امریکا، یورپ، ایشیا میں اسٹاک مارکیٹس کریش کر گئیں
  7  فروری‬‮  2018     |      کاروبار

امریکا (نیو زڈیسک )امریکا میں اسٹاک مارکیٹس دن کے بدترین آغاز کے بعد آہستہ آہستہ دوبارہ بحال ہونا شروع ہوگئیں جبکہ یورپ میں اسٹاک مارکیٹس کریش ہونے کے بعد دنیا کے مختلف ملکوں میں بھی شدید مندی دیکھی گئی اور مجموعی طور پر 4کھرب ڈالرز کا نقصان ریکارڈ کیا گیا۔امریکا میں ڈائو جونز دن کے آغاز پر ہی انڈیکس 500پوائنٹس نیچے گرگیا جس سے کئی سرمایہ کاروں کی رقم ڈوب گئی جبکہ ڈائو جونز کا کہنا ہے کہ تاریخ میں پہلی مرتبہ اسٹاک مارکیٹ میں اس حد تک پوائنٹس نیچے گرے۔دوسری جانب یورپ میں مختلف اسٹاک مارکیٹس کا انڈیکس5اعشاریہ 3 فیصد تک گر گیا، جس کی وجہ ایشیائی ملکوں میں آنے والی منڈی کو بتایا جا رہا ہے۔گارجین کے مطابق، جرمنی، فرانس، اٹلی اور اسپین کے اسٹاک مارکیٹس میں پوائنٹس 3 فیصد تک زوال کا شکار ہوئے۔

ایشیا میں سب سے پہلا زوال جاپان مارکیٹ کو نصیب ہوا جہاں نکیئی میں انڈیکس 225پوائنٹس تک گر گیا اور کاروبار کے اختتام تک اس میں7اعشاریہ 4 فیصد کمی رہی۔ہانگ کانگ میں 2015ء کے بعد سے پہلی مرتبہ بدترین کاروباری آغاز دیکھا گیا، جہاں انڈیکس 5فیصد تک کم ہوگیا جبکہ آسٹریلیا میں سڈنی اور سنگاپور مارکیٹس تین تین فیصد تک زوال کا شکار رہیں۔لندن میں بھی ایف ٹی ایس ای 100 انڈیکس 2016ء کے بعد بدترین منڈی کا شکار نظر آیا اور دن شروع ہوتے ہی یہ 7079اعشاریہ 4پوائنٹس تک نیچے گر گیا تاہم دوپہر پونے 3 بجے تک انڈیکس بحال ہوتا نظر آیا۔برطانوی خبر رساں ادارے کا کہنا ہے کہ گزشتہ روز ہونے والا نقصان تاریخی ہے کیونکہ انڈیکس تیزی سے مسلسل منہ کے بل نیچے آ رہا ہے اور ریکارڈ سطح پر پہنچنے کے بعد سرمایہ کاروں کے 4 کھرب ڈالرز ڈوب گئے۔گزشتہ جمعہ کو کاروبار کی شروعات ان خدشات کے تحت ہوئی کہ رواں سال مہنگائی میں اضافہ ہوگا اور امریکا میں مرکزی بینک فیڈرل یو ایس ریزرو قرضوں میں سود کی شرح میں توقعات کے برعکس اضافہ کرنا پڑے گا۔اسٹینڈرڈ اینڈ پوئرز انڈیکس میں بھی 8 پوائنٹس جبکہ نسدق میں 6 پوائنٹس کمی دیکھی گئی، اسی دوران بٹ کوائن کی قیمتوں میں مسلسل زوال نظر آیا جس کی وجہ مختلف بینکوں کی جانب سے اس کرنسی پر پابندی عائد کیا جانا اور بینکوں کی جانب سے صارفین کو کریڈٹ کارڈز کے ذریعے بٹ کوائن کی خریداری کی اجازت نہ دینا بتائی گئی ہے۔ایک بٹ کوائن کی قیمت گزشتہ ہفتے کے دوران 20 ہزار ڈالرز سے کم ہو کر پیر کے روز تک 7500ڈالرز تک پہنچ گئی تھی جو منگل تک مزید کم ہو کر 5922ڈالرز رہ گئی۔برطانوی اخبار کا کہنا ہے کہ اسٹاک مارکیٹس کا زوال اسی طرح جاری رہا تو صورتحال امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کیلئے مشکلات پیدا کر سکتی ہے کیونکہ وہ گزشتہ کئی ماہ سے یہ کہتے آ رہے ہیں کہ ان کے دورِ صدارت کی وجہ سے ہی اسٹاک مارکیٹ میں تیزی ریکارڈ کی جا رہی ہے۔فروری کے ابتدائی 5دنوں کے دوران صرف امریکا میں سرمایہ کاروں کے ایک کھرب ڈالرز ڈوب چکے ہیں، تاہم وائٹ ہائوس نے اس صورتحال پر تبصرہ کرتے ہوئے بتایا ہے کہ طویل المدتی اقتصادی اصول بدستور قائم رہیں گے اور یہ مضبوط ہیں۔


اس خبر کے بارے میں اپنی رائے دیجئے
پسند آئی
 
ٹھیک ہے
 
کوئی رائے نہیں
 
پسند ںہیں آئی
 


 انٹر نیٹ کی دنیا میں سب سے زیادہ پڑھے جانے والے مضا مینں
loading...

 سب سے زیادہ پڑھی جانے والی مقبول خبریں






آج کا مکمل اخبار پڑھیں

کاروبار

کالم /بلاگ


     
     
تمام اشاعت کے جملہ حقوق بحق ادارہ روزنامہ اوصاف محفوظ ہیں۔
Copyright © 2016 Daily Ausaf. All Rights Reserved