کشمیر! افلاطونی سیاست اور قرآنی و فلاحی خدمات
ریاست آزاد جموں و کشمیر ایک ایسی دھرتی ہے جس نے بڑے بڑے جبال علم اور کبار علماء اور سیاست دان پیدا کئے ہیں، ہر شعبے کا ماہر فن اپ کو اس دھرتی پر کسی نہ کسی صورت میں نظر
ریاست آزاد جموں و کشمیر ایک ایسی دھرتی ہے جس نے بڑے بڑے جبال علم اور کبار علماء اور سیاست دان پیدا کئے ہیں، ہر شعبے کا ماہر فن اپ کو اس دھرتی پر کسی نہ کسی صورت میں نظر
ریاستوں کے فیصلے اکثر عوامی جذبات سے مختلف ہوتے ہیں۔ یہی فرق بعض اوقات لوگوں کو حیران بھی کرتا ہے اور ناراض بھی۔ جب خطے میں جنگ، میزائل اور دھمکیوں کی خبریں گردش کر رہی ہوں تو عوام کے ذہن
ایران امریکہ ثالثی میں پاکستان کا مثالی مثبت کردار نمایاں ہو چکا اور اب یہ کردار انشاء اللہ تاریخ کا حصہ بنے گا ،ضرورت اس امر کی ہے کہ ہم بحیثیت پاکستانی معاشرے میں جنم لینے والی برائیوں کے خلاف
حقوق العباد کی پامالیوں کی وجہ سے آج ہمارا معاشرہ جس زبوں حالی کا شکار ہے وہ انتہائی افسوس ناک ہے، دکھ کی بات یہ ہے کہ حقوق العباد کی ادائیگی تو دور کی بات ہمارے ہاں تو اس حوالے
عورت کسی بھی معاشرے کی بنیاد اور تہذیب کی اصل معمار ہوتی ہے۔ تاریخ کے مختلف ادوار میں عورت کے ساتھ ناانصافی اور ناقدری کے واقعات ملتے ہیں، لیکن حقیقت یہ ہے کہ کسی بھی قوم کی ترقی عورت کے
(گزشتہ سے پیوستہ) حب الوطنی کے تصور کو بھی ہمارے معاشرے میں محدود کر دیا گیا ہے۔ اکثر حب الوطنی کو خاموشی سے جوڑ دیا جاتا ہے، جیسے سوال پوچھنا یا تنقید کرنا حب الوطنی کے خلاف ہو۔ حالانکہ حقیقت
حالیہ دنوں میں ایک بیان سوشل میڈیا اور سیاسی حلقوں میں غیر معمولی توجہ حاصل کر رہا ہے جو جمعیت علمائے اسلام (ف)کے سربراہ مولانا فضل الرحمن سے منسوب ہے اور جسے مختلف پلیٹ فارمز خصوصاً Focus Media نے بھی
رسولِ ہاشمی ﷺ کی محبت ایمان کی روح اور مسلمان کی پہچان ہے۔ جب دل میں حضرت محمد ﷺ کی عقیدت جاگزیں ہو جائے تو انسان کے خیالات، رویے اور زندگی کے فیصلے سب سنور جاتے ہیں۔ تحفظ ناموس رسالت
پاکستان کی سیاست میں کچھ کردار ایسے ہوتے ہیں جو محض سیاسی شخصیات نہیں رہتے بلکہ ایک مکمل سیاسی حقیقت بن جاتے ہیں۔ وقت بدلتا رہتا ہے، حکومتیں بنتی اور ٹوٹتی رہتی ہیں، اتحاد بنتے اور بکھرتے رہتے ہیں مگر
(گزشتہ سےپیوستہ) ناقدین کے مطابق یہ پروگرام بے حیائی و فحاشی اور لچر پن کو پروان چڑھانے میں صف اول کا رول ادا کر رہے ہیں ، معاشرتی اقدار کو مضبوط کرنے کی بجائے ایک مصنوعی اور غیر حقیقی طرزِ