تازہ ترین  
پیر‬‮   17   دسمبر‬‮   2018

گناہ ٹیکس کیا ہے ،کن ممالک میں نافذ العمل ہے ؟


اسلام آباد(نیو زڈیسک) گزشتہ روز وفاقی وزیر برائے نیشنل ہیلتھ سروسز عامر محمود کیانی نے ایک سیمینار سے خطاب کے دوران سگریٹ نوشی کرنے والے افراد کو خبردار کیا تھا کہ حکومت سگریٹ اور دیگر تمباکو مصنوعات پر ’سن ٹیکس‘ عائد کرے گی۔اس اعلان کے بعد متعدد صارفین نے سِن ٹیکس کے حوالے سے سوشل میڈیا پر اظہار خیال کیا۔ واضح رہے کہ گناہ کو انگریزی میں سن (Sin) کہتے ہیں تو اسی مناسبت سے لوگوں نے سِن ٹیکس کو گناہ ٹیکس کا نام دے ڈالا۔وفاقی وزیر برائے آبی وسائل فیصل واوڈا نے خود بھی گناہ ٹیکس پر تنقید کر ڈالی۔فیصل واوڈا لکھتے ہیں کہ وہ خود سگریٹ کے شیدائی ہیں اور حکومت کے ہر اُس اقدام کو سراہتے جو سگریٹ نوشی کی حوصلہ شکنی کرتے ہیں۔ ساتھ ہی انہوں نے لکھا، میں جانتا ہوں یہ صحت کے لیے مضر ہے لیکن اسے گناہ ٹیکس قرار دینا غلط ہے، اگر یہ گناہ ہے تو اصل گناہ کیا ہوں گے ۔سِن ٹیکس ایک معاشی اصطلاح ہے۔ یہ وہ سیلز ٹیکس ہے، جو اُن مصنوعات پر عائد کیا جاتا ہے، جو معاشرے اور افراد کے لیے کسی نہ کسی طور پر نقصان دہ ہوتی ہیں۔ان اشیاء میں سگریٹ، تمباکو مصنوعات، الکوحل، منشیات، سافٹ ڈرنکس، فاسٹ فوڈز، کافی اور دیگر چیزیں شامل ہیں۔فلپائن سگریٹ پر “گناہ ٹیکس” لگانے والا دنیا کا پہلاملک ہے۔ جبکہ گزشتہ برس جون میں سعودی عرب نے اس ٹیکس کا اعلان کیا۔ جبکہ سعودی عرب کے چار ماہ بعد متحدہ عرب امارات میں بھی گناہ ٹیکس لاگو کیا گیا۔سعودی عرب کی جنرل اتھارٹی آف زکوۃ اینڈ ٹیکس (GAZT) کی آفیشل ویب سائٹ کے مطابق ایکسائز ٹیکس جسے عموما گناہ ٹیکس کے نام سے جانا جاتا ہے، ایسی مضر صحت اشیا پر عائد کیا گیا جو خرابی صحت کا باعث ہوں اور صحت کے بجٹ میں اضافے کا باعث بنے۔ عرب میڈیا کے مطابق ان اشیا (سگریٹ، سافٹ ڈرنکس اور انرجی ڈرنکس) کو مضر صحت قرار دیا گیا جو کہ انسانی زندگی کے لیے ناگزیر نہیں اور یہ تعیش کے زمرے میں آتی ہیں انسانی ضرورت کے خانے میں نہیں۔فلپائن میں بھی تمباکو مصنوعات پر گناہ ٹیکس عائد ہے۔ 2017 میں عالمی بینک نے اپنی رپورٹ میں کہا تھا کہ فلپائن میں عائد گناہ ٹیکس تمباکو مصنوعات کیخلاف اقدامات کے حوالے سے مؤثر ترین اقدامات میں سے ایک ہے جس سے نہ صرف حکومت کی آمدنی میں اضافہ ہوا بلکہ تمباکو نوشی کرنے والے افراد کی تعداد بھی کم ہوئی۔وزارت صحت کے ڈائریکٹر جنرل ڈاکٹر اسد حفیظ کا کہنا ہے کہ مختلف بیوریج اور تمباکو کی مضنوعات پر دنیا کے 45 ممالک میں اضافی ٹیکس نافذ ہے، یہ اصطلاح نئی نہیں ہے، یہ ان اشیاء پر جو انسانی صحت کیلئے منافع بخش نہ ہوں گناہ ٹیکس لگتا ہے۔ تھائی لینڈ بھی ان ممالک میں شامل ہے جنہوں نے یہ ٹیکس لگایا جبکہ امریکا میں سگریٹ کے ایک پیکٹ ہر ڈیڑھ ڈالر اضافی چارج کیا جاتا ہے۔بلومبرگ کے مطابق موجود معلومات اس بات کا پتہ دیتی ہے کہ پہلی بار گناہ ٹیکس کا نفاذ برطانیہ میں ہوا جب 1643 ء میں الکوحل پر گناہ ٹیکس عائد کیا گیا۔ جبکہ امریکا میں اس حوالے سے ایک لمبی تاریخ ملتی ہے، امریکا میں کئی بار شراب، تمباکو کی مصنوعات اور کمار بازی(جواء) پر گناہ ٹیکسز نافذ کیے گئے تاہم اس کا آغاز 1971ء میں ہوا۔ مریئم ویبسٹر ڈکشنری کے مطابق گناہ ٹیکس کا سب سے پہلے نفاذ 1957 میں ہوا۔کیا گناہ ٹیکس کارآمد ہے؟ بلومبرگ کی رپورٹ کے مطابق اس بات کے شواہد بہت کم ہیں کہ اس طرح کے ٹیکسز کے نفاذ سے کسی سماجی برائی پر قابو پایا گیا ہو تاہم اس میں کمی کے امکان موجود ہیں۔ امریکن ہارٹ ایسوسی ایشن کے حکام کا کہناہے کہ ٹیکسز کے نفاذ سے انسانی صحت اور رویہ پر اثر انداز ہونا ایک پیچیدہ عمل ہے۔گارڈیئن کی رپورٹ کے مطابق امریکا اور میکسیکو میں شوگر کے مرض میں اضافہ اور سافٹ ڈرنکس پر ٹیکسز کے نفاذ کا تعلق جوڑا گیا تو یہ بات سامنے آئی میکسیکو میں سافٹ ڈرنکس پر ٹیکس لگانے سے پہلے سال اس کی فروخت میں 5 اعشاریہ 5 فیصد کمی آئی جبکہ دوسرے یہ کمی 9 اعشاریہ 7 فیصد تھی جو قدرے بہتر تھی۔عربین بزنس ڈاٹ کام کے مطابق سعودی حکام نے ملک بھر میں 10 جون 2018 سے سگریٹ سمیت تمباکو سے بنی تمام اشیا اور انرجی ڈرنکس پر سو فیصد اور سافٹ ڈرنکس پر 50 فیصد ٹیکس عائد کر دیا، جس کے بعد ان اشیا کی قیمتوں میں یک دم اضافہ ہوگیا ہے واضح رہے کہ پاکستان میں تمباکو مصنوعات کی تشہیر پر پابندی ہے جبکہ ہر سال بجٹ میں سگریٹس پر ٹیکس بھی عائد کیا جاتا ہے اور اس کے علاوہ سگریٹ کے پیکٹس پر تمباکو کے استعمال سے انتہائی دردناک زندگی گزارنے والے افراد کی تصاویر بھی شائع کی جاتی ہیں تاکہ سگریٹ نوشوں کو اصل خطرے سے آگاہ کر کے ان کی حوصلہ شکنی کی جا سکے۔




 سب سے زیادہ پڑھی جانے والی مقبول خبریں


آج کا مکمل اخبار پڑھیں

تازہ ترین خبریں




     
     
تمام اشاعت کے جملہ حقوق بحق ادارہ روزنامہ اوصاف محفوظ ہیں۔
Copyright © 2016 Daily Ausaf. All Rights Reserved