ٹیکس کا خاتمہ، مہمند ایجنسی میں آٹا، چینی اور دیگر اشیاء سستی ہوگئیں
  16  اپریل‬‮  2018     |      کاروبار

اسلام آباد(نیوز ڈیسک) مہمند ایجنسی کی عوام کیلئے ڈیزل، سبزیوں، ملبوسات اور صابن سمیت 38 اشیاء سستی ہوگئیں، پولیٹیکل ایجنٹ نے تمام اشیاء ٹیکس سے مستثنیٰ قرار دے دیں۔دکانداروں کو مہمند ایجنسی میں مال لانے اور لے جانے پر ٹیکس ادا کرنا پڑتا تھا جس کے باعث کھانے پینے کی اشیاء، واشنگ پاؤڈر اور کوئلہ سمیت اشیائے ضروریہ مزید مہنگی ہوجاتی تھیں۔پولیٹیکل ایجنٹ کی جانب سے نئے اعلامیے

کے بعد 20 کلو گرام آٹے کا تھیلہ 20 روپے سستا ہوگیا، چینی کے 50 کلو گرام تھیلے کی قیمت میں بھی 20 روپے کمی کردی گئی ہے۔نجی ٹی وی چینل سے گفتگو کرتے ہوئے پولیٹیکل ایجنٹ واصف سعید کا کہنا ہے کہ مہمند ایجنسی میں 3 سے 4 بڑے بازار لگتے ہیں، سیس ٹیکس واپس لئے جانے کے بعد عوام تک اس کے ثمرات پہنچنے کا جائزہ لینے کیلئے سروے منعقد کئے، جن سے پتہ چلا کہ ٹیکس سے مستثنیٰ قرار دیئے جانے کے بعد لوگوں کو خاطر خواہ ریلیف مل رہا ہے۔واصف سعید نے اپنے ٹویٹر پیغام میں بتایا کہ گھی، گیس سلینڈرز، پھل اور جلانے والی لکڑی بھی ٹیکس سے مستثنیٰ قرار دی گئی اشیاء کی فہرست میں شامل ہے، نقل و حمل کے اخراجات کے باعث یہ اشیاء پشاور اور خیبرپختونخوا کے دیگر شہروں کی نسبت کچھ مہنگی فروخت کی جارہی تھیں، ان ٹیکسوں کا خاتمہ کئی دہائیوں قتل ہوجانا چاہئے تھا۔انہوں نے کہا کہ ٹیکس میں رد و بدل سے متعلق 104 اشیاء کی فہرست پر مشتمل نوٹیفکیشن 10 اپریل کو جاری کیا گیا، یہ فیصلہ روزانہ استعمال کرنے والے متوسط اور نچلے طبقے پر پڑنے والے اثرات کے باعث لیا گیا۔وہ کہتے ہیں کہ مالی نظم و ضبط پر سختی سے عملدرآمد کا فیصلہ پولیٹکل انتظامیہ پر اخراجات کا بوجھ کم کرنے کیلئے کیا گیا۔گزشتہ 21 ماہ کی معلومات کے مطابق ٹیکسز ختم ہونے کے بعد ماہانہ 5 لاکھ روپے تک ریونیو میں کمی کا سامنا کرنا پڑے گا۔پولیٹیکل ایجنٹ واصف سعید نے فاٹا سیکریٹریٹ سے گزارش کی ہے کہ ریونیو متاثر ہونے کے باعث بجٹ میں اضافہ کیا جائے، امید ہے کہدیگر ایجنسیز بھی اس اقدام کی پیروی کریں گی


اس خبر کے بارے میں اپنی رائے دیجئے
پسند آئی
 
ٹھیک ہے
 
کوئی رائے نہیں
 
پسند ںہیں آئی
100%


 انٹر نیٹ کی دنیا میں سب سے زیادہ پڑھے جانے والے مضا مینں
loading...

 سب سے زیادہ پڑھی جانے والی مقبول خبریں






آج کا مکمل اخبار پڑھیں

کاروبار

کالم /بلاگ


     
     
تمام اشاعت کے جملہ حقوق بحق ادارہ روزنامہ اوصاف محفوظ ہیں۔
Copyright © 2016 Daily Ausaf. All Rights Reserved