رمضان المبارک! زیادہ سے زیادہ برکات کا حصول ؟
(گزشتہ سے پیوستہ) رمضان المبارک میں اپنا نظام الاوقات مرتب کریں، جس میں صبح اٹھ کر تہجد، ذکر، دعائیں، سحری، نماز فجر اور تلاوت سے لے کر افطاری، تراویح ودیگر معمولات تک کے لیے مناسب وقت متعین ہو اور نیند
(گزشتہ سے پیوستہ) رمضان المبارک میں اپنا نظام الاوقات مرتب کریں، جس میں صبح اٹھ کر تہجد، ذکر، دعائیں، سحری، نماز فجر اور تلاوت سے لے کر افطاری، تراویح ودیگر معمولات تک کے لیے مناسب وقت متعین ہو اور نیند
علماء کرام نے رمضان المبارک کے استقبال اور تیاری کے لئے بہت سی اہم ہدایات اور تجاویز بیان فرمائی ہیں جن کا خلاصہ اس نیت کے ساتھ کالم کی زینت بنا رہا ہوں کہ تاکہ ہم رمضان المبارک کی زیادہ
یہ جملہ آج بھی کانوں میں گونجتا ہے: دیکھ لو گیلانی کو پڑھتے ہوئے نعت نبیﷺ پھر نہ پچھتانا کہ نبی کا نعت خواں دیکھا نہیں واقعی بعض شخصیات اپنی حیات ہی میں عہد بن جاتی ہیں اور رخصت ہو
ماہِ رمضان اسلامی سال کا وہ بابرکت مہینہ ہے جو اہلِ ایمان کے دلوں میں ایک خاص کیفیت پیدا کر دیتا ہے۔ یہ محض ایک مہینہ نہیں بلکہ روحانی بیداری اور اصلاحِ باطن کا زمانہ ہے۔ گویا یہ وہ مرحلہ
(گزشتہ سے پیوستہ) ارشاد باری تعالیٰ ہے اے لوگو!جو ایمان لائے ہو شیطان کے نقش قدم پر نہ چلواس کی پیروی کوئی کرے گا تو وہ اسے فحش اور بدی ہی کا حکم دے گا (النور21) حدیث میں ارشاد ہے
معاشرہ انسانوں کے مجموعے کا نام ضرور ہے، لیکن اس کی اصل روح اس کے اخلاق، اقدار اور کردار میں پنہاں ہوتی ہے۔جب کسی قوم کے اندر حیاء، عدل، دیانت اور باہمی احترام جیسی صفات زندہ ہوں تو وہ قوم
ایک دوست نے اس خاکسار کے واٹسیپ پر ایک تصویر بھیجی ہے،تصویر میں دکھائی دینے والا منظر بظاہر سادہ ہے، ایک شخص کینیڈا کے ڈرائیونگ لائسنس سینٹر میں قطار میں کھڑا ہے۔ کیپشن بتاتا ہے کہ یہ سندھ کے وزیر
جمعیت علماء اسلام کے مرکزی ترجمان محمد اسلم غوری کہتے ہیں کہ جے یو آئی سربراہ مولانا فضل الرحمان کی کردار کشی افسوس ناک ہے ،قیادت کے خلاف ہر پروپیگنڈے کا ڈٹ کرمقابلہ کرنا آتا ہے۔دلیل کی بنیاد پر اختلاف
(گزشتہ سے پیوستہ) ترجمہ:جس میں چار خصلتیں ہوں گی، وہ خالص منافق ہے اورجس شخص میں ان خصلتوں میں کوئی ایک خصلت پائی جائے، تو اس میں نفاق کی ایک خصلت ہے، وہ اسے چھوڑ دے: جب اس کے پاس
کوئی حکمرانوں ،سیاست دانوں ،دانشوروں، اینکرز ، اینکرنیوں،پروفسروں اور نام نہاد دینی سکالرز سے پوچھ کر بتائے کہ وہ سارے مل کر پاکستان میں جھوٹ کے کتنے سمندر بنانا چاہتے ہیں ؟سب جانتے ہیں کہ بے بنیادی باتوں کو لوگوں