کراچی، اسٹیل مل زبوں حالی کا شکار، پیداوار بند
  13  فروری‬‮  2018     |      کاروبار

اسلام آباد(نیوز ڈیسک)ڈھائی سال سےاسٹیل مل کی پیداوار بند، قرضوں کا میٹر پھر بھی ڈاؤن ہے، حکومت چار سال میں تنخواہوں کی ادائیگی کے لئے ساڑھے اٹھارہ ارب روپے قرض دے چکی ہے، ادائیگی کے لئے مل کی زمین فروخت کرنے کی تیاریاں جاری ہیں، پندرہ سو ایکٹر زمین کی قیمت کا معاملہ حل ہوا نہیں اور قبضہ گروپ متحرک ہوگیا۔پاکستان اسٹیل کو گیس سپلائی 31 مہینوں پہلے 45 ارب روپے ادا نہ کرنے پر بند کردی

گئی، اس روز سے مل کی پیداوار بند ہے لیکن مزدوروں کی تنخواہیں تو ادا کرنی ہیں جس کے لئے حکومت 47 مہینوں سے قرض دے رہی ہے جو ساڑھے اٹھارہ ارب روپے تک جاپہنچا ہے، اس ادائیگی کے باوجود ملازمین کی چار مہینوں کی تنخواہیں اب بھی باقی ہیں جو تقریباً 1 ارب 60 کروڑ روپے بنتی ہے۔حکومت کے پاس پاکستان اسٹیل کی بحالی کا منصوبہ نہیں، مل کا نہ بورڈ مکمل ہے اور کوئی اہلیت کا حامل سربراہ، نظریں مل کی زمین پر جمی ہے ساڑھے پندرہ سو ایکڑ جس پر سی پیک کا اسپیشل اکانومک زون بننا ہے، لیکن زمین کو کس قیمت پر فروخت کرنا ہے حکومت اس کا تعین بھی نہیں کرسکی ہے، اب زمینوں پر قبضے ہورہے ہیں، غیر قانونی تعمیرات شروع ہو چکی ہیں ا ور اس کے لئے سریا اور اینٹیں فروخت کرنے کا کاروبار بھی مل کی زمین سے ہی کیا جارہا ہے۔ایک کہنے والے کا کہنا ہے کہ یہ سب کچھ مل کی زمین اونے پونے بیچنے کے لئے ہورہا ہے، ایک قبضہ گروپ کے خلاف ایف آئی آر درج کرائی گئی، آٹھ ملزمان بھی نامزد ہوئے ہیں لیکن دیکھتے ہیں کہ سندھ حکومت مل کی قیمتی زمین پر قبضہ کرنے والوں کے خلاف کیا اقدامات اٹھاتی ہے۔


اس خبر کے بارے میں اپنی رائے دیجئے
پسند آئی
 
ٹھیک ہے
 
کوئی رائے نہیں
 
پسند ںہیں آئی
 


 سب سے زیادہ پڑھی جانے والی مقبول خبریں






آج کا مکمل اخبار پڑھیں

کاروبار

کالم /بلاگ


     
     
تمام اشاعت کے جملہ حقوق بحق ادارہ روزنامہ اوصاف محفوظ ہیں۔
Copyright © 2016 Daily Ausaf. All Rights Reserved