01:20 pm
وزیر اعظم کی منظوری کے بغیر پٹرول کی قیمتوں میں اضافہ

وزیر اعظم کی منظوری کے بغیر پٹرول کی قیمتوں میں اضافہ

01:20 pm

اسلام آباد (مانیٹرنگ ڈیسک )وزیر اعظم کی منظوری کے بغیر پٹرول کی قیمتوں میں اضافہ ، اب ان قیمتوں میں کمی جا رہی ہے یا نہیں ؟ حکومت نے غیر متوقع اعلان کردیا ۔۔۔ وزیراعظم عمران خان کی زیر صدارت آج وفاقی کابینہ کا اجلاس ہوا جس میں پٹرول کی قیمتیں برقرار رکھنے کا فیصلہ کیا گیا ہے۔ تفصیلات کے مطابق وزیر اعظم عمران خان کی زیر صدارت ہونے والا وفاقی کابینہ کا اجلاس ختم ہوگیا ۔ اجلاس میں وفاقی کابینہ نے پٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں ردو بدل کا فیصلہ نہیں کیا۔ اس اجلاس میں فیصلہ کیا گیا
کہ پٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں کوئی رد و بدل نہیں کی جائے گی اور پٹرولیم مصنوعات کی قیمتیں برقرار رہیں گی۔ اجلاس میں فیصلہ کیا گیا کہ پٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں کمی نہیں ہوگی، پٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں سے متعلق ای سی سی کا فیصلہ برقرار رہے گا۔ اجلاس میں کرپشن کے خاتمے پر بھی زور دیا گیا۔ وزیراعظم عمران خان کا کہنا تھا کہ کمزور معیشت ہمیں وراثت میں ملی ہے۔ وفاقی کابینہ اجلاس میں وزیر اعظم نے وفاقی وزرا کو مزید اختیارات دینے کا بھی فیصلہ کیا۔ تاہم اس سلسلے میں آئندہ اہم فیصلے چند روزمیں کیے جانے کا امکان ہے۔ وزیر اعظم عمران خان نے کل قومی اسمبلی کے اجلاس میں بھی شرکت کا بھی فیصلہ کیا۔ عمران خان نے پی ٹی آئی کی پارلیمانی پارٹی کا اجلاس بھی کل طلب کر لیا ہے۔ یہ اجلاس کل دوپہر پارلیمنٹ ہاؤس میں ہوگا۔ یاد رہے کہ قبل ازیں پٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں اضافہ کی منظوری مشیر خزانہ عبدالحفیظ شیخ کی زیر صدارت ای سی سی اجلاس میں دی گئی تھی۔ کابینہ کی حتمی منظوری سے قیمتوں میں اضافے کا نوٹی فیکیشن جاری ہونا تھا لیکن نوٹیفکیشن اجلاس سے پہلے ہی جاری کر دیا گیا تھا۔ 3 مئی کو وزارت خزانہ نے پٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں اضافے کی منظوری دی تھی۔ اوگرا کی جانب سے وزارت خزانہ کو پٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں 14 روپے تک اضافے کی سمری بھیجی گئی ۔ وزارت خزانہ نے پٹرول کی فی لیٹر قیمت میں 9 روپے تک کے اضافے کی منظوری دی ۔ مشیر خزانہ حفیظ شیخ کی سربراہی میں ہونے والے ای سی سی اجلاس کے دوران پٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں اضافے کی منظوری دی گئی تھی۔ پٹرول کی فی لیٹر قیمت میں 9 روپے، ڈیزل کی فی لیٹر 4.89 روپے اضافے کی منظوری دی گئی۔ پٹرول کی نئی قیمت 108 روپے مقرر کی گئی ۔ پٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں اضافے سے متعلق ماہرین اقتصادیات کا کہنا تھا کہ اس حالیہ اضافے سے ملک میں مہنگائی کی شرح میں مزید اضافہ ہوگا۔ خاص کر روزمرہ کے استعمال کی اشیاء کی قیمتوں میں اضافے دیکھنے میں آئے گا۔ دوسری جانب حکومت نے مؤقف دیا تھا کہ اوگرا جانب سے پٹرول کی فی لیٹر قیمت میں 14 روپے تک اضافے کی سفارش کی گئی تھی، تاہم عوام کو ریلیف دینے کے لیے پٹرول کی قیمت میں 14 روپے کی بجائے 9 روپے کا اضافہ کیا گیا ۔ حکومت عالمی مارکیٹ میں خام تیل کی بڑھتی قیمت کے باعث پٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں اضافہ کرنے پر مجبور ہے۔ تاہم اس تمام صورتحال کے باوجود حکومت پٹرولیم مصنوعات پر سبسڈی کی مد میں عوام کو 5 ارب روپے تک کا ریلیف فراہم کرے گی۔ اُمید ظاہر کی جا رہی ہے تھی کہ عوام کی جانب سے سخت رد عمل آنے پر وفاقی کابینہ کے اجلاس میں پٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں کمی کا فیصلہ کیا جائے گا لیکن ایسا نہیں ہو ا، وفاقی کابینہ نے آج وزیراعظم عمران خان کی زیر صدارت ہونے والے اجلاس میں پٹرولیم مصنوعات کی قیمتیں برقرار رکھنے اور کوئی کمی نہ کرنے کا فیصلہ کیا۔

تازہ ترین خبریں