10:08 am
سی پیک: چائنا پاور کی 660 میگاواٹ بجلی نیشنل گرڈ میں شامل

سی پیک: چائنا پاور کی 660 میگاواٹ بجلی نیشنل گرڈ میں شامل

10:08 am

اسلام آباد(نیو زڈیسک) سی پیک منصوبے کے تحت قائم کیے جانیوالے چائناپاورحب جنریشن کمپنی نے اپنے 1320میگاواٹ کے کول پاورپراجیکٹ کے x2 660 میگاواٹ کا دوسرا یونٹ نیشنل گرڈ سے منسلک کردیاگیاہے۔کمپنی کے مطابق نیشنل گرڈ سے دوسرے یونٹ کی منسلکی پاور پلانٹ کے تجارتی بنیادوں پر آپریشن شروع کرنے کی جانب اہم قدم ہے۔ واضح رہے کہ دوسرا یونٹ پہلے یونٹ کے نیشنل گرڈ سے منسلک کیے جانے کے ٹھیک5 ماہ بعد منسلک کیا گیاہے۔ اس طرح اب x2 660میگاواٹ کے دونوں یونٹ نے قومی گرڈ میں پری کمیشننگ آزمائشی بنیادپر بجلی کی فراہمی شروع کرنے کا سنگ میل عبور کرلیا ہے
۔کمرشل آپریشنز کے دوران اس پراجیکٹ سے سالانہ9ارب کلوواٹ بجلی نیشنل گرڈ کو فراہم کی جائیگی جو پاکستان میں 4ملین گھروں کی بجلی کی ضروریات پورا کریگی۔پراجیکٹ کے دوسرے یونٹ کی synchronization متفق تکنیکی معیارات کے مطابق ہوئی ہے جس سے منصوبے کے کمرشل آپریشن کی بنیاد بھی پڑگئی ہے جو اگست 2019 میں متوقع ہے۔چائنا پاور حب جنریشن کمپنی کے سی ای او ژاؤینگ گینگ نے کہاہے کہ اس پراجیکٹ کی کامیابی میں پاکستانی اور چینی ملازمین کی محنت اور لگن شامل ہے۔ چائنا پاورحب جنریشن کمپنی چین کی جانب سے پہلا غیر ملکی تھر مل پاور پراجیکٹ ہے جو بیلٹ اینڈ روڈ منصوبے کا حصہ ہے۔ 1320میگاواٹ کا کول پاورپراجیکٹ چین پاکستان اقتصادی راہداری کے تحت قائم کیا جانے والا ترجیحی پراجیکٹ ہے۔حب میں واقع چائنا پاور حب جنریشن کمپنی چائنا پاور انٹرنیشنل ہولڈنگ (CPIH)چائنا اسٹیٹ اونڈ اورحب پاور کمپنی کے اشتراک سے قائم کی گئی ہے جس میں74فیصد شیئرز سی پی آئی ایچ کے اور 26فیصد شیئرز حبکو کے ہیں۔منصوبے کی مہنگی لاگت کے باوجود جدید ترین سپر کریٹیکل ٹیکنالوجی کا استعمال کیا جارہا ہے۔ اس سپرکریٹیکل ٹیکنالوجی کی بدولت کوئلے کی کارکردگی کو بہتر بنانے، سستی بجلی پیداکرنے اور ماحولیاتی اثرات کو کم کرنے میں مدد ملے گی۔ 2 ارب ڈالرکے اس منصوبے میں ایک پاور پلانٹ اور کول جیٹی شامل ہیں۔چائنا پاور حب جنریشن کمپنی پرائیویٹ لمیٹڈ کے پاور پلانٹ کا سنگ بنیاد 21مارچ2017کو رکھا گیا تھاجس کو اگست2019 میں ممکنہ طور پر مکمل طورپر فعال کردیا جائے گا جس کے بعد یہ منصوبہ پاکستان میں بجلی کی ضرورت پورا کرنے میں اہم کردار ادا کرنے کے ساتھ مقامی سماجی اور اقتصادی ترقی کو بھی فروغ دے گا۔

تازہ ترین خبریں