زراعت کے طریقوں کو بہتر بنانے کے لئے ورکشاپ کا انعقاد
  4  دسمبر‬‮  2017     |      کاروبار

اسلام آباد(نیوز ڈیسک)آبپاشی اورزراعت دوایسے شعبے ہیں جوپاکستان کے صوبہ سندھ کی خوشحالی کے لئے مل کرکام کررہے ہیں۔ان کاوشوں کومزید بہتربنانے کے لئے اقوام متحدہ کی فوڈ اینڈ ایگری کلچرل آرگنائزیشن (ایف اے او)نے حکومت سندھ کے اشتراک سے کاشتکاری کے طریقوں کوبہتراورجدید بنانے کے حوالے سے ایک ہفتے کے بین الاقوامی ٹریننگ ورکشاپ ’رپیڈ اپریزل پروسیجر(آراے پی) کا اہتمام کیا۔کراچی میں ہوئے ورکشاپ میں ایف اے او کے بنائے گئے طریقے کے پہلے اسٹیپ آراے پی پرتوجہ مرکوزکی گئی۔آراے پی کے تحت آبپاشی کے نظام کی کارکردگی کا آڈٹ اورآبپاشی کوجدید بنانے کے لئے کینال آپریشن تکینک کے

لئے میپنگ سسٹم اینڈ سروسزپرتفصیلی روشنی ڈالی گئی۔ورکشاپ میں وسیع ترآبپاشی نظام کا جائزہ بھی لیا گیا اورپانی کی ترسیل کے نظام کوبہتربنانے کے لئے سفارشات بھی تیارکی گئیں۔سیکریٹری آبپاشی سندھ مصطفی سید نے ورکشاپ کے آخری روز خطاب میں کہا کہ محکمہ زراعت اورآبپاشی کے ساتھ کام کرنا خوش آئند ہے۔محکمہ زراعت اور آبپاشی ملکر کر کام کریں گے تو زراعت کے شعبے کے متعدد مسائل حل ہوجائیں گے۔انہوں نے ورکشاپ کے شرکاکوجن میں افغانستان سے تعلق رکھنے والے افرادبھی شامل تھے مبارکباد پیش کی۔ ورکشاپ کے انعقاد کے لئے ایف اے او،ورلڈ بینک اور فیلڈوزٹ کے لئے کھپرو کینال سسٹم کے اسٹاف کی کوششوں کوبھی سراہا۔ایک ہفتے تک جاری رہنے والے ورکشاپ میں واٹرسروس ڈیلیوری کے مسائل اور کینال سسٹم کی پرفارمنس کاجائزہ لیا گیا اورورلڈ بینک کے تعاون سے چلنے والے سندھ واٹرسیکٹرامپروومنٹ پروجیکٹ(ڈبلیوایس آئی پی)پربھی بات کی گئی۔ورکشاپ کے لئے ڈبلیوایس آئی پی کے تحت بحال کی گئی ناراکینال ایریا واٹر بورڈ(این سی اے ڈبلیوبی)کاانتخاب کیا گیا ۔ٹریننگ کا آغازکراچی کے میریٹ ہوٹل میں کلاس روم سیشن سے ہواجس کے بعد شرکا نے کھپرو کینال کا فیلڈ وزٹ کیا ۔دوروزہ فیلڈ وزٹ کا بندوبست نارا کینال ایریا واٹربورڈ کے ایگزیکٹو انجینئر اشفاق نوح میمن اوران کی ٹیم نے کیا تھا۔کراچی واپسی پرشرکانے اپنی سفارشات اورفائنڈنگزسیکریٹری آبپاشی کوپیش کیں۔نظام کوفزیکل اور انسٹی ٹیویشنل طورپر بہتر بنانے کے لئے تیارکی گئی سفارشات میں نہری نظام کی پانی کے استعمال اور واٹراکاؤنٹنگ کی نگرانی،ریموٹ سینسنگ کے ذریعے قابل کاشت رقبے کی حقیقی جانچ پڑتال، اچھی کارکردگی دکھانے والے محکمہ آبپاشی کے ملازمین اورآپریٹرزکے لئے مراعات،میکینکل اورسول اسٹرکچرزمثلا دروازے،آف ٹیکس گیج،موڈی یولmodulesکی فوری مرمت،ڈائرکٹ آؤٹ لیٹس پرپانی کوناپنے کے آلات اوردروازوں کی تنصیب،کینال ٹیل میں مرکزی نہرکے ساتھ ایمرجنسی صورتحال میں رساؤ اوراسپل ایج کوروکنے کے لئے اسکیپ چینلز بنانا،پانی اورمالی معاملات کی مینجمنٹ کے لئے کمپیوٹرکا استعمال،بہترمنصوبہ بندی اور بجٹ کی ضروریات کا تخمینہ لگاناشامل تھے۔ایف اے او کی لینڈ اینڈ واٹر ریسورس آفیسر کی ریسورس پرسن اورلیڈ ٹریننگ ڈاکٹر روبینہ وہاج کا کہنا تھا کہ ٹریننگ سے جن شعبوں میں بہتری کی ضرورت ہے نہ صرف ان کا پتا چلا بلکہ آراے پی سسٹم کے طریقہ کارکے تحت پاکستان میں موجوددیگرنہری نظام اورکھپرو کینال سسٹم کے درمیان پایا جانے والا فرق بھی سامنے آیا۔سندھ واٹرسیکڑاامپروومنٹ پروجیکٹ کے لئے ورلڈ بینک کی ٹاسک ٹیم کے لیڈرتورو کونی شی نے کہا کہ واٹرمینجمنٹ سیکڑبحران کا شکارہے۔واٹرسیکورٹی کے حوالے سے پانی کومحفوظ کرنے اورپانی کی تقسیم کے لئے مواقعوں کا جاننا ضروری ہے۔سندھ واٹرسیکڑ امپروومنٹ پروجیکٹ کے کوآرڈینیٹر ڈاکٹر فتح مری نے مزید ایسے ورکشاپ کرانے کا اراد ہ ظاہرکرتے ہوئے کہا کہ یہ بہت فائدے مند تھا ۔ہمیں اچھا فیڈ بیک ملا۔ایف اے او کی پاکستان میں نمائندہMina Dowlatchahiنے اپنے خطاب میں کہا کہ یہ ورکشاپ ایسے وقت میں منعقدکی گئی گیا ہے جب ڈبلیوایس آئی پی کا پروجیکٹ اختتام کے قریب ہے اورورلڈ بینک کے مالی تعاون سے دوسرے پروجیکٹ کی تیاری جاری ہے۔قدرتی وسائل میں کمی کوروکنے کے لئے واٹرمینجمنٹ اورزراعت میں تبدیلیوں کی ضرورت ہے کیونکہ ان پر کسانوں کی معاشی زندگی کا دارومدارہے اورپاکستان کی معیشت کے لئے بھی یہ ضروری ہے۔افغانستان سے ورکشاپ میں شرکت کے لئے آنے والے شرکا نے ٹریننگ کومفید قراردیتے ہوئے کہا کہ وہ اپنے وطن جاکریہاں سے سیکھی معلومات کواستعمال کریں گے۔ نومبر 20 سے27نومبرتک جاری رہنے والے ورکشاپ میں پاکستان اورافغانستان کے 24شرکا نے حصہ لیا


اس خبر کے بارے میں اپنی رائے دیجئے
پسند آئی
 
ٹھیک ہے
 
کوئی رائے نہیں
 
پسند ںہیں آئی
 


 سب سے زیادہ پڑھی جانے والی مقبول خبریں





  اوصاف سپیشل

آج کا مکمل اخبار پڑھیں

  قائد اعظم محمد علی جناح  
  اسکندر مرزا  
  لیاقت علی خان  
  ایوب خان  
آج کا مکمل اخبار پڑھیں

کار ٹونز

کاروبار

کالم /بلاگ


     
     
تمام اشاعت کے جملہ حقوق بحق ادارہ روزنامہ اوصاف محفوظ ہیں۔
Copyright © 2016 Daily Ausaf. All Rights Reserved