آسیہ اندرابی مودی کنگرو کورٹ اور سرکاری جہاد ؟
اپنے گھروں سے 800 کلومیٹر دور مسلسل آٹھ سالوں سے دہلی کی تہاڑ جیل میں قید کشمیری خواتین کی تنظیم دختران ملت کی سربراہ 65 سالہ سیدہ آسیہ اندرابی کو عمر قید اور ان کی دو ساتھی خواتین 59سالہ ناہیدہ
اپنے گھروں سے 800 کلومیٹر دور مسلسل آٹھ سالوں سے دہلی کی تہاڑ جیل میں قید کشمیری خواتین کی تنظیم دختران ملت کی سربراہ 65 سالہ سیدہ آسیہ اندرابی کو عمر قید اور ان کی دو ساتھی خواتین 59سالہ ناہیدہ
عید محض ایک تہوار نہیں، بلکہ دلوں کو جوڑنے، محبتوں کو تازہ کرنے اور اخوت کے رشتوں کو مضبوط بنانے کا ایک حسین موقع ہوتی ہے۔ ہر سال عید آتی ہے، خوشیاں لاتی ہے اور گزر جاتی ہے، مگر بعض
(گزشتہ سے پیوستہ) یہ شخص چلاگیا، پھر ایک سال کے بعد یہی شخص مسلمان ہوکر آیا اور مجلس مذاکرہ میں فقہ اسلامی کے موضوع پر بہترین تقریر اور عمدہ تحقیقات پیش کیں،مجلس ختم ہونے کےبعد مامون نےاس کو بلاکر کہا
(گزشتہ سے پیوستہ) امام محمدؒ امام ابوحنفیہؒ کے پاس علم حاصل کرنے کے لیے حاضر ہوئے تو امام صاحب نے آپ کو قرآن شریف حفظ کرنے کا حکم دیا، امام محمدؒ ایک ہفتہ غائب رہے پھر آکر فرمایا پورا قرآن
اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے: شہر رمضان الذی انزل فیہ القرآن۔ ترجمہ: ماہ رمضان جس میں قرآن نازل ہوا۔(البقرہ:۱۸۵) علامہ ابن کثیرؒ فرماتے ہیں: یعنی قرآن میں شرافت کی سب جہتیں جمع ہوگئی ہیں :کتاب بہترین، زبان سب سے اشرف
اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے: شہر رمضان الذی انزل فیہ القرآن۔ ترجمہ: ماہ رمضان جس میں قرآن نازل ہوا۔(البقرہ:۱۸۵) علامہ ابن کثیرؒ فرماتے ہیں: یعنی قرآن میں شرافت کی سب جہتیں جمع ہوگئی ہیں :کتاب بہترین، زبان سب سے اشرف
پاکستان کے مذہبی، سماجی اور قانونی حلقوں میں ناموسِ رسالتؐ کے تحفظ جن کا موضوع ہمیشہ سے نہایت حساس اور اہم رہا ہے۔ حالیہ دنوں میں لاہور ہائی کورٹ بار ایسوسی ایشن لاہور کی جانب سے ایک اعلامیہ جاری کیا
دنیا کی سیاست میں بعض منصوبے ایسے ہوتے ہیں جو اعلان کے لمحے میں تو تاریخ کا دھارا موڑ دینے کے دعوے کرتے ہیں، مگر وقت کی گرد ان پر اس تیزی سے بیٹھ جاتی ہے کہ چند ہی ماہ
ہر مسلمان کے دل میں نبی اکرم ﷺ کی محبت ایمان کی بنیاد ہے۔ اسلام کی تعلیمات کے مطابق رسولِ اکرم ﷺ کی عزت و حرمت ہر مومن کے لیے سب سے قیمتی سرمایہ ہے۔ یہی وجہ ہے کہ تاریخِ
پاکستان جیسے جمہوری معاشرے میں آزادیٔ اظہار کو بنیادی انسانی اور آئینی حق کی حیثیت حاصل ہے۔ یہ حق شہریوں کو اپنی رائے کے اظہار، حکومتی پالیسیوں پر تنقید، اور قومی معاملات پر آزادانہ گفتگو کی اجازت دیتا ہے۔ تاہم