ٹی وی چینلز، بے حیائی اور اخلاق باختگی کے اڈے
فضا علی نام کی بڈھی گھوڑیوں کو اگر لال لگامیں نہ ڈالیں گیں، تو وہ قائد اعظم ؒکے پاکستان کو اپنی گندگی کی بھینٹ چڑھاتی رہیں گی،فضا علی کو اپنے تیسرے شوہر کی اکلوتی بیگم ہونے کا جشن منانے کا
فضا علی نام کی بڈھی گھوڑیوں کو اگر لال لگامیں نہ ڈالیں گیں، تو وہ قائد اعظم ؒکے پاکستان کو اپنی گندگی کی بھینٹ چڑھاتی رہیں گی،فضا علی کو اپنے تیسرے شوہر کی اکلوتی بیگم ہونے کا جشن منانے کا
(گزشتہ سے پیوستہ) دینی مدارس ہی سے بہترین قرا،حفاظ،خطباء، آئمہ، مفتیان، مدرسین، محققین اور فقہی ماہرین تیار ہوتے ہیں۔یہ افراد مساجد، مدارس، جامعات، عدالتوں، میڈیا، فلاحی اداروں، اور معاشرتی اصلاحی تنظیموں میں رہنمائی کا کردارادا کرتے ہیں۔ مسلمان قوم اگر
دینی مدارس کی تعلیمی دنیامیں نئےتعلیمی سال کا آغاز ہوچکا ہے،مدارس میں نئے داخلے لینے والے مسلمان پاکستانی طلباء کرام کےتانتے بندھے ہوئے ہیں،ہرمدرسےمیں داخلے کے لئے ٹیسٹ توہوتاہی ہے،مگر اسکے باوجود ملک کے سینئرعلماء ،شیوخ الحدیث اور دستیاب اکابرین
معروف تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ ہم پوری دنیا کے میڈیا کو فالو کرتے ہیں ، یقینا کھیلوں کی دنیا کا سب سے بڑا میچ فٹ بال ورلڈ کپ کا فائنل ہوتا ہے، جس کو پوری دنیا کامیڈیا کورکررہاہوتا
ڈونلڈ ٹرمپ کے کیا کہنے؟ وہ انسانوں پر رعب ڈالنے کا کوئی موقعہ ضائع جانے نہیں دیتا، میڈیا کی رپورٹ کے مطابق ،وائٹ ہاس میں منعقد ہونے والے عیدِ فصح (ایسٹر) کے ایک نجی عشائیے کی ویڈیو نے اس وقت
انڈیا کے وزیرخارجہ جے شنکر نے پاکستان کے خلاف ہرزہ سرائی کرتے ہوئے کہا ہے کہ پاکستان امریکہ ایران کے درمیان دلال کا کردار ادا کررہا ہے، ہدزبانی کی کیفیت سے گزرتے ہوئے بھان متی کا کنبہ مودی سرکار ذلت
سندھ کی بیٹی ام رباب اپنے پیاروں کے قاتل تلاش کرنے کے لئے کہاں جائے ؟انصاف کے حصول کے لئے کس کے در پہ سر ٹکرائے؟ دادو کی عدالت نے پیپلز پارٹی کے وڈیروں کو آزادی کا پروانہ تو تھما
کسی کو اچھا لگے یا برا ،پسند ہو یا نہ ہو،میرے جیسے صحافت کے طالب علم ڈونلڈ ٹرمپ جیسے ہزاروں کوپرنس محمد بن سلمان کی جوتی کی خاک کے برابر بھی نہیں سمجھتے، مگرکیوں؟اس لئے کہ پرنس محمد بن سلمان
آج کی تیز رفتار اور بدلتی ہوئی دنیا میں حالاتِ حاضرہ محض خبروں تک محدود نہیں رہے بلکہ یہ ہماری اجتماعی سوچ، قومی ترجیحات اور مستقبل کے راستوں کا تعین کرنے میں بنیادی کردار ادا کر رہے ہیں۔ عالمی سیاست
مشرقِ وسطیٰ سے جنوبی ایشیا تک آج دو اصطلاحات مسلسل زیرِ بحث ہیں: گریٹر اسرائیل اور اکھنڈ بھارت۔ بظاہر یہ دو الگ خطوں کی بات لگتی ہے مگر حقیقت میں ان کے پس منظر، عزائم اور سیاسی اثرات میں حیرت