01:54 pm
500، 1ہزاراور 5ہزار کے نوٹ ختم ، ہر 500روپے کی ٹرانزیکشن پر 25روپے کٹوٹی

500، 1ہزاراور 5ہزار کے نوٹ ختم ، ہر 500روپے کی ٹرانزیکشن پر 25روپے کٹوٹی

01:54 pm

اسلام آباد (مانیٹرنگ ڈیسک) اقتصادی نظام میں انقلابی اصلاحات پر کام شروع کر دیا گیا ہے۔ تفصیلات کے مطابق حکومتی نمائندوں نے بڑے نوٹوں کو ختم کرنے اور کاغذ کے نوٹوں کی جگہ پلاسٹک کے کرنسی نوٹ متعارف کروائے جانے کی تجویز پیش کر دی ہے۔ وزارت خزانہ اور اقتصادی ماہرین کی مدد سے تجاویز تیار کر لی گئی ہیں۔ اس حوالے سے جو تجاویز تیار کی گئی ہیں اس میں کہا گیا کہ کاغذ کے نوٹوں کی جگہ پلاسٹک کرنسی متعارف کروائی جائے جبکہ پانچ ہزار، ایک ہزار اور پانچ سو روپے کے نوٹ ختم کیے جائیں ۔
تجاویز میں کہا گیا کہ ایک سو روپے کے نوٹ کو ملک کے سب سے بڑے کرنسی نوٹ کا درجہ دیا جائے جبکہ پانچ سو روپے سے زائد کا لین دین کارڈ کے ذریعے کیا جائے اور ہر پانچ سو روپے کی ٹرانزیکشن پر کٹوتی کی جائے۔ 500 روپے کے لین دین پر کٹوتی کے لیے پچیس روپے کی رقم تجویز کی گئی ہے اور کہا گیا ہے کہ ہر ٹرانزیکشن پر جو کٹوتی ہو گی وہ براہ راست قومی خزانے میں جائے گی اور اس سے ٹیکس کولیکشن کے مسائل بھی حل کرنے میں مدد ملے گی کیونکہ اس طرح حکومت براہ راست ٹیکس اکٹھا کر سکے گی۔ اس ٹیکس سے صارفین کو صحت اور تعلیم کی سہولیات دی جا سکتی ہیں۔ جبکہ اس سے صارفین کو ٹیکس میں براہ راست چھوٹ بھی مل سکتی ہے۔ یہ تجویز بھی پیش کی گئی کہ ملک سے بڑے کرنسی نوٹ ختم کرنے سے رشوت اور کرپشن کا خاتمہ ہو جائے گا۔ یہ تجویز بھی پیش کی گئی کہ شناختی کارڈ ختم کر کے ڈیجیٹل ڈیبٹ کارڈ بنایا جائے اور اسی کو ہی بینک کارڈ اور بزنس کارڈ کا نام دے دیا جائے۔ ان تمام تجاویز کو حکومت کے سامنے پیش کیا جائے گا اور وفاقی کابینہ کو بھی بھجوایا جائے گا اگر ان تجاویز کو قابل عمل سمجھا گیا تو انہیں نافذ کر دیا جائے گا بصورت دیگر انہیں مسترد کر دیا جائے گا۔ یہ تجاویز کرنسی کو ڈیجیٹلائز کرنے کے لیے پیش کی گئی ہیں تاکہ بڑے کرنسی نوٹوں کو ختم کر کے صرف ایک سو روپے کا کرنسی نوٹ رکھا جائے۔ اس سے کرنسی ڈی ویلیو بھی نہیں ہو گی اور رشوت ستانی اور کرپشن میں بھی استعمال نہیں ہو سکے گی جبکہ ٹیکس کولیکشن میں بھی اس سے کافی مدد حاصل ہو گی۔ اس پر بات کرتے ہوئے سابق سیکرٹری خزانہ وقار مسعود نے کہا کہ ایسی تجاویز ان اطراف سے آ رہی ہیں جن کا یہ شعبہ نہیں ہے۔ کرنسی کا سبجیکٹ اسٹیٹ بینک اور وزارت خزانہ کا ہے۔ اگر وہاں سے کوئی بات آتی تو قابل غور ہوتی اور اس پر تبصرہ بھی کیا جا سکتا تھا لیکن اب یہ بات کر دی گئی ہے اور اس پر گفتگو کا آغاز ہو گیا ہے تو میں یہ کہوں گا کہ ادائیگی کے نظام کو آسان کرنا مستحکم مقاصد میں سے ایک ہے اس پر کام ہو رہا ہے اور مزید کام بھی ہونا چاہئیے۔ لیکن اگر کرنسی نوٹ ختم کرنا چاہتے ہیں تو یہ کام اسٹیٹ بینک کا ہے۔ میرے خیال میں یہ بات اسٹیٹ بینک اور وزارت خزانہ کو کرنی چاہئیے وگرنہ عوام میں بے چینی پھیلے گی۔ جنہوں نے یہ بات چلائی ہے میں ان کو یہ کہنا چاہوں گا کہ آپ یہ معاملہ اسٹیٹ بینک اور وزارت خزانہ پر چھوڑ دیں ، میں بھی اس پر مزید بات نہیں کرنا چاہوں گا۔