05:42 pm
اب اندرون ملک 10ہزار ڈالر کی رقم کی نقل و حرکت پر اسٹیٹ بینک سے اجازت لینا ہوگی

اب اندرون ملک 10ہزار ڈالر کی رقم کی نقل و حرکت پر اسٹیٹ بینک سے اجازت لینا ہوگی

05:42 pm

اسلام آباد (نیوز ڈیسک) اندرون ملک دس ہزار ڈالر رقم کی نقل و حرکت پر اسٹیٹ بینک سے اجازت لینا ہوگی.اس حوالے سے میڈیا رپورٹس میں بتایا گیا ہے کہ آج اسد عمر کی زیر صدارت قومی اسمبلی کی قائمہ کمیٹی برائے خزانہ کا اجلاس ہوا۔کمیٹی اجلاس میں بریفنگ دیتے ہوئے ایف آئی اے حکام نے کہا کہ اوور انوائسنگ اور انڈر انوائسنگ کی مد میں منی لانڈرنگ ہوتی ہے۔کچھ لوگ ایک لاکھ میں سے 40 ہزار بینک کے ذریعے سے اور 60 ہزار ہنڈی سے بھجواتے ہیں
۔یہ بھی انکشاف کیا گیا کہ پاکستان سے بیرون ملک ڈالر بھی سمگل ہوتے رہے ہیں۔اب اگر کوئی پیسے بھجوانا چاہے تو وہ 15 منٹ میں باہر چلیں گے اور میسج آ جائے گا۔ایک منی چینجر نے کراچی میں 16 ارب روپے کی منی لانڈرنگ کی۔پیپلز پارٹی کے رہنما سید نوید قمر نے سوال کیا کہ اگر ایف آئی اے حکام کسی کو غلط پکڑتے ہیں تو ان کو بھی سزا کا کوئی قانون ہے؟۔جس پر چئیرمین کمیٹی اور ایف بی آر کی طرف سے کوئی جواب نہیں دیا گیا۔کمیٹی رکن عائشہ غوث پاشا نے کہا کہ لوگ ہنڈی حوالہ اس لیے استعمال کرتے ہیں جو چینل لوگوں کو فراہم کیا جا رہا ہے وہ انتہائی مشکل ہے۔اسد عمر نے کہا کہ 5 ملین ڈالر تک بیرون ملک سرمایہ کاری کرنے کے لیے مرکزی بینک سے اجازت لازمی ہوتی ہے۔10ملین ڈالر تک یا اس سے زیادہ کی اجازت ای سی سی سے لینا ہوتی ہے۔اسٹیٹ بینک والے اتنے سوالات پوچھتے ہیں کہ سرمایہ کار بھاگ جاتا ہے۔رمیش کمار نے اسد عمر سے سوال کیا کہ ڈالر کا ریٹ کہاں تک جائے گا۔کمیٹی چئیرمین اسد عمر نے ڈالر سے متعلق سوال کا جواب نہیں دیا۔وزارت خزانہ کے حکام نے کمیٹی کو منی لانڈرنگ میں ملوث ملزمان کی سزا و جزا بڑھانے کی بھی تجویز دی ہے۔کمیٹی نے منی لانڈرنگ بل میں ترامیم کے قانونی نقات کے لیے اسپیشل کمیٹی بنانے کی سفارش کر دی۔

تازہ ترین خبریں