08:25 am
1863 ارب کا سالانہ ترقیاتی پروگرام، صوبوں کیلیے 912 ارب کے منصوبے شامل

1863 ارب کا سالانہ ترقیاتی پروگرام، صوبوں کیلیے 912 ارب کے منصوبے شامل

08:25 am

اسلام آباد(نیو زڈیسک)وفاقی حکومت نے آئندہ بجٹ میں 1863 ارب روپے کا سالانہ ترقیاتی پروگرام (پی ایس ڈی پی) پیش کیا ہے جس میں 951 ارب روپے کے وفاقی سرکاری ترقیاتی پروگرام جبکہ صوبوں کے 912 ارب روپے کے سالانہ ترقیاتی پروگرامز شامل ہیں۔قومی ترقیاتی پروگرام کے مطابق کے تحت 42 وفاقی وزارتوں و ڈویژنز کیلیے مجموعی طور پر 3 کھرب 72 ارب 24 کروڑ روپے مختص کیے گئے ہیں جس میں35ارب 9کروڑ روپے سے زائد کی غیر ملکی معاونت بھی شامل ہوگی۔کارپوریشنوں بشمول نیشنل ہائی وے اتھارٹی، این ٹی ڈی سی و پیپکو کیلیے ایک کھرب97ارب 75کروڑ 90لاکھ روپے مختص کیے گئے ہیں
جبکہ ایرا کیلیے5 ارب روپے مختص کیے گئے۔آئی ڈی پیز کی امداد و بحالی کیلیے32ارب 50کروڑ روپے، سیکیورٹی میں اضافے کیلیے32ارب 50کروڑ روپے، وزیراعظم کے یوتھ سکل ڈویلپمنٹ پروگرام کیلیے 10 ارب روپے، صاف سرسبز پاکستان تحریک و سیاحت کیلیے 2ارب روپے، گیس انفرا اسٹرکچر ڈیولپمنٹ سیس کے لیے ایک ارب روپے جبکہ 10سالہ ترقیاتی منصوبہ برائے انضمام شدہ علاقہ جات کیلیے 48 ارب روپے مختص کیے گئے ہیں۔حکومت نے انفراسٹرکچر کے شعبے کیلیے369ارب روپے، انرجی سیکٹر کیلیے 80 ارب، ٹرانسپورٹ اینڈ کمیونیکیشن کے لیے 198 ارب، واٹر سیکٹر کیلیے 70ارب ، فزیکل ٹریننگ اینڈ ہاؤسنگ کیلیے21ارب، سوشل سیکٹر کیلیے 96ارب، ایجوکیشن اور ہائر ایجوکیشن کمیشن کیلیے21ارب، انوائرمنٹ کیلیے 33ارب، پائیدار ترقیاتی اہداف کیلیے9ارب، دیگر کے لیے 24ارب، سائنس اینڈ آئی ٹی کیلیے12ارب ، گورنس کیلیے 3ارب، پروڈکشن سیکٹر 14ارب، فوڈ اینڈ ایگریکلچر کیلیے 12ارب ، انڈسٹریز کیلیے 2ارب، نالج اکنامی کیلیے13ارب ، دیگر پروگراموں کے لیے100ارب مختص کیے گئے ہیں۔اس طرح مجموعی وفاقی ترقیاتی پروگرام کیلیے 9 کھرب 51 ارب روپے مختص کیے گئے ہیں جن میں25کھرب روپے کا متبادل فنانسنگ ذرائع سے انتظام کیا جائیگا۔ صوبوں کیلیے سالانہ ترقیاتی پروگرام کے تحت 9کھرب12ارب روپے مختص کیے گئے ہیں۔صوبوں کے سالانہ ترقیاتی پروگرام میں ایک کھرب 12 ارب 44کروڑکی غیر ملکی امداد بھی شامل ہوگی۔ سالانہ ترقیاتی پروگرام (پی ایس ڈی پی) میں 18 وفاقی وزاتوں و ڈویژنز کے ترقیاتی بجٹ میں کمی جبکہ 24 وفاقی وزاتوں کے ترقیاتی بجٹ میںاضافہ کیا گیا ہے۔

تازہ ترین خبریں