09:25 am
آئی ایم ایف کے پاس جانا توتھا ، پہلے شرائط بہت سخت تھیں، اسد عمر

آئی ایم ایف کے پاس جانا توتھا ، پہلے شرائط بہت سخت تھیں، اسد عمر

09:25 am

اسلام آباد(نیو زڈیسک) سابق وفاقی وزیرخزانہ اسد عمر نے کہا ہے کہ جب تحریک انصاف کی حکومت برسراقتدار آئی تو اس میں کوئی شبہ نہیں کہ ملک کو ادائیگیوں کے سنگین بحران کا سامنا تھا اور آئی ایم ایف سے فوری بیل آؤٹ پیکج لینے کی باتیں ہورہی تھیں، لیکن اس وقت آئی ایم ایف کی شرائط بہت سخت تھیں، اسی لیے عالمی ادارے کا 6 ارب ڈالر کا 3سالہ پروگرام لینے میں 10 ماہ لگے۔یہاں ایک افطار ڈنر سے خطاب کرتے ہوئے انھوں نے
تسلیم کیا کہ آئی ایم ایف کا پروگرام تو لینا ہی تھا البتہ تاخیر سے معاہدے کا نقصان یہ ہوا ہے کہ ہماری اسٹاک مارکیٹ گرگئی اور براہ راست غیرملکی سرمایہ کاری 52 فیصد نیچے چلی گئی جو ایک ارب 37 کروڑ ڈالر کے برابر ہے۔ سابق وزیرخزانہ کا کہنا تھا کہ پی ٹی آئی کی حکومت نے برسراقتدار آکر وہی کیا ہے جس کا اس نے عام انتخابات میں وعدہ کیا تھا۔ ہم نے آئی ایم ایف سے رابطے کیے لیکن دوسرے آپشنز بھی استعمال کیے۔ اس کی ایک وجہ یہ بھی تھی کہ اس وقت امریکا یہ کہہ رہا تھا کہ وہ چینی قرضوں کی ادائیگی کے لیے آئی ایم ایف پروگرام کو استعمال کرنے کی اجازت نہیں دے گا۔ وزیراعظم سعودی عرب ، متحدہ عرب امارات اور چین گئے ،دوست ملکوں سے فنڈنگ لی لیکن آئی ایم ایف سے مذاکرات بھی جاری رکھے ۔ اس عرصہ کے دوران آئی ایم ایف کی شرائط میں نرمی آئی ۔ پہلے مذاکرات میں آئی ایم ایف شرح سود پر600 بیسس پوائنٹس کا اضافہ چاہتا تھا۔ڈسکاؤنٹ ریٹ 21 سے 22 فیصد کرنے کا مطالبہ کررہا تھا۔ میں یہ نہیں بتاؤں گا کہ وہ روپے کا کیا حشر کرنا چاہتے تھے ۔اسحاق ڈار کا اپنے ساتھ موازنہ کرتے ہوئے انھوںنے کہا کہ جب اسحاق ڈار وزیرخزانہ بنے تو ملک کے پاس بیرونی ادائیگیوں کے لیے ساڑھے 7 ماہ کے لیے زرمبادلہ کے ذخائرموجود تھے جبکہ میرے پاس 20 دنوں کے تھے۔ میرے وزارت خزانہ کا عہدہ سنبھالنے سے 3 ماہ قبل ماہانہ کرنٹ اکاؤنٹ خسارہ 2.03 ارب تھا جو سالانہ ساڑھے 24 ارب ڈالر بنتا ہے۔ میر ے آخری3 ماہ کے دوران یہ ماہانہ 63 کروڑ60 لاکھ پر آگیا تھا جو سالانہ ساڑھے 7 ارب ڈالر ہے۔جب آئی ایم ایف کو احساس ہوا کہ ہماری معیشت نے تبدیل ہونا شروع کردیا ہے تو انھوں نے بھی اپنے موقف میں نرمی پیدا کرلی ۔جب یہ صورتحال ہوتو کوئی بھی توقع نہیں کرسکتا کہ معیشت 5.2 فیصد شرح سے ترقی کرے اور ملک بھی دیوالیہ نہ ہو۔