تازہ ترین  
بدھ‬‮   14   ‬‮نومبر‬‮   2018

صبر واسقامت کے پہاڑ


مقبوضہ جموں وکشمیر کے عوام ستر سال سے خاص طور پر 1989ء سے بھارتی ریاستی جبر کا انتہائی صبرو استقامت سے مقابلہ کر رہے ہیں ۔ نام نہاد جمہوریت ، سیکولرزم اور مذہببی رواداری کے جھوٹے بھارتی دعوے بین الاقوامی برادری کے سامنے بے نقاب ہوجاتے ہیں جب بھارتی فوج کشمیری مسلمانوں کی مساجد ،سکھوں کے گوردوارے اور عیسائیوں کے گرجے جلا دیتی ہے اور عبادت کرنے پر پابندی لگا دی جاتی ہے ۔ محرم الحرام کے مقدس مہینے میں ہر سال تعزیہ کے جلوسوں پر پابندی لگا دی جاتی ہے ۔جو کہ اسلامی تاریخ کا ایک سانحہ ہے ۔جو پوری امت کو ظلم وزیادتی کے خلاف جدوجہد کرنے کا لازوال سبق دیتی ہے ۔ قابض بھارتی فوج تعزیہ کے جلوسوں کے مناظر اور جذبہ سے خوفزدہ ہوجاتی ہے ۔یہ خوف ہی انہیں پابندی لگائے پر مجبور کرتا ہے ۔وہ جانتے ہیں کہ یہ وہ جذبہ ہے جو جارح شیطانی قوتوں کے انسانیت سوز مظالم کے خلاف ، مسلمانوں کے جذبہ آزادی کو قوت دیتی ہے ۔
بنیادی انسانی حقوق کی سنگین خلاف ورزیوں کے باوجود کشمیری اپنے بنیادی حق خود ارادیت کیلئے بے خوف ہو کرقربانیاں دے رہے ہیں ۔ مقبوضہ جموں وکشمیر 1947ء سے کربلا کا عملی نمونہ پیش پیش کررہا ہے ۔جہاں عفت مآب خواتین کی عزتیں پامال کی جاتی ہیں ، بزرگوں ،نوجوانوں اور بچوں کو بے دریغ شہید کیا جارہا ہے ۔ جس طرح کربلا میں مقدس لاشوں پر گھوڑے دوڑا کر بے حرمتی کی گئی ۔اسی طرح بھارتی فوجی پہلے نہتے اور بے گناہ کشمیری بچوںاور نوجوانوں کو شہید کرتے ہیں اور بعد میں ان کے جنازوں پر وحشیانہ فائرنگ کر کے جنازے میں شامل کشمیری مسلمانوں کو شہید کردیتے ہیں۔
بھارتیوں کی بزدلی اور احساس کمتری کا ثبوت یہ ہے کہ اسی لاکھ کشمیری عورتوں ،بچوں اور بزرگوں کے مقابلے میں آٹھ لاکھ سے زائد بھارتی فوجی تعینات ہیں ۔ جن کا مقصد کشمیریوں کی نسل کشی اور اپنا ناجائز قبضہ برقرا ررکھنا ہے ۔یہی قبضہ بھارت کی ٹوٹ پھوٹ کا سبب بن رہا ہے ۔کشمیریوں کی جدوجہد نے بھارت کی دیگر مقبو ضہ ریاستوں کی جدوجہد آزادی کو بھی ایک نیا حوصلہ دیا ہے ۔بنیادی انسانی کی خلاف ورزیاں اوربھارتی فورسز کے جنگی جرائم پوری دنیا کے سامنے بے نقاب ہوچکے ہیں ۔بھارتی اس دبائو سے بچنے اور انسانیت کے خلاف اپنے جرائم پر پردہ ڈالنے کیلئے ریاستی اور کبھی پنچائتی الیکشن کا ڈھونگ رچاتا ہے ۔ حریت پسند قیادت تو پہلے ہی بھارتیوں کے پس پردہ عزائم سے جانتی تھی لیکن اب بھارتیوں کے ، اوچھے ہتھکنڈے اور بدنیتی اس قدر عام ہوچکی ہے کہ اب اس کی کٹھ پتلیاں اور حمایتی بھی اس کا ساتھ دینے سے انکاری ہیں ۔وہ جان چکے ہیں کہ بھارت ڈھونگ انتخابات کی شکل میں دنیا کو دھوکہ دینے اور کشمیریوں کو اپنا حمائتی ثابت کرنے کی کوشش کرتا ہے ۔ اس لئے پی ڈی پی او رنیشنل کانفرنس جیسی جماعتوں نے بھی بھارتی مکروہ عزائم کے پیش نظراس ڈھونگ کا بائیکاٹ کردیا ہے ۔محبوبہ مفتی سابق کٹھ پتلی وزیر اعلی مقبوضہ جموں وکشمیر ،عمر عبداللہ سابق کٹھ پتلی وزیر اعلی مقبوضہ جموں وکشمیر۔ یا د رہے یہ وہی جماعتیں اور لو گ ہیں ۔جنہوں نے ابھی تک بھارت کی مقبوضہ جموں وکشمیر میں موجودگی کو سہارا دیا ہوا ہے ۔ اور ذاتی مصلحتوں کی وجہ سے کشمیریو ں پر ،مظالم اور ان کے قتل عام پر مجرمانہ خاموشی اختیار کی ہوئی تھی ،عوام کو دھوکہ دینے کیلئے ان کا احتجاج بھی دوستانہ ہی ہوتا تھا ،جنہیں یہ گمان تھا کہ چانکیائی بھارت مقبوضہ کشمیر کی خودمختاری کو کبھی نہیں چھیڑے گا ۔ قائد اعظم کی دور اندیشی اور ہندو ذہنیت کے بارے میں ان کے نظریا ت پر ان کا بھی یقین پختہ ہوچکا ہے ۔جس کا وہ برملا اظہار کرتے ہیں۔ان کی منافقت کا یہ عالم ہے کہ مقبوضہ جموں وکشمیر میں ہندوں کی یاترا کیلئے تو کوئی پابندی نہیں ۔ جبکہ سارے ہندو یاتری بھارت سے آتے ہیں ۔لیکن کشمیرکے حقیقی وارثوں پر پابندیاں ہیں کہ وہ اپنے مذہبی فرائض ادا نہیں کرسکتے ۔ اس دوران انہیں انسانیت سوز مظالم کا نشانہ بنایا جاتا ہے ۔ حیرت کی بات یہ ہے کہ انسانی حقوق کے نام نہاد چمپئین بھارتی مظالم پر مجرمانہ خاموشی اختیار کئے ہوئے ہیں ۔
تمام تر بھارتی ریاستی دہشت گردی اور انسانیت کی توہین کے باوجود کشمیر کے جرات مند عوام حق وسچ کی فتح کیلئے اپنی جدوجہد جاری رکھے ہوئے ہیں ۔ جتنی لازوال قربانیاں وہ دے رہے ہیں ۔ وہ جدوجہد آزادی کا ایک انمول باب ہیں ۔جو آئندہ آنے والی نسلوں کیلئے ، صدیوں تک مشعل راہ بنا رہے گا ۔ پوری حریت پسند دنیا ان کی جدوجہد اور صبر واسقامت کو سلام پیش کرتی ہے ۔




 سب سے زیادہ پڑھی جانے والی مقبول خبریں


آج کا مکمل اخبار پڑھیں

تازہ ترین خبریں


کالم /بلاگ


     
     
تمام اشاعت کے جملہ حقوق بحق ادارہ روزنامہ اوصاف محفوظ ہیں۔
Copyright © 2016 Daily Ausaf. All Rights Reserved