09:19 am
پانچ بڑے عالمی مالیاتی بحران

پانچ بڑے عالمی مالیاتی بحران

09:19 am

اسلام آباد(نیو زڈیسک)عالمی تاریخ میں یکے بعد دیگرے کئی مالیاتی بحران آئے۔ ان میں سے بیشتر مختصر اور کم شدید تھے جن کا اثر وسیع پیمانے پر محسوس نہیں کیا گیا۔بعض کے اثرات پورے براعظم یا دنیا بھر میں ہوئے۔ ان کے نتیجے میں بے روزگاری اور مہنگائی بڑھی اور لوگوں کی ایک بڑی تعداد کو ضروریات زندگی پوری کرنے میں مشکلات پیش آئیں۔ ذیل میں پانچ سب سے تباہ کن مالیاتی و معاشی بحرانوں کو مختصراً بیان کیا گیا ہے۔قرضوں کا بحران، 1772ء1772ء سے قبل کی دہائیوں میں برطانیہ نو آبادیوں میں اپنی جڑیں خاصی مضبوط کر چکا تھا۔ سلطنتِ برطانیہ مشرق سے ویسٹ انڈیز اور شمالی امریکا تک پھیلی چکی تھی۔برطانیہ اور نوآبادیوں کے درمیان بڑے پیمانے پر مختلف اجناس اور بنیادی ضروریات کی اشیا کا تبادلہ ہو رہا تھا لیکن امریکی نوآبادیوں میں سرمایے کی
کمی کی وجہ سے، ان کا برطانوی قرض دہندگان پر بہت زیادہ انحصار تھا، تاکہ آسان شرائط پر قرض مل سکے۔دوسری طرف سلطنتِ برطانیہ نوآبادیوں اور تجارت سے بہت زیادہ دولت اکٹھی کر چکی تھی۔ اس سے بہت زیادہ امیدیں پیدا ہوئیں اور برطانوی بینکوں نے دل کھول کر قرض فراہم کیے۔یہ تیزی جون 1772ء کو اختتام کو پہنچی جب لندن کے دو بینکوں زوال پذیر ہوئے اور اس کے اثرات دوسرے بینکوں اور قرض دہندگان تک پہنچے۔ آٹھ جون 1772ء کو الیگزینڈر فورڈائس کا فرار اس کا نکتۂ آغاز مانا جاتا ہے۔ قرض کی ادائیگی سے بچنے کے لیے وہ فرانس بھاگ نکلا۔ وہ لندن میں قائم بینک ’’نیل، جیمز، فورڈائس اینڈ ڈاؤن‘‘ میں شراکت دار تھا۔ فرار کی خبرپھیلتے ہی برطانیہ کے بینک ہیجانی کیفیت کا شکار ہو گئے۔یہ بحران سکاٹ لینڈ، نیدرلینڈز اور پھر یورپ کے دوسرے حصوں میں پھیلتا ہوا امریکی نوآبادیوں تک پہنچ گیا۔ یہ دورِ امن کا بحران تھا۔ بہت سے تجزیہ نگاروں کے مطابق ’’امریکی انقلاب‘‘، جو برطانیہ سے امریکا کی آزادی پر منتج ہوا،کا ایک اہم سبب یہی مالیاتی بحران تھا۔عالمی کساد بازاری، 1929-39ءیہ بیسویں صدی کا سب سے بڑا مالیاتی اور معاشی بحران تھا۔ بہت سے لوگوں کا خیال ہے کہ اس عالمی کساد بازاری کا آغاز 1929ء میں وال سٹریٹ کے دھڑن تختہ سے ہوا اور بعدازاں امریکی حکومت کے غلط فیصلوں نے اسے مزید بڑھا دیا۔ یہ کساد بازاری تقریباً 10 برس جاری رہی جس کے نتیجے میں لوگوں کی آمدنی پر بہت زیادہ منفی اثر پڑا، بے روزگاری میں ریکارڈ اضافہ ہوا، اور بالخصوص صنعتی ممالک میں پیداوار کم ہو گئی۔ اس کے اثرات سے شاید ہی کوئی شعبہ بچ پایا ہو، صنعت، زراعت، انفراسٹرکچر، شپنگ، کان کنی، تعمیرات سب متاثر ہوئے۔ ریاست ہائے متحدہ امریکا میں بے روزگاری کی شرح 1933 ء میں کم وبیش 25 فیصد ہو گئی۔تیل کی قیمتوں کا بحران، 1973ء 1973ء میں اس بحران کا آغاز اس وقت ہوا جب تیل برآمدکرنے والے ممالک کی تنظیم اوپیک (آرگنائزیشن آف دی پیٹرولیم ایکسپورٹنگ کنٹریز)، جن میں عرب ممالک اہم تھے، نے ریاست ہائے متحدہ امریکا کے خلاف قدم اٹھانے کا فیصلہ کیا۔ ان کے ردِعمل کا سبب چوتھی عرب اسرائیل جنگ میں اسرائیل کو اسلحے کی فراہمی تھی۔ اوپیک ممالک نے امریکا اور اس کے اتحادیوں کو تیل کی فراہمی روک دی۔ اس سے تیل کی بہت زیادہ قلت پیدا ہو گئی اور اس کی قیمتیں آسمان سے باتیں کرنے لگیں۔ خام تیل کی قیمت، جو تین ڈالر فی بیرل تھی، 1974ء میں 12 ڈالر فی بیرل ہو گئی۔ نتیجتاً امریکا اور بہت سے دیگر ترقی یافتہ ممالک میں بحران پیدا ہو گیا۔ اس بحران میں افراطِ زر کی شرح بہت زیادہ بڑھ گئی اور معیشت جامد ہو گئی۔ کئی برسوں کے بعد افراطِ زر اور پیداوار پچھلی سطح پر آئے۔ اس بحران کے دوران جاپان کی وہ گاڑیاں جو کم تیل استعمال کرتی تھیں مقبول ہوئیں۔ایشیائی بحران،1997ءچند دہائیاں قبل ’’ایشیائی ٹائیگرز‘‘ کی اصطلاح چار ترقی یافتہ معیشتوں ہانگ کانگ، سنگاپور، جنوبی کوریا اور تائیوان کے لیے بہت زیادہ استعمال ہوتی تھی۔ ان کے علاوہ 1990ء کی دہائی میں مشرقی ایشیا کے ممالک تھائی لینڈ، انڈونیشیا اور ملائیشیا تیزی سے ترقی کر رہے تھے۔ اس دوران قلیل المدت بیرونی قرضوں پر حد سے زیادہ انحصارکیا گیا اور قرضوں میں بے تحاشہ اضافہ ہو گیا جس سے بالآخر بحران پیدا ہو گیا۔ اس بحران کی ابتدا 1997ء میں تھائی لینڈ سے ہوئی اور پھر یہ پورے مشرقی ایشیا اور ان کے تجارتی شراکت داروں تک پھیل گیا۔ اس بحران کو بڑھانے والے دیگر عوامل میں رئیل سٹیٹ میں بہت زیادہ سرمایہ کاری اور مختلف طرح کی سٹہ بازی تھی۔ عالمی مالیاتی فنڈ نے اسے مینجمنٹ اور ادائیگیوں کا عدم توازن قرار دیا جسے درست تسلیم نہیں کیا جاتا۔ اس نے جو ’’حل‘‘ تجویز کیے ان میں غیر ملکی قرضوں کی ادائیگی کے لیے بندوبست اور سٹرکچرل ایڈجسٹمنٹ پالیسیوں کا نفاذشامل تھے جن کے منفی اثرات مرتب ہوئے۔ اس سے تھائی لینڈ میں بے روزگاری تین فیصد سے بڑھ کر 10 فیصد ہو گئی اور مجموعی قومی پیداوار میں ایک سال کے اندر 15 فیصد کمی واقع ہوئی۔ اس بحران سے نکلنے میں کئی برس لگے۔مالیاتی بحران، 2007-2008ءیہ دورِ حاضر کا سب سے شدید بحران تھا۔ اس نے پوری دنیا کے بینکنگ اور مالیاتی نظام کو ہلا کر رکھ دیا۔ اسے عالمی کساد بازاری کے بعد سب سے بڑا بحران مانا جاتا ہے۔ اس کی ابتدا امریکا میں ہاؤسنگ کے بحران سے شروع ہوئی جب ’’لہمین برادرز‘‘ دیوالیہ ہوا۔ اس کا شمار سرمایہ کاری کرنے والے بڑے عالمی بینکوں میں ہوتا تھا۔ یہ اپنے ساتھ کئی مالیاتی اداروں اور کاروباروں کو لے ڈوبا یا انہیں شدید بحران میں مبتلا کر دیا۔ اس سے لوگوں کی آمدن میں اربوں روپے کی کمی ہوئی اور کروڑوں افراد کی ملازمتیں متاثر ہوئیں۔

تازہ ترین خبریں