08:43 am
آئی ایم ایف سے قرض کیلئے بجلی، گیس اور ٹیکسوں میں اضافہ ناگزیر

آئی ایم ایف سے قرض کیلئے بجلی، گیس اور ٹیکسوں میں اضافہ ناگزیر

08:43 am

اسلام آباد(نیو زڈیسک) آئی ایم ایف سے قرض کا حصول اتنی آسان نہیں، حکومت کو بجلی، گیس اور دیگر ٹیکسوں میں اضافہ اور خسارے میں ڈوبے اداروں کا انتظام کرنا ہو گا۔آئی ایم ایف سے قرض کیلئے حکومت کو بڑے پاپڑ بیلنا ہونگے، عوام پر مہنگائی کے تابڑ توڑ حملے ہونگے، توانائی کے شعبے سے سبسڈی اور گردشی قرضوں کو کم کیا جائے گا جس سے بجلی و گیس دونوں کے دام بڑھ جائیں گے۔ٹیکس وصولیوں میں 700 ارب روپے تک کے اضافے کی خاطر جی ایس ٹی، فیڈرل ایکسائز ڈیوٹی، درآمدی ڈیوٹیز اور تنخواہ دار طبقے کے سلیب سسٹم میں ایک بار پھر تبدیلی کی جائے گی۔ زرمبادلہ کے ذخائر صرف ہاتھی دانت کی
مانند ہونگے یعنی کھانے کے کچھ اور دکھانے کے اور، زرمبادلہ ذخائر کو حکومت صرف بیرونی ادائیگیوں کے لئے استعمال کرے گی، روپیہ اپنی قدر خود طے کرے گا۔ترقیاتی بجٹ میں اضافہ نہیں کیا جائے گا جو بجٹ ہے اسی پر صبر و شکر ادا کرکے کام کیا جائے گا یعنی جو دال اسی کا دلیہ بنایا جائے گا۔ خسارے میں ڈوبے عوام کے ٹیکسوں کا پیسہ ہڑپ کرنے والے سرکاری اداروں کا انتظام کرنا ہوگا۔ عالمی مالیاتی ادارے نے جلد از جلد ایسے 40 اداروں کی نجکاری کا منصوبہ بھی طلب کر لیا ہے جس پر حکومت کو سالانہ 400 ارب روپے اپنے پلے سے خرچ کرنے پڑتے ہیں۔آئی ایم ایف پاکستان کو لگ بھگ 8 ارب ڈالر قرض فراہم کرے گا جس کی پہلی قسط کی وصولی سے دیگر قسطوں کی وصولی تک حکومت کو من و عن تمام شرائط کڑوے گھونٹ سمجھ کراتارنا ہونگے، طرز حمکرانی میں بہتری لانا ہوگی، تمام غیر ضروری اخرجات کو ختم کرکے تین سال میں مالیاتی خسارے کو 4 فیصد تک لانا ہوگا۔

تازہ ترین خبریں