08:05 am
قرضے بھی اور لینے پڑیں گے اور مہنگائی بھی اور بڑھانی ہوگی : مشیر خزانہ

قرضے بھی اور لینے پڑیں گے اور مہنگائی بھی اور بڑھانی ہوگی : مشیر خزانہ

08:05 am

لاہور (مانیٹرنگ ڈیسک ) اقتصادی جائزہ رپورٹ پیش کرتے ہوئے مشیر خزانہ نے کہا کہ ہماری کوشش یہ ہے کہ عوام کے سامنے ملکی معیشت کی درست صورتحال اور اس سے نمٹنے کے لیے کیے جانے والے اقدامات کو پیش کیا جائے۔ان کا کہنا تھا کہ ہماری معیشت کی کمزوریاں ابھر کر سامنے آرہی ہیں۔ ملکی معاشی استحکام کے لیے اقدامات کیے جارہے ہیں، تاہم ملکی معیشت کی بہتری کے لیے اہم فیصلے کرنے ہیں۔
مشیر خزانہ کا کہنا تھاکہ حکومت نے اقتدار سنبھالا تو معیشت زبوں حالی کا شکار تھی، ڈالر کمانے کی استعداد گزشتہ 10 سال میں صفر رہی۔ طویل عرصے سے اس ملک کے بنیادی مسائل پر توجہ نہیں دی گئی اور جو اصلاحات کرنی تھیں وہ نہیں کی گئیں۔مشیر خزانہ نے کہا کہ وہی ممالک آگے بڑھتے ہیں جو اپنی چیزیں باہر کے ممالک میں بیچنے کا راز سمجھیں لیکن 10 سال میں صفر فیصد تجارت میں اضافہ ہوا۔ ڈاکٹر حفیظ شیخ نے کہا کہ آمدنی سے 2 ہزار 300 ارب روپے زیادہ خرچ کیے گئے جس کا مطلب ہے آپ کو قرض لینا ہوگا، قیمتوں میں اضافہ کرنا ہوگا۔ قرضوں کے باعث کرنسی دباو ¿ کا شکار ہے، گزشتہ 2 سال میں اسٹیٹ بینک کے ذخائر 18 ارب سے کم ہو کر 9 ارب ڈالر ہوگئے۔ گزشتہ 5 برس میں برآمدات میں اضافہ نہیں ہوا، ماضی کی حکومتوں نے قرضوں کی دلدل میں پھنسایا اور 2018 میں قرضہ 31 ارب تک پہنچ گیا تھا۔ برآمدات 20 ارب ڈالر پر منجمد ہیں، گزشتہ حکومت کے دور میں تجارتی خسارہ 32 ارب ڈالر تک بڑھا۔ڈاکٹر حفیظ شیخ نے کہا کہ ملک کا امیر طبقہ ٹیکس نہیں دیتا، سابق حکومتوں کے قرضوں کا 2 ہزار 9 سو ارب سود دینا پڑتا ہے، ماضی کی حکومتوں نے دیگر ذرائع سے بھی 100 ارب ڈالر کے قرضے لے رکھے تھے۔ خسارے میں جانے والے ادارے ملکی معیشت پر 1300 ارب روپے کا بوجھ ڈال رہے ہیں۔انہوں نے واضح کیاکہ اگر اس معاملے سے نہیں نمٹتے تو ڈیفالٹ ہوجائیں گے اور اس کا کوئی حل نہیں ہے، لہٰذاوزیر اعظم نے فیصلہ کیا ہے کہ وہ مشکل فیصلے کریں گے تاکہ حالات مستقل بہتری کی طرف جائیں۔

تازہ ترین خبریں