تازہ ترین  
جمعرات‬‮   15   ‬‮نومبر‬‮   2018

سندھ طاس معاہدے پر بھارت سے مذاکرات ضروری ہیں : صدر مملکت


صدر عارف علوی نے کہا کہ اللہ تعالی نے پاکستان کو وسائل سے مالامال کیا، پاکستان کو بہترین نہری نظام ملا تھا لیکن قیام پاکستان کے بعد منگلا اور تربیلا سمیت چند ہی ڈیم بنائے گئے اور وقت کے ساتھ پانی کے استعمال میں اضافہ اور ذخائر میں کمی ہوئی۔ انہوں نے کہا کہ پانی کو محفوظ اور ذخیرہ کرنا بنیادی مسئلہ ہے۔ ماحولیاتی آلودگی پر بھی قابو پانا ضروری ہے۔ ان خیالات کا اظہار انہوں نے گزشتہ روز سپریم کورٹ کے زیراہتمام پانی کے مسئلے پر آبی کانفرنس کے موقع پر کیا۔
امر واقع یہ ہے کہ چیف جسٹس سپریم کورٹ کی اپیل پر چودہ اکتوبر سے اب تک چھ ارب روپے سے زائد رقوم ڈیم فنڈ میں جمع ہوچکی ہے۔ جسٹس آف پاکستان جسٹس ثاقب نثار نے سمپوزیم کا افتتاح کرتے ہوئے کہا کہ پانی کے مسئلے پر 40 سال تک مجرمانہ غفلت کی گئی، پانی زندگی ہے اور ہماری بقا کا مسئلہ ہے۔ پانی زندگی کے لیے ضروری ہے، پاکستان شدید آبی بحران کا شکار ہے اور پانی کی قلت دور کرنے کے لیے وسائل پیدا کرنے کی اشد ضرورت ہے۔ پانی کے بغیر زندگی کا وجود ناممکن ہے، زرعی ملک ہونے کے ناطے پاکستان کے لیے پانی نہایت اہم ہے لیکن پاکستان میں آبی ذخائر تیزی کے ساتھ ختم ہوتے جارہے ہیں، اقدامات نہ کئے تو خشک سالی کا سامنا کرنا پڑے گا۔ انسان خوراک کے بغیر زندہ رہ سکتا ہے لیکن پانی کے بغیر نہیں۔ مستقبل میں پاکستان آبی قلت کا شکار ہو سکتا ہے اس لیے دیامر بھاشا ڈیم کی تعمیر کے لئے ایمرجنسی بنیادوں پر اقدامات کیے جارہے ہیں۔
اس میں کوئی دو رائے نہیں کہ گزشتہ چالیس سال میں پانی اور بجلی کی ضروریات کو پورا کرنے کیلئے کوئی نیا ڈیم نہیں بنایا گیا بلکہ پانی کے خالصتا ًانسانی بقاکے مسئلے کو سیاست کی بھینٹ چڑھایا گیا ہے۔ صرف صدر ایوب خان کے دور میں سات ڈیمز بنائے گئے جن پر سارے ملک کا اب بھی انحصار ہے ۔ ضرورت اس امر کی ہے کہ کالا باغ ڈیم سمیت فوری طور پر چھوٹے بڑے ڈیمز کی تعمیر کاکام جنگی بنیادوں پر شروع کردیا جائے۔ سابق حکمرانوں نے غیر ملکی توانائی کے اداروں اور کمپنیوں سے دس بیس سالہ معاہدے کئے ہیں جن سے فی یونٹ چودہ روپے بجلی فروخت کی جاتی ہے جس پر حکومت صارفین کو سبسڈی دے کر بجلی فراہم کررہی ہے ۔ پاکستان میں توانائی کے شعبے سے منسلک سرکاری مافیا اور اداروں نے سیاسی اشرافیہ کی ملی بھگت سے ایسا ظالمانہ نظام وضع کررکھا ہے کہ ہر سال پاکستان سے اربوں روپے فرنس آئل کی مد میں جارہے ہیںتھرمل کول اور فرنس آئل سے چلنے والے یہ پلانٹ قومی خزانے کو کھا رہے ہیں ۔جبکہ ہائیڈل منصوبے پاکستان کی اصل ضرورت ہیں اس طرف توجہ دی جانی ضروری ہے سارا سال بہنے والے دریائوں اور ندی نالوں پر پانی سے بجلی پیدا کرنے کے چھوٹے بڑے یونٹس لگاکر اس بحران کو ہمیشہ کیلئے ختم کیا جاسکتا ہے ۔ہر شخص کو سستی ترین بجلی بھی سارا سال فراہم کی جاسکے گی اور پاکستان میں زراعت بھی ترقی کرے گی برآمدات بڑھیں گی اور درآمدات بھی اپنی سطح پر آجائیں گی۔ قومی خزانے اور وسائل کا بھی ضیاع نہیں ہوگا ۔ نئے آبی ذخائر میں اضافے کے لیے عدلیہ بھی اپنا کردار ادا کر رہی ہے،قوم بھی اپنے حصے کا کردار ادا کررہی ہے ہمارے پاس بڑے ڈیموں کی تعمیر کے لیے سرمایہ نہیں اس لیے بڑے ڈیموں کی تعمیر کے لیے فنڈ قائم کیا جس میں فوجی جوانوں ، پنشنرز اور بچوں نے بھی پیسے دیئے ہیں۔ دنیا میں تیزی کے ساتھ درجہ حرارت تبدیل ہو رہا ہے اور پاکستان بھی موسمیاتی تبدیلیوں کا شکار ہے۔ ہمیں اپنی قوم کو خشک سالی، قحط اور سیلابوں سے بچانا ہوگااور پاکستان کو قلت آب سے نمٹنے کے لیے فوری اقدامات کرنا ہوں گے۔
پاک قطر تعاون کا فروغ:منی لانڈرنگ روک کر معاشی مسائل پر قابو پا سکتے ہیں: عمران
وزیراعظم عمران خان کی زیر صدارت پارٹی رہنماوںکے اجلاس میں سیاسی اور اقتصادی صورتحال کا جائزہ لیا گیا۔ وزیراعظم کے مجوزہ دورہ سعودی عرب سے متعلق مشاورت کی۔ سعودی عرب میں سرمایہ کاری کانفرنس پر بھی بات چیت کی گئی۔اجلاس میں میڈیا میں حکومتی بیانیہ اجاگر کرنے سے متعلق مشاورت کی گئی۔ علاوہ ازیں عمران خان سے بزنس کمیونٹی نے ملاقات کی۔ وزیراعظم نے کہا کہ ملک مشکل معاشی حالات سے دوچار ہے۔ بزنس کمیونٹی نے ڈیم فنڈ کیلئے 9 کروڑ 19 لاکھ روپے کا چیک دیا۔ ڈیم فنڈ کیلئے صدر نیشنل بنک کی جانب سے ایک کروڑ 95 لاکھ روپے کا چیک دیا گیا۔ عمران نے کہاکہ ماضی کی حکومتوں نے اداروں کومکمل طور پر تباہ کردیا۔ آج بڑے قومی ادارے خسارے کے بوجھ تلے دبے ہوئے ہیں۔ تاجر برادری نے کہا کہ نیا پاکستان بنانے کی مہم میں حکومت کے ساتھ ہیں۔ مشکل معاشی حالات سے نبردآزما ہونے میں حکومت کا بھرپور ساتھ دیں گے۔
اس میں کوئی دورائے نہیں کہ اگر محض بیرون ملک سے ترسیلات زر قانونی طریقوں سے ملک بھیجی جائیں اورہم منی لانڈرنگ پر قابو پانے میں کامیاب ہو جائیں تو معاشی مسائل پر قابو پا لیں گے، بزنس کمیونٹی کے تعاون سے معاشی عمل کو آگے بڑھایا جائے۔ ملک اس وقت اپنی معاشی تاریخ کے مشکل معاشی حالات سے دوچار ہے۔ ماضی کی حکومتوں نے جہاں ملک کو ایک طرف اندرونی اور بیرونی قرضوں کی دلدل میں دھکیل دیا وہاں اداروں کو مکمل طور پر تباہ کردیا گیا اور آج حالت یہ ہے کہ بڑے بڑے قومی ادارے خساروں کے بوجھ تلے دبے ہوئے ہیں۔ سٹیل مل، پی آئی اے، پاکستان ریلوے سمیت جس ادارے کوبھی دیکھیں وہاں اربوں روپے کے نقصانات ہیں۔ ماضی کی حکومتوں نے ملک کے ساتھ جو کیا وہ دشمن بھی نہیں کرتے۔ ملک میں وسائل کی کمی نہیں لیکن جس انداز میں اور جتنا بڑا ڈاکہ اس ملک پر مارا گیا اس کی مثال نہیں ملتی۔ صورتحال یہ ہے کہ آج ریڑھی والوں، چھابڑی والوں اور فوت ہوئے لوگوں کے بنک اکائونٹس سے کروڑوں اربوں روپے نکل رہے ہیں۔ ماضی کے حکمرانوں کی غلط کاریوں اور غلط پالیسیوں کا خمیازہ آج قوم کو بھگتنا پڑ رہا ہے، موجودہ وقت بلاشبہ ایک مشکل وقت ہے لیکن پاکستانی قوم میں بے پناہ صلاحیت ہے ۔دوسری طرف وزیر اعظم عمران خان نے دورہ چین سے قبل سی پیک منصوبے کے لئے قائم خصوصی کابینہ کمیٹی کی تشکیل نو کر دی ہے۔
گزشتہ روز وزیراعظم عمران خان سے قطر کے وزیر خارجہ نے ملاقات کی اورشیخ محمد بن عبدالرحمان الثانی نے امیر قطر کی جانب سے مبارکباد کا پیغام پہنچایا۔ قطری وزیر خارجہ نے کہا کہ پاکستان کے ساتھ دوطرفہ تعلقات کا فروغ چاہتے ہیں۔ وزیراعظم نے قطری سرمایہ کاروں کو پاکستان میں سرمایہ کاری کی دعوت دی۔ وزیراعظم نے قطر کی طرف سے ایک لاکھ پاکستانیوں کو روزگار دینے کے فیصلے کا خیرمقدم کیا۔ وزیراعظم نے کہا کہ قطر کے ایک لاکھ پاکستانیوں کو روزگار دینے کے فیصلے پر جلد عملدرآمد کے خواہشمند ہیں۔ قطری وزیرخارجہ نے کہا کہ پاکستان کی ترقی وخوشحالی کیلئے ہرممکن کردار ادا کریں گے۔ یہ امر خوش آئند ہے کہ امیر قطر پاکستان کے ساتھ قریبی تعلقات کو مضبوط کرنے کے خواہشمند ہیں۔ دو طرفہ تجارت میں اضافہ کو ضروری ہے۔
ہماری رائے میں قطر کی اس فراخدلانہ اور اسلامی جذبہ اخوت سے لبریز پیش کش کا فوری طور پر فائدہ اٹھایا جانا چاہئے وزیر اعظم نے قوم کے نوجوانوں سے لاکھوں ملازمتیں دینے کا وعدہ کیا تھا یہ اس وعدے کی تکمیل بن سکتا ہے ہنر مند اور غیر ہنر مندوں کو میرٹ پر قطر بھجوایا جائے تاکہ ملک کو زرمبادلہ کی صورت میں فائدہ ہو جبکہ ہم وزیر اعظم کو یہ تجویز بھی دینگے کہ وہ اپنے مجوزہ دورہ سعودی عرب میں بھی سعودی قیادت سے افرادی قوت کیلئے پاکستانیوں توکو ترجیح دینے کی بات کریں جبکہ دوسری سعودی عرب کے بعد انہیں دیگرعرب ممالک کا بھی دورہ کرنا چاہئے اور ہر اس ملک میں جاناچاہئے جہاں پاکستانی ہنر مندوں کی کھپت ہو تاکہ لاکھوں بیروزگار پاکستانی اپنے معاشی مسائل کو بھی حل کر سکیں اور ملک کیلئے بھی مفید ثابت ہوں۔ ہم یہ بھی تجویز دیںگے کہ اسلامی ممالک کی قیادتوں کو اس بات پر قائل کیا جائے کہ وہ بھارتی اور دوسرے ممالک کی بجائے پاکستانی ہنرمندوں کو ترجیح دیں۔
مقبوضہ کشمیر میں بھارتی فوج کا ریاستی جبر اور ظالمانہ کارروائیاں
مقبوضہ کشمیر میں بھارتی فوج کا ریاستی جبر اور ظالمانہ کارروائیاں جاری ہیں،غاصب بھارتی فوج نے نام نہاد آپریشن کے لئے کئے گئے سرچ آپریشن کے دوران فائرنگ کر کے مزیدچھ کشمیریوں کو شہید کر دیا، قابض فوج نے وادی میں چادر اور چار دیواری کے تقدس کو پامال کیا، حریت قیادت کی کال پر بعد نماز جمعہ پر امن احتجاج بھی کیا گیا‘تعلیمی ادارے بند ، وادی میں بھاری تعداد میں پیرا ملٹری فورسز تعینات۔
امر واقع یہ ہے کہ گزشتہ ماہ کشمیر میں بھارتی فوج کی ریاستی دہشت گردی کے نتیجے میں خاتون سمیت بیالیس کشمیری شہید ہوئے تھے۔ستمبر کے مہینے میں بھارتی فوج کی ریاستی دہشت گردی سے ہونے والی شہادتوں کے نتیجے میں پانچ خواتین بیوہ جبکہ بارہ بچے یتیم ہوئے۔قبل ازیں اگست میں بھارتی فوج کے ظلم و جبر کے نتیجے میںچونتیس کشمیری شہیدہوئے تھے۔کشمیر میں جاری تشدد میں گزشتہ دہائی میں تیزی سے کمی آئی تھی لیکن گزشتہ سال بھارتی فوج کے آپریشن آل آٹ کے نتیجے میں ساڑھے تین سو شہادتیں اور وادی میں جاری کشیدگی میں مزید اضافہ ہوگیا۔
ہماری رائے میں یہ اعداد وشمار عالمی برادری کی آنکھیں کھولنے کیلئے کافی ہیں دنیا میں کسی آزادی کی تحریک میں روازنہ کی بنار پر درجنوں افراد کی شہادتیں نہیں ہوئیں۔ ہم سمجھتے ہیں کہ اقوام متحدہ سمیت امریکہ برطانیہ اور دیگر ممالک کی قیادتوں کو بھارت کے ان مظالم کا سختی سے نوٹس لینا چاہئے اور بھارتی قیادت کے ساتھ اس انسانی مسئلے پر کھل کر بات کرنی چاہئے آزادی کی قانونی اورا قوام متحدہ کی قراردادوں کے مطابق اپنے حق کیلئے لڑنے والوں کو کبھی دہشت گرد قرار دیا جاتا ہے اور کبھی شرپسند ،جبکہ بھارتی ریاستی مظالم اور مقبوضہ کشمیر میں جنگی جرائم پر توجہ نہیں دی جاتی۔ اس دوعملی کو اب ختم ہونا چاہئے ۔ دنیا کا سب سے بڑا جمہوری ملک ہونے کا دعویدار بھارت مقبوضہ کشمیر میں انسانی حقوق کی دھجیاں اڑ ا رہا ہے ۔ ہم سمجھتے ہیں کہ کشمیریوں کو اپنے ہی گھر میں یرغمال بنا لیا گیا ہے اور کشمیر میں سوائے ریاستی جبر کے قانون نام کی کوئی چیز موجود نہیں۔




 سب سے زیادہ پڑھی جانے والی مقبول خبریں


آج کا مکمل اخبار پڑھیں

تازہ ترین خبریں


کالم /بلاگ


     
     
تمام اشاعت کے جملہ حقوق بحق ادارہ روزنامہ اوصاف محفوظ ہیں۔
Copyright © 2016 Daily Ausaf. All Rights Reserved