800 پر آکر رک جاتا ہے۔ پھر وہ شخص آپ کو بتاتا ہے کہ پہلے اس نے 200 روپے کا پیٹرول ڈالا پھر دوبارہ میٹر کو ‘صفر’ کرنے کے بعد 800 روپے کا پیٹرول ڈال دیا۔ لیکن کیا آپ نے دوسری مرتبہ آپ نے اسے مشین کو ‘صفر’ پر کرتے ہوئے دیکھا تھا؟ آپ کا جواب ہوگا نہیں۔۔۔ اور یہی وہ موقع ہے کہ جب آپ کے ساتھ فراڈ ہوگیا۔

:دھوکا دہی سے بچنے کا طریقہ :یہاں آپ کو اس فراڈ اور دھوکا دہی سے بچنے کے طریقے بتائے جارہے ہیں جو ذیل میں درج ہیں پیٹرول بھروانے سے قبل میٹر کے ‘صفر’ پر ہونے کی تصدیق کرلیں۔پیٹرول بھرنے والے شخص کو میٹر سے دور ہونے کی درخواست کریں تاکہ آپ میٹر پر نظر رکھ سکیں۔بہتر ہوگا کہ پیٹرول بھرواتے ہوئے گاڑی سے باہر آجائیں اور پیٹرول بھرنے والے فرد کے قریب ہی رہیں۔وہاں موجود دیگر افراد کی جانب سے توجہ بٹانے کی کوشش کو نظر انداز کریں اور اپنی آنکھیں ہمہ وقت میٹر پر رکھنے کی کوشش کریں۔چاہے جتنی بھی جلدی ہو پیٹرول بھرے جانے سے قبل پیسے ادا نہ کریں۔میٹر پر ‘صفر’ اس وقت تک رہنا چاہیے کہ جب تک نوزل گاڑی میں داخل نہ ہوجائے۔اگر گاڑی سے باہر آنا ممکن نہیں تو کوشش کریں کہ ایندھن بھرواتے ہوئے آپ کی نظریں میٹر پر رہیں اور پیٹرول بھرنے والے فرد کو ہاتھ کی صفائی دکھانے کا موقع نہ دیں۔اگر مطلوبہ تعداد میں پیٹرول بھروانے سے پہلے ہی میٹر رک جائے تو بھی اپنی توجہ میٹر پر رکھیں اور ایندھن بھرنے والے فرد کی باتوں میں آکر بھٹکنے سے بچیں۔رقم کے بجائے مقدار (لیٹر) کے حساب سے پیٹرول بھروائیں۔اگر آپ کے ساتھ بھی پیٹرول پمپ پر کوئی ہیرا پھیری کا واقعہ پیش آیا ہے تو اسے ہمارے ساتھ ضرور شیئر کریں۔ اس طرح ہم ایک دوسرے کو پیٹرول اسٹیشن پر ہونے والی دھوکا دہی سے ہوشیار رہنے اور ان کے سدباب کی کوشش کرسکیں گے۔


اس خبر کے بارے میں اپنی رائے دیجئے
پسند آئی
100%
ٹھیک ہے
 
کوئی رائے نہیں
 
پسند ںہیں آئی
 


 سب سے زیادہ پڑھی جانے والی مقبول خبریں






  قائد اعظم محمد علی جناح  
  اسکندر مرزا  
  لیاقت علی خان  
  ایوب خان  
آج کا مکمل اخبار پڑھیں

کار ٹونز

کاروبار

کالم /بلاگ


     
     
تمام اشاعت کے جملہ حقوق بحق ادارہ روزنامہ اوصاف محفوظ ہیں۔
Copyright © 2016 Daily Ausaf. All Rights Reserved