کاتبِ وحی، امیرالمؤمنین سیدنا امیر معاویہؓ
اسلامی تاریخ اگر ایمان کی روشنی میں دیکھی جائے تو یہ محض حکومتوں کے عروج و زوال کی داستان نہیں بلکہ کردار، وفاداری، اطاعتِ رسول ﷺ اور دین کے لیے قربانیوں کا روشن مرقع ہے۔ اس تاریخ کے اصل معمار
اسلامی تاریخ اگر ایمان کی روشنی میں دیکھی جائے تو یہ محض حکومتوں کے عروج و زوال کی داستان نہیں بلکہ کردار، وفاداری، اطاعتِ رسول ﷺ اور دین کے لیے قربانیوں کا روشن مرقع ہے۔ اس تاریخ کے اصل معمار
یہ دور مقابلوں کا دور ہے۔ دنیا کے ہر گوشے میں انسان اپنی صلاحیتیں دکھانے کے لئے کسی نہ کسی میدان کا انتخاب کرتا ہے۔ یورپ اور مغرب کی بڑی جامعات میں اگر نظر دوڑائی جائے تو وہاں نوجوانوں کی
جنوبی ایشیا ء کی سیاست میں الفاظ محض جملے نہیں ہوتے، یہ اکثر بارود بن جاتے ہیں۔ خاص طور پر جب بات ایٹمی صلاحیت رکھنے والے دو ہمسایہ ممالک کی ہو تو ہر بیان، ہر اشارہ اور ہر طنز غیر
(گزشتہ سےپیوستہ) آنحضرت ﷺکی نبوت ورسالت اس لحاظ سے بھی تمام انبیا سے بلند تر ہے کہ باقی انبیا محض نبی ہیں جبکہ حضورﷺ خاتم النبیین ہیں،ہر نبی اپنے سے پیشرو پیغمبر کے لئے مصدق اور بعد میں آنے والے
اسلام ایک مکمل ضابط حیات ہے جس کی بنیاد محبت، اطاعت اور غلامیِ رسول ﷺ پر قائم ہے۔ تاریخِ انسانی میں کوئی ہستی ایسی نہیں گزری جس نے اپنے کردار، اخلاق، تعلیمات اور اسوئہ حسنہ کے ذریعے انسانیت کو وہ
بھارت ایک بار پھر اپنی دیرینہ روش پر قائم دکھائی دیتا ہے۔ جب بھی اسے عالمی سطح پر اپنے اندرونی مسائل، مقبوضہ کشمیر میں انسانی حقوق کی پامالی یا ریاستی سرپرستی میں دہشت گردی کے الزامات کا سامنا ہوتا ہے،
تفریح اور نئے سال کے جشن کے نام پر پاکستان کی نوجوان نسل کو گمراہی کے جن راستوں پر ڈال دیا گیا ہے وہاں اخلاق و کردار کی تباہی وبربادی کے سوا کچھ بھی نہیں،تفریح عربی زبان کا لفظ ہے
عصرِ حاضر فکری انتشار، تہذیبی یلغار اور اخلاقی زوال کا دور ہے۔ اس زمانے میں حق و باطل کی تمیز کو دھندلا کرنے کے لئے خوشنما نعروں، دل فریب اصطلاحات اور نام نہاد حقوق کے پردے میں ایسے تصورات کو
آٹھ دسمبر کی شام ان کے خلیفہ مجاز مولانا مفتی مجیب الرحمن کی ہمراہی میں مرکز ایمان وتقویٰ فیڈرل بی ایریا کراچی میں ان سے ملاقات ہوئی تو ایسے محسوس ہوا کہ جیسے محبتوں اور شفقتوں کی آبشار رواں دواں
اسلامی جمہوریہ پاکستان میں قانون سازی اور انتظامی فیصلوں کا بنیادی مقصد شہریوں کی جان و مال کا تحفظ اور مساوی حقوق کی فراہمی ہونا چاہیے۔ حالیہ دنوں پنجاب حکومت کی جانب سے ایک ایسا اعلان سامنے آیا جس نے