تازہ ترین  
منگل‬‮   13   ‬‮نومبر‬‮   2018

جب چناب اور جموں سے مسلم آبادی کا صفایا کیاگیا


(گزشتہ سے پیوستہ)
وادی کے مسلمانوں نے ہندوئوں کا ہمیشہ احترام کیا۔ مسلمانوں کی نسل کشی کے واقعات کے باوجود وادی میںہندوئوں کے خلاف کوئی ایک بھی واقعہ رونما نہیںہوا۔ کشمیری مسلمان صرف اپنے حقوق کے لئے برسرپیکار ہیں جبکہ ہندو انتہا پسند جب بھی موقع ملے مسلمانوں کو تکالیف پہنچانے میں پیش پیش رہتے ہیں۔ آج بھی ویلج دیفنس کمیٹیوں میں شامل ہندو انتہا پسند چن چن کر مسلمانوں کا قتل عام کر رہے ہیں۔پنچ اور سرپنچ مقامی مسائل کی جانب متوجہ ہونے کے بجائے بھارتی فورسز کے آلہ کار بن رہے ہیں۔بھارتی فوج اس سلسلے میں تاریخ کا بدترین کردار ادا کر رہی ہے۔وہ کرگل جنگ کے دوران ہلاک ہونے والے بھارتی فوجیوں کے لئے تابوتوں کی خریداری کے سودے میں بھی کرپشن کرنے سے گریز نہیں کرتی جبکہ بو فورس توپوں کے سودوں میں اربوں کے سکینڈل فوج کے لئے بدنامی کا باعث بن چکے ہیں۔یہی فوج کشمیر میں فرضی جھڑپوں میں شہریوں کو شہید کر کے ترقیاں اور تمغے پاتی ہے ۔ بارودی سرنگیں نصب کر کے ان کی برآمدگی کے نام پر ترقیاں اور میڈلز وصول کرنے کے سکینڈلز بھی منظر عام پر آ رہے ہیں۔کولگام میں بھی میزائل اور مارٹر گولے داغنے کے بعد بارودی دھماکوں سے مکانوں کو زمین بوس کیا گیا۔ بھارتی فوج کی نصب بارودی سرنگیں پھٹنے سے کئی کشمیری شہید اور زخمی ہوئے۔
وادی میں پیلٹ گن، ٹیئر گیس شیلنگ، زہریلی گیسوں اور تباہی پھیلانے والے اسلحہ کا نہتے اور معصوم کشمیرہوں پر استعمال ہو رہا ہے۔اس قتل عام کے خلاف وادی چناب اور پیر پنچال سمیت کرگل کے عوام نے بھی ہڑتالی کیں۔ احتجاجی مظاہرے کئے۔ اس طرح انہوں نے بھی یک جہتی کا بھر پور اظہار کیا۔جس کے انتقام کے طور پر درجنوں افراد کو جیلوں میں ڈال دیا گیا۔شہداء کے نام پر سیاست چمکانے کا وقت گزر چکا۔ یہ مکار اور ایمان فروش لوگوں کا وطیرہ تھا۔شہداء کو خراج عقیدت پیش کرنے کا بہترین طریقہ اُن کی قربانیوں کو یاد رکھنا اور مشن کو پورا کرنے کے لئے جدید اور سائنسی تقاضوں کے مطابق عملی جدوجہدکرنا ہے۔
جموں ڈویژن کے 10اضلاع ہیں۔شہدائے جموں کا مشن تقسیم کشمیر یا چناب فارمولے پر عمل درآمد نہیں بلکہ اسلام کی وجہ سے پاکستان کے ساتھ والہانہ محبت، کشمیر کی مکمل آزادی تھا۔یہ دین کا رشتہ ہے، ورنہ کچھ نہیں۔ 1947ء کومسلمانوں کی نسل کشی اور انخلاء کے باوجود ضلع ڈوڈہ ، کشتواڑ ، پونچھ اور راجوری میں80فیصد مسلم آبادی ہے جبکہ ریاسی ، ادھمپور، کٹھوعہ اور جموں اضلاع میں مسلمان سب سے بڑی اقلیت کے طو رپر موجو دہیں۔اگرکشمیر کو دو قومی نظریہ کی بنیاد پر تقسیم کیا گیا تو 1947کی طرح مسلمانوں کی ایک بار پھر نسل کشی کا خدشہ پیدا ہو گا۔آج جموں کو ایک الگ بھارتی ریاست اور لداخ کو دہلی کا زیر انتظام علاقہ بنانے کے لئے ہندو انتہا پسندسرگرم ہیں۔دوسری طرف جموں خطے سے ہجرت کرنے والے پاکستان میں کراچی سے کوہالہ تک لاکھوں کی تعداد میں آباد ہیں۔انہیں دوہری شہریت حاصل ہے۔آزاد کشمیر اسمبلی میںمہاجرین جموں مقیم پاکستان کے لئے 6نشستیں مختص ہیں۔لیکن نئی نسل اپنے آباء و اجداد کی قربانیوں سے بے خبر اور لاتعلق ہو رہی ہے۔ ثقافت دم توڑ رہی ہے۔ایک دوسرے سے تعلق اور تعاون کے فروغ کا تصور رفتہ رفتہ مفقود ہو رہا ہے۔
تقسیم کشمیر کی سوچ گمراہ کن ہے ۔ شہدائے جموں کے مشن کا تقاضا ہے کہ کشمیری جسد واحد بن کر لسانی،علاقائی اور برادری ازم یا ادھر ہم ادھر تم جیسے فتنوںسے بچتے ہوئے شہداء کے مشن کو پورا کرنے کے لئے اپنا کردار ادا کریں۔کیا آپ جانتے ہیں شہداء کے بچے کس حال میں ہیں؟ آزاد کشمیر کی حکومت اب بھی عبوری حکومت ہے۔ اس کا آئین عبوری ہے۔ یہاں کے صدر، وزیر اعظم، سیاستدانوں، بیوروکریسی کو قوم کو تقسیم اور منتشر کرنے کے بجائے پوری ریاست جموں و کشمیر کو اپنا حلقہ سمجھنا چاہیے۔سیاستدان صرف جنگ بندی لائن پار کرنے کی کاغذی دھمکیاںدیتے ہیں۔ عملی طور پر بیس کیمپ کا کردار یہ ہے کہ سب ایک ہو کر جنگ بندی لائن کی طرف مارچ کرتے۔ اسلام آباد میں دنیا کے سفارتی مشنز کو صورتحال سے آگاہ کیا جاتا۔ بھارت کی نام نہاد سرجیکل سٹرائیکس کے دعوئو ں کے تناظر میں آزاد کشمیر کی آبادی کو جنگی تربیت اور اسلحہ دینے پر غور کیا جاتا ۔تعلیمی نصاب اسی تناظر میں ترتیب ہوتا۔ شہداء کی قربانیوں نے رنگ ضرور لانا ہے۔ ان شاء اللہ۔ کون اپنا مخلصانہ حصہ ڈالتا ہے اور کردار ادا کرتا ہے، یہ دیکھنا باقی ہے۔




 سب سے زیادہ پڑھی جانے والی مقبول خبریں


آج کا مکمل اخبار پڑھیں

تازہ ترین خبریں


کالم /بلاگ


     
     
تمام اشاعت کے جملہ حقوق بحق ادارہ روزنامہ اوصاف محفوظ ہیں۔
Copyright © 2016 Daily Ausaf. All Rights Reserved