تازہ ترین  
بدھ‬‮   14   ‬‮نومبر‬‮   2018

مقبوضہ کشمیر میں بدترین دہشت گردی‘ عالمی برادری نوٹس لے :پاکستان


مقبوضہ کشمیر میں بھارتی درندگی کی انتہا نہتے لوگوں کے گھروں پر توپخانے سے گولہ باری‘ مظاہرین پر فائرنگ اور تشدد کے مختلف واقعات میں چودہ کشمیری شہید‘ چالیس سے زائد زخمی ضلع کولگام میں کرفیو کا نفاذ‘ انٹرنیٹ سروس بند ‘ حریت قیادت کا بھارتی ظالمانہ کارروائیوں کے خلاف ہڑتال کا اعلان‘ پاکستان کا بھارتی ریاستی دہشت گردی پر شدید احتجاج‘ عالمی برادری سے نوٹس لینے کا مطالبہ
مقبوضہ کشمیر میں ایک بار پھر بھارتی قابض فورسز کی طرف سے بیہمانہ مظالم کا سلسلہ شروع ہوگیا ہے اور چوبیس گھنٹوں میں آزادی کا حق مانگنے والوں پر وحشیانہ انداز میں فائرنگ کی گئی۔
پاکستان کی طرف سے مقبوضہ کشمیر میں حالیہ مظالم اور دہشت گردی کے خلاف شدید احتجاج کرتے ہوئے عالمی برادری سے مطالبہ کیا گیا ہے کہ وہ ان مظالم کا نوٹس لے‘ انسانی حقوق کی بدترین پامالیوں میں مصروف بھارتی قابض فوج کو انسانی جانیں لینے کی کھلی چھٹی دے دی گئی ہے اور انتہا پسند بھارتی وزیراعظم نریندر مودی نے علاقائی امن پر اپنی داخلی سیاست کو ترجیح دیتے ہوئے مقبوضہ کشمیر کے رہنے والوں کا جینا حرام کر رکھا ہے۔
ہم اس سے قبل بھی اوصاف کے اداریوں میں مسئلہ کشمیر کے حوالے سے لکھ چکے ہیں۔ المیہ یہ ہے کہ جن قوتوں کو ایسے روح فرسا مظالم کا نوٹس لینا چاہیے اور انسانیت اور امن کے تحفظ کے لئے اپنا کردار ادا کرنا چاہیے‘ انہوں نے دوہرا معیار اپنا رکھا ہے۔ کشمیریوں پر ہونے والے حالیہ مظالم کا امریکہ‘ برطانیہ‘ روس‘ اقوام متحدہ‘ عالمی انسانی حقوق کے علمبرداروں سمیت یورپی یونین کے کسی ملک نے بھی نوٹس نہیں لیا تاہم سعودی صحافی کے مظلومانہ انداز میں قتل پر ساری دنیاچیخ اٹھی ہے۔ وہ ایک فرد کا معاملہ ہے اور قابل مذمت ہے ‘تاہم مقبوضہ کشمیر میں روزانہ درجنوں بے گناہوں کو شہید کیا جاتا ہے ۔خواتین کی عصمتیں لوٹی جاتی ہیں‘ نوجوانوں کو اذیت خانوں میں ڈالا جاتا ہے‘ گھروں کو لوٹا اور جلانا ایک معمول بن چکا ہے۔ ریاست کے جابرانہ کالے قوانین کی آڑ میں انسانیت خون میں نہلائی جارہی ہے۔ یہ عالمی قوتوں کی مجرمانہ غفلت کا ہی نتیجہ ہے کہ بھارت نے مقبوضہ کشمیر میں ممنوعہ کیمیائی ہتھیاروں کا بھی استعمال کیا ہےجس پر عالمی برادری پر سکوت طاری ہے۔ گزشتہ دنوں بلدیاتی الیکشن کے دوران پوری وادی میں ان انتخابات کا بائیکاٹ نے ثابت کردیا کہ کہ کشمیری کسی صورت بھارت کی غلامی میں رہنا نہیں چاہتے۔
ہم سمجھتے ہیں چونکہ عالمی قوتوں نے اس خطے کو امن کی بجائے میدان جنگ بنا کر اپنے مفادات کا تحفظ کرنا ہے اس لئے وہ مجرمانہ خاموشی اختیار کئے ہوئے ہیں مشرقی تیمور میں ایک غیر مسلم ریاست کے لئے راتوں رات فیصلہ کیا گیا جبکہ ستر سال سے مقبوضہ کشمیر کے عوام اقوام متحدہ کی منظور کی جانے والی حق خودارادیت کی قراردادوں پر عمل درآمد کے منتظر ہیں۔ مقبوضہ کشمیر کے لوگ آزادی سے کم تر کسی سمجھوتے پر تیار نہیں ہیں۔ وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی سے اپنے خطاب اور امریکہ میں اعلیٰ سطحی ملاقاتوںمیں مسئلہ کشمیر پر پاکستان کے موقف اور کشمیریوں کا مقدمہ کھل کر پیش کر چکے ہیں۔ عالمی برادری کی ذمہ داری ہے کہ وہ بھارت کی جارح حکومت کا ہاتھ روکے‘ انسانی حقوق کی پامالیاں بند کرائے اور اقوام متحدہ کے انسانی حقوق کمیشن کی بھارتی مظالم کے بارے میں چشم کش رپورٹ کی روشنی میں عالمی اداروں کو مقبوضہ کشمیر تک رسائی دی جانی چاہیے تاکہ وہاں کے اصل حقائق دنیا کے سامنے آسکیں۔




 سب سے زیادہ پڑھی جانے والی مقبول خبریں


آج کا مکمل اخبار پڑھیں

تازہ ترین خبریں


کالم /بلاگ


     
     
تمام اشاعت کے جملہ حقوق بحق ادارہ روزنامہ اوصاف محفوظ ہیں۔
Copyright © 2016 Daily Ausaf. All Rights Reserved