03:21 pm
ورلڈ بینک نے پاکستان کو ہدایات جاری کردیں

ورلڈ بینک نے پاکستان کو ہدایات جاری کردیں

03:21 pm

اسلام آباد (آئی این پی ) عالمی بینک نے کہا ہے کہ پاکستان کو اپنی آمدن میں کمی کو پورا کرنے کے لیے اضافی ٹیکس لگانے کی ضرورت نہیں ہے، پاکستان نئے ٹیکس عائد کرنے اور اس کی شرح بڑھائے بغیر معقول ٹیکس اکھٹا کر سکتا ہے وفاق اور صوبوں کے درمیان تعان کی کمی کا بھی ذکر کیا ہے، وفاق اور صوبوں میں تعاون کی کمی سے بھی ملک کے مجموعی ٹیکسوں سے ہونے والی آمدن پر منفی اثرات مرتب ہوئے ہیں۔
ورلڈ بینک کے پاکستان ریونیو موبلائیزیشن پراجیکٹ کی طرف سے تیار کردہ رپورٹ میں کہاگیا ہے کہ پاکستان اگر ٹیکس وصولی 75 فیصد تک بڑھائے تو اس کی آمدن جی ڈی پی کے 26 فیصد تک ہوجائے گی جو ایک متوسط آمدن والے ملک کے لیے حقیقت پسندانہ سطح ہے۔پاکستان میں ٹیکس حکام صلاحیت کا صرف 50 فیصد ٹیکس حاصل کرنے میں کامیاب ہوئے ہیں۔ عالمی بینک کی رپورٹ کے مطابق فیڈرل بورڈ آف ریونیو ایک منظم ادارہ نہیں ہے۔رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ ایف بی آر کی پورے ملک میں موجودگی ہے جہاں اس کے پاس مجموعی طور پر 21 ہزار ملازمین موجود ہیں جن میں سے 2 تہائی حصہ ان لینڈ ریونیو سروس کے لیے جبکہ ایک تہائی حصہ پاکستان کسٹمز کے لیے کام کرتا ہے۔عالمی بینک نے وفاق اور صوبائی حکومتوں کے درمیان تعاون کی کمی کا بھی انکشاف کیا ہے۔رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ وفاق اور صوبائی حکومتوں کی جانب سے علیحدہ علیحدہ قواعد و ضوابط لاگو کرنے سے تنازعات جنم لیتے ہیں۔پاکستان کے لیے ضروری ہے کہ وہ مالی استحکام اور سرمایہ کاری کی فضا قائم کرنے کے لیے ٹیکس کے ذریعے اپنی آمدن بڑھائے۔رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ اس وقت صوبوں کو ٹیکس آمدن میں ملنے والا حصہ بہت کم ہے تاہم وقت کے ساتھ ساتھ اس میں اضافہ ہورہا ہے۔

تازہ ترین خبریں