تازہ ترین  
منگل‬‮   13   ‬‮نومبر‬‮   2018

12 ارب ڈالر کا خلا تھا، اب کوئی مالی بحران نہیںرہا: وفاقی وزیرخزانہ


وزیرخزانہ اسد عمر نے دعویٰ کیا ہے کہ ادائیگیوں کے توازن کا اب کوئی بحران نہیں، جو بھی تھاوہ ختم ہو چکا‘بارہ ارب ڈالر کا خلاتھا۔سعودی عرب نے چھ ارب ڈالر فراہم کیے اور باقی کچھ رقم چین سے ملی ہے ۔ہم نے نہ صرف پرانے معاہدوں پر نظرثانی کی ہے بلکہ نئے معاہدوں پر بھی دستخط کیے گئے ہیں ۔سی پیک سے متعلق غلط فہمیوں کو دور کرنے کابھی موقع ملا ہے ۔
وزیر اعظم کے کامیاب دورہ چین کے بعد دونوں ملکوں کے مابین 15 معاہدے ہوئے دونوں ملکوں کے مابین قیدیوں کے تبادلے کا بھی فیصلہ کیا گیا ہے۔ چین کے تعاون سے پاکستانی برآمدات کودوگناکیاجائے گا۔ہماری رائے میں وزیراعظم کادورہ چین انتہائی مفید رہااور سی پیک کے حوالے سے جو غلط فہمیاں پھیلائی جارہی تھیں ان کا اس دورے سے خاتمہ ہوا ہے ۔وزیر اعظم کی چینی قیادت کے ساتھ ملاقاتوں کے دوران غربت میں کمی، کرپشن کی روک تھام، زرعی اور برآمدی قوت میں اضافہ، پاکستان میں صنعتوں اور سرمایہ کاری کا فروغ، جوائنٹ وینچرز اور روزگار کے مواقع میں اضافہ سے متعلق امور پر تفصیلی بات چیت ہوئی جبکہ بھارت کے ساتھ بامعنی مذاکرات، افغانستان میں امن و استحکام، انسداد دہشت گردی، سیکورٹی، دفاع اور کثیر الجہتی فورمز پرتعاون کے حوالے سے بھی گفتگو ہوئی۔چین افغان مسئلے کے حوالے سے بھی ایک وژن رکھتا ہے اور روس کی بھی کوشش ہے کہ افغانستان میں بدامنی کا خاتمہ ہو اور امن کی کوششیں کامیاب ہوں۔ اسی حوالے سے دسمبر میں کابل میں پاکستان،چین اور افغان وزراخارجہ کا اجلاس ہو گا جس میں افغانستان میں امن اور مصالحت اور علاقائی تعاون کے حوالے سے امور زیر بحث لائے جائیں گے ۔ وزیر خزانہ اسد عمر نے یقین دلایا کہ سعودی عرب کی جانب سے فوری امدادی پیکیج اور اب چین کی طرف سے ملنے والی مالی امداد سے ادائیگیوں کی توازن کا اب کوئی بحران نہیں ہے تاہم وزیر خزانہ نے درست کہا کہ یہ مستقل حل نہیں ملکی معیشت کو مستحکم بنیادوں پر استوار کرنے کیلئے ہم پیداواری قوت اور برآمدات میں اضافے کیلئے کوششیں کر رہے ہیں۔
یہ امر خوش آئند ہے کہ چین پاکستان کے زر مبادلہ زخائر میں دو ارب ڈالر جمع کرائے گا اور پاکستان سے برآمدات تین گنا تک اضافہ کرے گا۔ اس سلسلے میں 9 نومبر کو بیجنگ میں ایک اجلاس ہو گا جس میں اس کی تمام تفصیلات طے کی جائیں گی۔ چین نے پاکستان کو یقین دہانی کرائی ہے کہ پاکستانی مصنوعات کی برآمدات مزید بڑھائی جائیں گی۔ اب صرف یہ طے کرنا ہے کہ دو ارب روپے پاکستانی زرمبادلہ میں جمع کرانے میں کتنی رقم چینی کرنسی میں ہوگی۔ہماری رائے میں پاکستانی صنعتکاروں کو اس سلسلے میں اپنی استعداد میں اضافہ کرناہوگا اب یہ ذمہ داری پاکستانی صنعتکاروں کی ہے کہ کیا وہ اس معیار پر پورے اترتے ہیں یا نہیں۔ اس کے علاوہ چین پاکستان کے لئے شوگر اور چاول کی برآمدات کے لئے ایک اسپیشل کوٹہ بھی جاری کرے گا۔
یہ امر خوش آئند ہے کہ چینی قیادت کے سامنے عمران خان نے حقیقی صورتحال رکھی اور چین نےبھی محض اعلانات پر اکتفا نہیں کیا بلکہ پاکستان کی ضروریات کو پورا کرنے کی کوشش کی۔ آرمی چیف اپنے دورے میں قبل ازیں پاکستان کی صورتحال کے حوالے سے چینی قیادت کو اعتماد میں لے چکے تھے ۔دوسری طرف امریکی نائب وزیرخارجہ ایلس ویلز کی قیادت میں امریکی وفد نے پاکستانی حکام سے اہم ملاقاتیں کیں جن میں پاکستانی حکام نے خاص طور پر بہتر اقتصادی اور تجارتی تعاون اور عوام سے عوام کے رابطوں پر توجہ مرکوز کرتے ہوئے تعلقات کو وسعت دینے کی ضرورت پر زور دیا۔
امر واقع یہ ہے کہ اس وقت پاکستانی ایکسپورٹ ایک سو پچاس ملین ڈالرز ماہانہ ہے جوبڑھ کر دو سو ملین ڈالر تک ہونے کی توقع ہے ہم سمجھتے ہیں کہ اس سے بھی پاکستانی معیشت کی صورتحال بہتر ہوگی۔ آئی ایم ایف کا وفدبھی پاکستان پہنچ چکا ہے۔ ہماری حکومت کو چاہئے کہ اس عالمی ادارے کی سخت شرائط کو کسی صورت بھی قبول نہ کریں اور قرضہ اپنی سہولت،ضرورت اور شرائط کے تحت ہی لے ۔




 سب سے زیادہ پڑھی جانے والی مقبول خبریں


آج کا مکمل اخبار پڑھیں

تازہ ترین خبریں


کالم /بلاگ


     
     
تمام اشاعت کے جملہ حقوق بحق ادارہ روزنامہ اوصاف محفوظ ہیں۔
Copyright © 2016 Daily Ausaf. All Rights Reserved