نفاذ اسلام مفتی عبدالرحیم اور گالیاں
پاکستان میں دینِ اسلام کے نفاذ کا مطالبہ محض ایک سیاسی نعرہ نہیں بلکہ قیامِ پاکستان کے بنیادی مقاصد میں شامل ایک نظریاتی وعدہ ہے، جسے آئینِ پاکستان نے بھی تسلیم کیا ہے۔ اسی تناظر میں جب مذہبی طبقات، دینی
پاکستان میں دینِ اسلام کے نفاذ کا مطالبہ محض ایک سیاسی نعرہ نہیں بلکہ قیامِ پاکستان کے بنیادی مقاصد میں شامل ایک نظریاتی وعدہ ہے، جسے آئینِ پاکستان نے بھی تسلیم کیا ہے۔ اسی تناظر میں جب مذہبی طبقات، دینی
ناموسِ رسالت ﷺ مسلمانوں کے ایمان کی اساس اور اجتماعی شعور کا وہ حساس باب ہے جس پر کوئی سمجھوتہ قابلِ قبول نہیں سمجھا جاتا۔ پاکستان جیسے اسلامی معاشرے میں توہینِ رسالت کے معاملات نہ صرف مذہبی جذبات بلکہ آئینی،
دنیا کی تاریخ پر اگر گہری نظر ڈالی جائے تو عورت کی داستان زیادہ تر محرومی، استحصال اور ناانصافی سے عبارت دکھائی دیتی ہے۔ قدیم تہذیبوں میں کہیں اسے وراثت سے محروم رکھا گیا، کہیں اسے مرد کی ملکیت سمجھا
پیر کی شام کراچی کے ایک نجی ہوٹل میں تمام مکاتبِ فکر و دینی تنظیموں کے متفقہ قومی مشاورتی اجلاس ایک اہم اور مستحسن پیش رفت ہے ۔ تمام مکاتب فکر کے اکابر علما ء کا ایک ہی پیج پر
(گزشتہ سے پیوستہ) تفتیشی افسر نے ملزم ف کو متعلقہ تعزیری اور PECA دفعات کے تحت جرم میں ملوث قرار دیا۔مزید تفتیش میں ایک تیسرے ملزم ’’و‘‘ ساکن پشاور، کے قبضے سے بھی موبائل فون اور واٹس ایپ برآمد ہوا۔
سوشل میڈیا پر گستاخانہ مواد شئیر کرنے والے ملعون گستاخوں کے مقدمات کی گونج پورے ملک میں سنائی دے رہی ہے، محترم ڈاکٹر کامران سرور ایڈوکیٹ نے ایسے ہی ایک عدالتی 37 صفحات پر مشتمل فیصلے سے اہم معلومات اخذ
نریندر مودی کا بھارت آج جس سیاسی، سماجی اور اخلاقی پستی کا شکار ہے، اس کی واضح اور بھیانک مثال ایک مسلمان خاتون ڈاکٹر کا نقاب زبردستی نوچنے کا واقعہ ہے۔ یہ محض ایک فرد کے ساتھ پیش آنے والا
عقیدہ ختم نبوت صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا تحفظ اس خاکسار کا ایمان بھی ہے اور ایقان بھی،چونکہ اس عظیم اور پاکیزہ عقیدے کے خلاف ہونے والی اکثر سازشوں کا تعلق اقتدار کے ایوانوں سے ہوتا ہے،اس لئے میری
اختلاف انسانی معاشرت کا فطری حصہ ہے، مگر جب یہی اختلاف تہذیب، شرافت اور حسنِ اخلاق کی حدود پھلانگ جائے تو پھر وہ اصلاح کے بجائے فساد کا ذریعہ بن جاتا ہے۔ افسوس ناک حقیقت یہ ہے کہ آج ہمارا
دنیا کے وسیع فکری افق پر جب ہم عقائد، اقدار اور قومی وحدت کے سوالات کا جائزہ لیتے ہیں تو یہ حقیقت نمایاں ہو کر سامنے آتی ہے کہ متمدن معاشروں کا یہ خاصہ رہا ہے کہ وہ اپنے ہر