جب بجلی فراہم ہی نہیں کی جاتی تو مہنگی کرنے کا کیا جواز ہے، سلیم مانڈوی والا
  12  ‬‮نومبر‬‮  2017     |      کاروبار

اسلام آبا د( ویب ڈیسک ) پاکستان پیپلز پارٹی کے رہنماء اور سینیٹ کی قائمہ کمیٹی برائے خزانہ کے چیئرمین سینیٹر سلیم مانڈوی والا نے بجلی کی قیمتوں میں اضافے کی درخواست کی مذمت کر تے ہوئے کہا ہے کہ جب بجلی فراہم ہی نہیں کی جاتی تو مہنگی کرنے کا کیا جواز ہے،مسلم لیگ نون کی حکومت عوام کا معاشی قتل کر رہی ہے، ،موجود حکومت نے نا اہلی کے تمام ریکارڈ توڑ دیے ہیں، بجلی کی قیمت میں 15 روپے فی یونٹ تک اضافہ کیا جا چکا ہے ، بجلی اور گیس کی قیمتوں میں اضافے کی وجہ سے برآمدات میں مسلسل کمی ہورہی ہے، بجلی کی قیمتوں میں اضافے کے خلاف توجہ دلاو نوٹس جمع کرایا جائے گا،تفصیلات کے مطابق پیپلزپارٹی کے سینیٹر سلیم مانڈوی والا نے بجلی کی قیمتوں میں اضافے کی درخواست کی مذمت کر دی ہے

اپنے ایک بیان میں سلیم مانڈوی والا نے کہا کہ بجلی کی تقسیم کار کمپنیاں عوام کا خون نچوڑ رہی ہیں،مسلم لیگ نون کی حکومت عوام کا معاشی قتل کر رہی ہے،میپکو نے نیپرا میں بجلی کی قیمت پانچ روپے بڑھانے کی درخواست دی ہے، ملتان ڈویژ ن میں لوڈ شیڈنگ نے عوام کی زندگی اجیرن کر رکھی ہے انہوں نے کہاکہ جنوبی پنجاب میں 16گھنٹے کی لوڈ شیڈنگ کی جاتی ہے، جب بجلی فراہم ہی نہیں کی جاتی تو مہنگی کرنے کا کیا جواز ہے ،مسلم لیگ نون کے دور میں بجلی کی قیمت میں 15 روپے فی یونٹ تک اضافہ کیا جا چکا ہے ،عام آدمی کے لیے بجلی کا ایک یونٹ 22 روپے تک کردیا گیا ہے ،موجود حکومت نے نا اہلی کے تمام ریکارڈ توڑ دیے ہیں. سرکلر ڈیبٹ 500 ارب روپے سے تجاوز کر گیا ہے ،بجلی کے لائن لاسز کو کم نہیں کیا گیا ، صنعتی صارفین کے لیے بجلی اور گیس انتہائی مہنگی کر دی گئی ہیں ، بجلی اور گیس کی قیمتوں میں اضافے کی وجہ سے برآمدات میں مسلسل کمی ہورہی ہے، بجلی کی قیمتوں میں اضافے کے خلاف توجہ دلاو نوٹس جمع کرایا جائے گا


اس خبر کے بارے میں اپنی رائے دیجئے
پسند آئی
 
ٹھیک ہے
 
کوئی رائے نہیں
 
پسند ںہیں آئی
 


 سب سے زیادہ پڑھی جانے والی مقبول خبریں






  قائد اعظم محمد علی جناح  
  اسکندر مرزا  
  لیاقت علی خان  
  ایوب خان  
آج کا مکمل اخبار پڑھیں

کار ٹونز

کاروبار

کالم /بلاگ


     
     
تمام اشاعت کے جملہ حقوق بحق ادارہ روزنامہ اوصاف محفوظ ہیں۔
Copyright © 2016 Daily Ausaf. All Rights Reserved