01:34 pm
پٹرول کی قیمت ڈبل سے ٹرپل فیگر میں داخل ہونے والی ہے

پٹرول کی قیمت ڈبل سے ٹرپل فیگر میں داخل ہونے والی ہے

01:34 pm

اسلام آباد (مانیٹرنگ ڈیسک ) ای سی سی کی جانب سے پٹرولیم کی مصنوعات کی قیمتوں میں اضافے کی منظوری پر اگر کابینہ نے منظوری دے دی تو چار سال پانچ ماہ بعد پٹرول کی قیمت میں ایک مرتبہ پھر "تین ہندسوں" میں داخل ہو جائے گی۔میڈیا رپورٹس میں بتایا گیا ہے کہ سابق وزیراعظم نواز شریف نے 31 اکتوبر 2014 کو پٹرول کی قیمت میں یکمشت 9 روپے 43 پیسے کی کمی کر کے کئی سال بعد پٹرول کی قیمتوں کو ڈبل ہندسے میں لانے کا اعلان کیا تھا۔ اس وقت کی حکومت نے یکم نومبر 2014 کو پٹرول کی قیمت 9 روپے 43 پیسے ،ڈیزل 6 روپے 18 پیسے، مٹی کا تیل 8 روپے 16 پیسے جب کہ ہائی آکٹین کی قیمت میں 14 روپے 68 پیسے کم کی۔جس کے بعد پٹرول کئی سال بعد کم ہو کر دہرے ہند سے میں آ گیا۔
اس کی نئی قیمت 94 روپے 14 پیسے ہو گئی تھی۔ جس کے بعد پچھلے دور حکومت کے تیسرے برس کے دوران یکم اپریل 2016ء کو پٹرول کم ہو کر 64 روپے 27 پیسے کی کم ترین سطح پر بھی آ گیا تھا۔ تاہم موجودہ حکومت کے آٹھ ماہ کے دوران ایک مرتبہ پھر پٹرولیم مصنوعات کی قیمتیں بڑھتے بڑھتے تین ہندسوں یعنی 100 روپے سے تجاوز کر گئیں۔8ماہ کے دوران پٹرول کی قیمتوں میں ساڑھے 17فیصد اضافہ ہوا۔2018ء میں عمران خان نے وزیراعظم کے عہدے کا حلف اٹھایا تھا۔جب کہ ستمبر 2018 کو پٹرول کی قیمت 92 روپے 83 پیسے، ڈیزل 106 روہے 83 پیسے، مٹی کا تیل 83 روپے 50 پیسے اور لائٹ ڈیزل کی قیمت 75 روپے 96 پیسے تھی۔ ان 8 ماہ کے دوران پٹرول کی قیمتیں قریباََ 16 روپے اضافے کے بعد ایک مرتبہ ساڑھے چار برس کی بلند ترین سطح پر پہنچ جائے گی۔خیال رہے گذشتہ روز وزارت خزانہ نے پٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں اضافے کی منظوری دی تھی۔اوگرا کی جانب سے وزارت خزانہ کو پٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں 14 روپے تک اضافے کی سمری بھیجی گئی تھی۔ تاہم وزارت خزانہ نے پیٹرول کی فی لیٹر قیمت میں 9 روپے تک کے اضافے کی منظوری دی ہے۔ مشیر خزانہ حفیظ شیخ کی سربراہی میں ہونے والے ای سی سی اجلاس کے دوران پٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں اضافے کی منظوری دی گئی۔ پٹرول کی فی لیٹر قیمت میں 9 روپے، ڈیزل کی فی لیٹر 4.89 روپے اضافے کی منظوری دی گئی۔ پٹرول کی نئی قیمت 108 روپے مقرر کر دی گئی ہے۔ پٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں اضافے کا اطلاق وفاقی کابینہ کی منظوری کے بعد ہوگا۔پٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں اضافے سے متعلق ماہرین اقتصادیات نے کہا کہ اس حالیہ اضافے سے ملک میں مہنگائی کی شرح میں مزید اضافہ ہوگا۔ خاص کر روزمرہ کے استعمال کی اشیاء کی قیمتوں میں اضافے دیکھنے میں آئے گا۔ دوسری جانب حکومت کا مؤقف ہے کہ اوگرا جانب سے پٹرول کی فی لیٹر قیمت میں 14 روپے تک اضافے کی سفارش کی گئی تھی، تاہم عوام کو ریلیف دینے کے لیے پٹرول کی قیمت میں 14 روپے کی بجائے 9 روپے کا اضافہ کیا گیا ہے۔ حکومت عالمی مارکیٹ میں خام تیل کی بڑھتی قیمت کے باعث پٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں اضافہ کرنے پر مجبور ہے۔ تاہم اس تمام صورتحال کے باوجود حکومت پٹرولیم مصنوعات پر سبسڈی کی مد میں عوام کو 5 ارب روپے تک کا ریلیف فراہم کرے گی۔

تازہ ترین خبریں