برآمدات میں اضافے کے لیے لائیواسٹاک اورزرعی اجناس کے شعبوں پر توجہ:وفاقی سیکریٹری تجارت
  6  جنوری‬‮  2018     |      کاروبار

کراچی(نیوز ڈیسک )ملک میں پہلی بار 5 سالہ تجارتی پالیسی مرتب کی جا رہی ہے جس میں برآمدات میں سالانہ 10 فیصد نمو کا ہدف مقرر کرنے کی تجویز ہے جب کہ اس سے قبل 3 سالہ مدت کی پالیسی مرتب کی جاتی تھی۔وفاقی سیکریٹری تجارت یونس ڈھاگا نے گزشتہ روز اسٹریٹجک پالیسی فریم ورک کنسلٹیٹیو سیشن جو وزارت تجارت وٹیکسٹائل اور یو ایس ایڈ کے تعاون سے منعقد کی گئی تھی سے خطاب اور میڈیا سے بات چیت کے دوران کہا کہ ملک میں پہلی بار 5 سالہ تجارتی پالیسی مرتب کی جا رہی ہے جس میں برآمدات میں سالانہ 10 فیصد نمو کا ہدف مقرر کرنے کی تجویز ہے جب کہ اس سے قبل 3 سالہ مدت کی پالیسی مرتب کی جاتی تھی۔یونس ڈھاگا نے کہا کہ اس نوعیت کے سیشنز آئندہ 3 ہفتوں میں ملک کے دیگر شہروں میں بھی منعقد کیے جائیں گے، ان سیشنز کا مقصد قابل عمل تجاویز کو پالیسی کا حصہ بنانا ہے، تجارت کے فروغ کے لیے اسٹیک ہولڈرز سے مشاورت جاری ہے، ملک میں توانائی کی صورتحال بہتر ہونے سے برآمدات بتدریج بڑھ رہی ہیں اور گزشتہ7 ماہ میں اوسطاً ماہانہ 12 فیصد کی شرح سے برآمدات بڑھی ہیں۔

وفاقی سیکریٹری تجارت نے بتایا کہ برآمدات میں اضافے کے لیے لائیواسٹاک اورزرعی اجناس کے شعبوں پر توجہ مرکوز ہے جبکہ پولٹری کی صنعت برآمدات میں اہم کردار اداکرسکتی ہے جس کی برآمدات بڑھانے کے لیے مراعاتی پیکیج متعارف کرایا جائے گا، برآمدات میں اضافے کے لیے مشینری اور خام مال کی درآمد ضروری ہے، رواں مالی سال 23 ارب ڈالر کی برآمدات کا تخمینہ لگایا گیا ہے۔ایک سوال کے جواب میں یونس ڈھاگا نے بتایاکہ وزیراعظم پیکیج سے ایکسپورٹرز کے لیے استفادہ کی شرح بڑھانے کی غرض سے متعلقہ ایسوسی ایشنز کا کردار ختم کیا گیا ہے، ایمرجنگ پاکستان سلوگن کے تحت عالمی سطح پر پاکستانی برانڈز کو پروموٹ کیا جا رہا ہے، رواں سال ریفنڈز گزشتہ برسوں کے مقابلے میں زیادہ مالیت کے دیے گئے ہیں اور آئندہ 3 ماہ میں برآمدکنندگان کے تمام زیرالتوا ریفنڈز ادا کر دیے جائیں گے۔ انہوں نے کہاکہ پاکستان کا عالمی تجارت میں حصہ بڑھانے کے لیے امیج کو مستقل بنیادوں پر بہتر بنانا ہوگا، 5 سالہ تجارتی پالیسی کا پہلا مسودہ مارچ 2018 میں آ جائے گا، تجارتی پالیسی کے پہلے ڈرافٹ پربھی اسٹیک ہولڈرز سے مشاورت کیا جائے گا۔یونس ڈھاگا نے کہا کہ ایران کے ساتھ تجارت کی راہ میں عالمی پابندیاں اور بینکاری مسائل ہیں، توانائی اور برآمدات میں بہتری کے لیے پاکستان میں صنعتی مشینری کی درآمدات بڑھانی ہو گی، اگر ایکسپورٹ پر توجہ نہ دی گئی تو ادائیگیوں کے توازن کے مسائل پیدا ہوں گے، اسٹریٹجک ٹریڈ پالیسی فریم ورک ورکشاپ تاجربرادری کی تجارتی پالیسی میں عدم مشاورت کی شکایات دور کرنے کیلیے منعقد کی گئی ہے، تجارتی پالیسی سال2018 سے 2023 تک کیلیے مرتب کی جارہی ہے۔وفاقی سیکریٹری تجارت نے کہا کہ پاکستان میں وزارت تجارت کے تحت پہلی فارن بائیکرز کانفرنس فروری میں منعقد کی جارہی ہے، وزارت تجارت کی جانب سے جنوبی امریکا اور افریقی ممالک کے ساتھ پی ٹی اے/ایف ٹی اے پرکام شروع کردیا گیا ہے، تجارتی پالیسی مرتب کرنے سے قبل رابطوں کے باوجود اسٹیک ہولڈرز کی جانب سے تعاون نہیں مل رہا، نئی مجوزہ تجارتی پالیسی میں ایس ایم ایز اور ویمن انٹرپرینیورز کا فروغ ترجیحات میں ہو گا۔یونس ڈھاگا جاری تجارتی پالیسی میں2018 تک برآمدات کو35 ارب ڈالر تک بڑھانا تھا جس میں ناکامی ہوئی جس کی وجوہ جانچنے کی ضرورت ہے۔ انہوں نے بتایا کہ سینٹرل ورکنگ ڈیولپمنٹ کمیٹی نے کراچی کے ساتوں صنعتی زونز کیلیے کمبائنڈ ایفیولینٹ ٹریٹمنٹ پلانٹس کیلیے 13 ارب روپے کی منظوری دے دی ہے اور اس منصوبے پر وفاق اور سندھ حکومت باہمی اشتراک سے کام کریں گے۔


اس خبر کے بارے میں اپنی رائے دیجئے
پسند آئی
 
ٹھیک ہے
 
کوئی رائے نہیں
 
پسند ںہیں آئی
 


 سب سے زیادہ پڑھی جانے والی مقبول خبریں

  اوصاف سپیشل

آج کا مکمل اخبار پڑھیں

آج کا مکمل اخبار پڑھیں

کاروبار

کالم /بلاگ


     
     
تمام اشاعت کے جملہ حقوق بحق ادارہ روزنامہ اوصاف محفوظ ہیں۔
Copyright © 2016 Daily Ausaf. All Rights Reserved