نگران وزير خزانہ نے خطرے کی گھنٹی بجادی
  12  جولائی  2018     |      کاروبار

اسلام آباد(نیوز ڈیسک)معیشت کا بھٹہ بیٹھنے لگا خود نگران وزیر خزانہ شمشاد اختر کے مطابق مئی تک اندرونی قرضےایک سو پینسٹھ کھرب روپے اور بیرونی قرضوں اور واجابت کا حجم 92 ارب ڈالر سے تجاوز کر چکا ۔تیس جون تک پاکستان کے قرضے جی ڈی پی کی قانونی حد 60فیصد کے بجائے 72 فیصد تک پہنچ گئے، جو رواں مالی سال کے آخر تک 74 فیصد ہو جائیں گے۔شمشاد اختر نے آئی ایم ایف کا در کھٹکھٹانے

کا اشارہ دے کر خطرے کی گھنٹی بھی بجادی، وفاقی وزیرخزانہ نے کہا کہ قرضے تو لینا تو پڑیں گے۔ قرضوں میں اضافہ بتدریج ہوا ہے، اس وقت ہماری جی ڈی پی گروتھ ا ریٹ ہائی ہے اور ہماری انویسٹمنٹ ریٹ ہائی ہے۔ اگر ہمیں قرضوں کی حکمت عملی اختیار کرنی ہے توپورے میکرو فریم ورکو دیکھناہوگا۔ماہرین کہتے ہیں مشکل صورتحال سے نمٹنا ہے تو کشکول اٹھانے کے بجائے سخت اقدامات کے کڑوے گھونٹ پینا ہونگے ۔ماہر معاشیات ڈاکٹر پرویز طاہر کا کہنا ہے کہ بہتر ہے کہ ہم خود پروگرام بنا کر اس پر عمل کرنا چاہیں ۔ کیونکہ آئی ایم ایف کے پروگرام میں شامل ہی نہیں گروتھ کو پروموٹ کرنا۔ اس نے قرضہ کم کرنا ہے اور اپنے قرضے وصول کرنے ہیں، اخراجات کم کرنے پڑتے ہیں جس سے عوام کو تکلیف ہوتی ہے۔وزیر خزانہ کے مطابق اگلی حکومت کیلئے سب سے بڑا مسئلہ قرض کی ادائیگی ہوگا، صورتحال سنبھالنے کیلئے ذمہ دار قیادت کی ضرورت ہوگی ۔


اس خبر کے بارے میں اپنی رائے دیجئے
پسند آئی
 
ٹھیک ہے
 
کوئی رائے نہیں
 
پسند ںہیں آئی
 


 سب سے زیادہ پڑھی جانے والی مقبول خبریں





  اوصاف سپیشل

آج کا مکمل اخبار پڑھیں

آج کا مکمل اخبار پڑھیں

کاروبار

کالم /بلاگ


     
     
تمام اشاعت کے جملہ حقوق بحق ادارہ روزنامہ اوصاف محفوظ ہیں۔
Copyright © 2016 Daily Ausaf. All Rights Reserved