بسنت؟وزیر اعلیٰ کا شوق سلامت رہے
خبر یہ ہے کہ بسنت کے موقع پر پتنگ بازی یعنی گڈی اور ڈور خرید و فروخت پر لاہوریوں نے صرف چار دنوں میں ایک ارب 22 کروڑ خرچ کر ڈالے ، بادشاہ نے کہا، شہر کو آگ لگا کر
خبر یہ ہے کہ بسنت کے موقع پر پتنگ بازی یعنی گڈی اور ڈور خرید و فروخت پر لاہوریوں نے صرف چار دنوں میں ایک ارب 22 کروڑ خرچ کر ڈالے ، بادشاہ نے کہا، شہر کو آگ لگا کر
کیا واقعی یہ وہی مغرب ہے جسے ہم ترقی، تہذیب اور انسانی حقوق کا علمبردار سمجھتے آئے ہیں؟ کیا یہ وہی مہذب دنیا ہے جو ہمیں ہر وقت عورتوں کے حقوق، بچوں کے تحفظ اور قانون کی حکمرانی کا درس
حالیہ دنوں میں توہین رسالت کے خلاف قانون تعزیرات پاکستان کی دفعہ 295سی میں ترمیم کے لئے ایک دفعہ پھر گھنائونی سازشوں کا آغاز کر دیا گیا ہے۔سوشل میڈیا پر مقدس ہستیوں بالخصوص حضور ﷺ کی توہین پر مبنی بدترین
لنڈے کے لبرل، سیکولر شدت پسندوں اور ہمارے حکمرانوں نے بھارت کو ہمیشہ ’’ریلیف‘‘دینے کی کوشش کی، لیکن بھارتی فوج بھارتی میڈیا اور بھارت کے حکمرانوں نے پاکستانی قوم کو جواب میں ہمیشہ تکلیف دی، پاکستانی قوم کو ’’دانش فروشوں‘‘کا
پاکستان کی تاریخ میں بعض لمحات ایسے ہوتے ہیں جو محض ایک ملاقات نہیں بلکہ ایک علامت بن جاتے ہیں۔ ڈی جی آئی ایس پی آر کا جامعہ دارالعلوم کراچی کا دورہ بھی ایسا ہی ایک اہم لمحہ ہے، جو
پاکستان کی تاریخ میں بعض لمحات ایسے ہوتے ہیں جو محض ایک ملاقات نہیں بلکہ ایک علامت بن جاتے ہیں۔ ڈی جی آئی ایس پی آر کا جامعہ دارالعلوم کراچی کا دورہ بھی ایسا ہی ایک اہم لمحہ ہے، جو
جنگ ’’بنیان مرصوص‘‘کے بعد سے انڈیا کے بدمعاش وزیراعظم نریندر مودی کی طرف سے پاکستان کو دھمکیاں دی جا رہی تھیں ،مئی میں پاک فوج کے ہاتھوں شکست فاش کھانے کے بعد مودی پاکستان سے بدلہ لینے کا اعلان کر
میں دس سال کی عمر کے بچوں اور بچیوں کی شادی کروائوں گا اور اس قانون کو روند ڈالوں گا۔جمعیت علمائے اسلام (ف)کے امیر مولانا فضل الرحمن کا یہ تازہ بیان پاکستان میں کم عمری کی شادی کے خلاف قانون
آج کا مسلمان ایک ایسے دور میں سانس لے رہا ہے جہاں فکری انتشار، ذہنی دبائو اور عملی کمزوری نے اجتماعی قوت کو متاثر کر رکھا ہے۔ ہم اکثر زوال کے اسباب پر گفتگو کرتے ہیں، مگر ان قرآنی و
جب اصولوں کی جگہ ضد اور قانون کی جگہ سوشل میڈیا مہمات لے لیں تو مسئلہ صرف اختلافِ رائے کا نہیں رہتا بلکہ نظامِ انصاف پر اثرانداز ہونے کی کوشش بن جاتا ہے۔ ایمان مزاری کا کردار اسی کشمکش کی