دو سال!کرپشن 5300ارب روپے ’’ترقی‘‘ہی ’’ترقی‘‘
پاکستان کی معیشت پہلے ہی قرضوں، مہنگائی اور کمزور حکمرانی کے بوجھ تلے کراہ رہی تھی، مگر آئی ایم ایف کی حالیہ رپورٹ نے ملی بھگت، مالی بے ضابطگیوں اور بدعنوانی کا جو نقشہ پیش کیا ہے، وہ قومی سطح
پاکستان کی معیشت پہلے ہی قرضوں، مہنگائی اور کمزور حکمرانی کے بوجھ تلے کراہ رہی تھی، مگر آئی ایم ایف کی حالیہ رپورٹ نے ملی بھگت، مالی بے ضابطگیوں اور بدعنوانی کا جو نقشہ پیش کیا ہے، وہ قومی سطح
مدینہ منورہ میں داخلہ ہمیشہ سے اہلِ ایمان کے لئے روح کی تازگی اور دل کے سکون کا ذریعہ رہا ہے۔ یہ وہ شہر ہے جس کی فضائوں میں محبوبِ خدا ﷺ کی مہک بسی ہوئی ہے، جہاں قدم رکھتے
نیشنل سائبر کرائم انویسٹی گیشن ایجنسی لاہور کی جانب سے گستاخانہ مواد پھیلانے کے الزام میں چار ملزمان کی گرفتاری کی خبر نے دردمند دل رکھنے والے پاکستانیوں کو ایک احساسِ اطمینان دیا ہے۔ سوشل میڈیا کے اس دور میں
(گزشتہ سے پیوستہ) اسی طرح مستند حوالوں سے یہ بھی مذکور ہے کہ آپ نے ایک بار خطرناک زہر اپنی ہتھیلی میں ڈالا اور بسم اللہ پڑھ کر اسے پی گئے اس مہلک زہر نے آپ کو کوئی نقصان نہیں
بزدلی انسان کے دل کو کمزور اور عمل کو مفلوج کر دیتی ہے، جبکہ تاریخ گواہ ہے کہ ایمانی جرات ہی قوموں کو عروج بخشتی ہے۔ امتِ مسلمہ کی تابناک شخصیات ہمیں یہ سبق دیتی ہیں کہ خوف اور کمزوری
اگر قوم کے دو کروڑ سے زائد بچے تعلیم سے محروم ہیں تو اس کا مجرم یہ بوسیدہ نظام اور اس بوسیدہ نظام کے محافظ حکمران ہیں، وزیر د فاع خواجہ آصف سیالکوٹی فرماتے ہیں کہ اسلام آباد میں ہزاروں
یاد رہے کہ مولانا فضل الرحمن نے بنگلہ دیش کے دارالحکومت ڈھاکا کے تاریخی سہروردی گراونڈ میں جن لاکھوں انسانوں سے خطاب کیا وہ نہ تو ’’اوورسیز پاکستانی‘‘تھے، نہ وہ مولانا کے ووٹر تھے اور نہ ہی انہیں مولانا سے
پاکستان میں کم عمری کی شادی کے خلاف قانون سازی محض قانونی معاملہ نہیں بلکہ ایک گہری مذہبی، سماجی اور تہذیبی بحث بن چکی ہے۔ بلوچستان اسمبلی میں 18 سال سے کم عمر بچوں کی شادی پر پابندی کا بل
ڈاکٹر عافیہ صدیقی کو حکومت پاکستان واپس لائے،یہ مطالبہ تنہا عافیہ موومنٹ کا ہی نہیں بلکہ پوری قوم کے دلوں کی آواز ہے، پاکستان کے عوام اس بات پہ حیران ہیں کہ رسوا کن ڈکٹیٹر پرویز مشرف کے دور سے
رسوا کن ڈکٹیٹر پرویز مشرف کے تاریک دور سے لے کر زرداری و شہباز شریف کے ڈھیٹ دور یعنی نومبر 2025ء تک، دینی مدارس عالمی صیہونی ،صلیبی طاقتوں اور ان کے مقامی راتب خوروں کا نشانہ بنے ہوئے ہیں ،