Search
Close this search box.
منگل ,09 جون ,2026ء

تازہ ترین کالمز

اڑان پاکستان

پاکستان کی معیشت کے بارے میں ایک پرانی کہاوت ہے کہ یہاں ہر حکومت آتے وقت خزانہ خالی پاتی ہے اور جاتے وقت مزید خالی چھوڑ جاتی ہے۔ مگر اب تو معاملہ اس سے بھی آگے نکل گیا ہے۔ خزانہ خالی ہونے کی بات پرانی ہو چکی اب تو قرضوں کے انبار لگتے جا رہے ہیں اور ہر گزرتے سال

وقت کے پرندے کب اُڑ گئے

بچپن کے وہ دن، جب دنیا وسیع، پُرسکون اور امیدوں سے لبریز محسوس ہوتی تھی، آج بھی یادوں کے دریچوں میں روشن ہیں۔ اُن ایّام میں اتوار ایک ایسی خوشی کا پیامبر ہوتا تھا جس کا انتظار پورے ہفتے شدتِ اشتیاق سے کیا جاتا۔ گویا وہ ہفتے بھر کی محنت اور معمولات کے بعد مسرت کا ایک روشن چراغ تھا،

خلیفہ ثالث حضرت عثمان ذوالنورین رضی اللہ عنہ

(گزشتہ سے پیوستہ) بغض عثمان رضی اللہ عنہ کا انجام :سنن ترمذی میں حضرت عثمان رضی اللہ عنہ کے مناقب کے باب میں لکھا ہے کہ حضور ﷺ نے ایک شخص کی نمازِ جنازہ اس لیے چھوڑ دی کہ وہ سیدنا عثمان رضی اللہ عنہ سے بغض رکھتا تھا جس وجہ سے اللہ نے بھی اسے اپنی رحمت سے دور

پاکستانی سیاست کا دائمی ابہام

پاکستانی سیاست میں بعض جملے خبر سے زیادہ اثر رکھتے ہیں۔ یہ جملے بظاہر مختصر ہوتے ہیں لیکن ان کے اندر کئی مفروضے، اندیشے اور سیاسی اشارے پوشیدہ ہوتے ہیں۔ ایک معروف صحافی کا یہ کہنا کہ ’’اب جو ہونے جا رہا ہے، مسلم لیگ ن کو پیغام پہنچ چکا ہے‘‘ بھی ایسا ہی ایک جملہ ہے جس نے سیاسی

سندھ میں خیبرپختونخوا والا خونی تجربہ؟

خیبرپختونخوا کی روایتی سیاست ملک، خان، مشر اور سردار کے گرد گھومتی تھی، جہاد افغانستان اور بعد میں امریکہ کے خلاف طالبان کی جنگ آزادی کے دوران خیبرپختونخوا، بلوچستان کے پشتون علاقے، جنوبی پنجاب اور کراچی جہاد افغانستان کا کچھ براہ راست اور کچھ بالواسطہ بیس کیمپ بنے رہے، ان تیس چالیس برسوں میں افغانستان میں جو تبدیلیاں آئیں وہ

ابراہیمی معاہدات یا ضمیر کا امتحان؟

(گزشتہ سے پیوستہ) یہاں یہ بھی سمجھنے کی ضرورت ہے کہ آخرٹرمپ ایران معاہدہ کوابراہیمی معاہدات کے ساتھ کیوں جوڑنا چاہتے ہیں؟یہ دراصل ایک بڑی تصویرکا حصہ ہے جس میں مشرقِ وسطیٰ کوایک نئے سیاسی نظام میں ڈھالنے کی کوشش کی جارہی ہے۔یہ تصوربظاہرپرکشش مگرعملی طور پر پیچیدہ ہے۔ٹرمپ ان معاہدات کووسعت دیکراسے اپنی خارجہ پالیسی کی کامیابی کے طورپر

کالم پروفائل