08:47 am
ماہانہ 2 لاکھ روپے پراپرٹی کرائے پر کوئی ٹیکس لاگو ہوگا یا نہیں ؟ ایف بی آر نےکمرشل میٹر صارفین کیخلاف سخت فیصلہ کر لیا

ماہانہ 2 لاکھ روپے پراپرٹی کرائے پر کوئی ٹیکس لاگو ہوگا یا نہیں ؟ ایف بی آر نےکمرشل میٹر صارفین کیخلاف سخت فیصلہ کر لیا

08:47 am

اسلام آباد(آن لائن) فیڈرل بورڈ آف ریونیو(ایف بی آر )نے ایمنسٹی سکیم سے فائدہ نہ اٹھانے والے کمرشل میٹر صارفین کیخلاف کارروائی کا فیصلہ کرتے ہوئے بجلی کی تقسیم کار کمپنیوں سے تمام رجسٹرڈ اور غیر رجسٹرڈ صارفین کا ڈیٹا حاصل کر لیا‘ایف بی آر نے تمام ڈسکوز کے رجسٹرڈ اور غیر رجسٹرڈ صارفین کی معلومات جاری کر دیں‘محکمے نے غیر رجسٹرڈ گھریلو، ٹیوب ویل، کمرشل، انڈسٹریل میٹر صارفین کا ڈیٹا اکٹھا کیا ‘جس میں تمام ڈسکوز میں غیر رجسٹرڈ صارفین کی تعداد رجسٹرڈ افراد سے زیادہ نکلی۔تمام ڈسکوز میں غیر رجسٹرڈ گھریلو میٹر صارفین کی تعداد 2کروڑ 36لاکھ 25ہزار سے
 
زائد ہے اور غیر رجسٹرڈ کمرشل میٹر صارفین کی تعداد 25لاکھ تئیس ہزار سے زیادہ ہے۔ انڈسٹریل اور ٹیوب ویل غیر رجسٹرڈ میٹر صارفین کی تعداد 5لاکھ 56ہزار ہے، غیر رجسٹرڈ کمرشل میٹر صارفین کے کنکشنز منقطع اور بھاری جرمانہ کیا جائیگا۔ذرائع ایف بی آرنے بتایا کہ ایف بی آر کی جانب سے کمرشل میٹر رکھنے والوں کو ایمنسٹی سے پہلے نوٹسز بھی بھیجے گئے تھے۔ چیئرمین ایف بی آر کے مطابق ایمنسٹی سکیم آخری موقع تھا، جنہوں نے استفادہ نہیں کیا انہیں نہیں چھوڑا جائیگا۔ انکم ٹیکس آرڈینینس 2001 کے تحت کمرشل گیس اور بجلی کے صارفین کا ایکٹیو ٹیکس پیئر لسٹ میں ہونا ضروری ہے جبکہ دوسری جانب ایف بی آر نے فنانس ایکٹ کے تحت انکم ٹیکس آر ڈیننس 2001 میں کی گئی اہم ترامیم کا وضاحتی سرکلر جاری کر دیا ‘جس کے مطابق ماہانہ 2لاکھ روپے پراپرٹی کرائے پر کوئی ٹیکس نہیں ہو گا۔ایف بی آر کی جانب سے جاری سرکلر کے مطابق تنخواہ دار طبقے کے لیے سالانہ انکم ٹیکس چھوٹ کی حد 6 لاکھ روپے مقرر کر دی گئی ہے، سالانہ 6 لاکھ سے 12 لاکھ روپے کی آمدن پر 5 فیصد ٹیکس عائد ہو گا۔اعلامیے کے مطابق پراپرٹی سے حاصل ہونے والی آمدن پر انکم ٹیکس کو 5 سے لیکر 35 فیصد تک کر دیا گیا ہے۔ایف بی آر کے سرکلر کے مطابق جائیداد سے حاصل ہونے والے دو لاکھ روپے تک کے کرائے پر کوئی ٹیکس عائد نہیں ہو گا جبکہ دو لاکھ سے 6 لاکھ روپے کی پراپرٹی کے کرائے سے ہونے والی آمدن پر 5 فیصد، 6 لاکھ روپے سے 10 لاکھ روپے کی پراپرٹی انکم پر 10 فیصد، 10 تا 20 لاکھ روپے کی پراپرٹی انکم پر 15 فیصد، 20 لاکھ تا 40 لاکھ روپے کی پراپرٹی انکم پر 20 فیصد، 40 لاکھ تا 60 لاکھ روپے کی پراپرٹی انکم پر 25 فیصد ٹیکس عائد ہو گا۔اسی طرح 60 لاکھ تا 80 لاکھ روپے کی پراپرٹی انکم پر 30 فیصد اور 80 لاکھ روپے سے زائد کی پراپرٹی انکم پر 35 فیصد ٹیکس عائد ہو گا۔سرکلر کے مطابق 50 لاکھ روپے تک کی پراپرٹی پر 5 فیصد کیپیٹل گین ٹیکس، 50 لاکھ تا ایک کروڑ روپے کی پراپرٹی پر 10 فیصد اور ایک کروڑ سے ڈیڑھ کروڑ روپے کی پراپرٹی پر 15 فیصد اور ڈیڑھ کروڑ روپے سے زائد مالیت کی جائیداد پر 20 فیصد کیپیٹل گین ٹیکس عائد ہو گا۔دستاویز کے مطابق 6 لاکھ تا 12 لاکھ روپے کی سالانہ آمدن پر 5 فیصد، 12 لاکھ تا 18 لاکھ روپے کی آمدن پر 10 فیصد ٹیکس، 18 لاکھ تا 25 لاکھ روپے کی آمدن پر 15 فیصد ٹیکس، 25 لاکھ تا 35 لاکھ روپے کی آمدن پر 17 فیصد، 35 لاکھ تا 50 لاکھ روپے کی آمدن پر 20 فیصد، 50 لاکھ تا 80 لاکھ روپے کی آمدن پر ساڑھے 22 فیصد ٹیکس عائد ہو گا۔اسی طرح 80 لاکھ تا ایک کروڑ 20 لاکھ روپے کی آمدن پر 25 فیصد، ایک کروڑ 20 لاکھ تا 3 کروڑ روپے کی آمدن پر 27 فیصد، 3 کروڑ تا 5 کروڑ روپے کی سالانہ آمدن پر 30 فیصد، 5 کروڑ تا ساڑھے 7 کروڑ روپے کی آمدن پر32 فیصد ٹیکس اور ساڑھے 7 کروڑ روپے سے زائد کی آمدن پر 35 فیصد ٹیکس عائد ہو گا۔ایف بی آر کے سرکلر کے مطابق ان ترامیم کا اطلاق یکم جولائی 2019 سے ہو چکا ہے۔

تازہ ترین خبریں