تازہ ترین  
منگل‬‮   13   ‬‮نومبر‬‮   2018

جامعہ حقانیہ کا پیغام؟


پیر کی شام روزنامہ اوصاف کے چیف ایڈیٹر محترم مہتاب خان کے ہمراہ میں ایک دفعہ پھر جامعہ حقانیہ اکوڑہ خٹک پہنچا تو ایسے لگا کہ جیسے ’’جامعہ‘‘ کے در دیوار بھی اپنے عظیم مہتمم حضرت مولانا سمیع الحق کی جدائی میں آنسو بہا رہے ہوں‘3نومبر کو ’’مولانا‘‘ کی نماز جنازہ میں شرکت کے لئے جب یہ خاکسار اکوڑہ خٹک آیا تھا تو بلامبالغہ وہاں لاکھوں فرزندان توحید موجود تھے اور آج بھی وہاں تعزیت کرنے والوں کا تانتا بندھا ہوا تھا۔
مغرب کی نماز جامعہ حقانیہ کی مسجد میں ادا کرنے کے بعد مولانا سمیع الحق شہید کے بیٹے مولانا راشد الحق ‘ داماد مولانا یوسف شاہ اور سابق ایم این اے مولانا شاہ عبد العزیز سے تفصیلی ملاقات ہوئی‘ محترم مہتاب خان نے ان سے تعزیت کرتے ہوئے کہا کہ ’’مولانا سمیع الحق کی شہادت پوری امت مسلمہ کے لئے بڑا سانحہ ہے‘ امن اور دوستی کا پرچار کرنے والی شخصیت کو اس قدر بے دردی سے قتل کر دینا شقاوت قلبی کی انتہا ہے۔مولانا کے بہیمانہ قتل پر دل خون کے آنسو رو رہا ہے ‘ مولانا سمیع الحق کی شہادت سے پاکستان ایک نڈر‘ محب وطن عالم دین اور ممتاز سیاستدان اور لاکھوں علماء اور طلباء ایک مشفق شیخ الحدیث سے محروم ہوگئے‘ مولانا سمیع الحق نے ہر مشکل وقت میں قوم کو صبروتحمل کی تلقین اور پاکستان کے دفاع کے لئے ایک طویل جدوجہد کی۔‘‘
روزنامہ اوصاف کی دینی حلقوں میں پذیرائی کی اصل وجہ جہاں ایک طرف اس کی اسلام پسند پالیسی ہے‘ وہاں چیف ایڈیٹر مہتاب خان کا علماء‘ صلحاء سے ذاتی تعلق اور قربت بھی ہے۔
قومی اخبارات میں یہ اعزاز بھی اوصاف کو ہی حاصل ہے کہ جس نے سب سے پہلے یعنی3 نومبر کے دن مولانا سمیع الحق شہید کی حیات و خدمات پر خصوصی ایڈیشن شائع کرکے اسلام اور علماء دشمن عناصر کے منہ پر زناٹے دار تھپڑ رسید کرنے کی کوشش کی ‘جس پر مولانا راشد الحق حقانی اور مولانا شاہ عبد العزیز نے علماء اور طلباء حقانیہ کی طرف سے نہ صرف شکریہ ادا کیا بلکہ روزنامہ اوصاف کی اسلام پسند پالیسیوں کو بھی سراہا۔
مولانا یوسف شاہ ‘ شاہ عبد العزیز اور مولانا راشد الحق کا اس خاکسار سے کہنا تھا کہ بھارتی خفیہ ایجنسی ’’را‘‘ اور افغان خفیہ ایجنسی کے خرکار سوشل میڈیا کے ذریعے مولانا سمیع الحق کی شہادت کے حوالے سے کچھ ناپاک خبریں پھیلانے کی کوششیں کررہے ہیں‘ امریکی دستر خوان پر راتب خوری کرنے والے بعض سیکولر شدت پسند ان ناپاک خبروں کو پھیلانے میں ان کے معاون بنے ہوئے ہیں‘ لیکن مولانا سمیع الحق شہید کے جنازے میں لاکھوں اسلام پسندوں کی شرکت اس بات کی گواہی دے رہی ہے کہ سمیع الحقؒ اک مرد مومن اور مرد حق تھے‘ جھوٹی خبریں پھیلا کر قوم کو گمراہ کرنے کی کوششیں کرنے والے این جی اوز کے ناپاک بلونگڑوں کو کوئی بتائے کہ جسے اللہ عزت دے ‘ ساری دنیا کے شیطان الٹے بھی لٹک جائیں وہ کبھی بے عزت نہیں ہوسکتا‘ ان کا کہنا تھا کہ مولانا سمیع الحق کے قتل کی کڑیاں افغانستان سے مل رہی ہیں‘ اس خاکسار نے عرض کیا کہ مولانا نے ساری عمر علم حدیث اور علوم قرآن کو پڑھنے ‘ پڑھانے میں گزری … وہ جہاد اور جہادیوں سے محبت کرتے رہے ‘ انہوں نے سیاست کے میدان میں بھی کامیابی کے جھنڈے گاڑے۔
اللہ نے انہیں شہادت عظمیٰ کی نعمت سے سرفراز کرکے ان کی اخروی کامیابی کا بھی ڈنکا بجا دیا … ’’شہادت‘‘ تو وہ عظیم نعمت ہے کہ جس کی تمنا خود آقا و مولیٰ حضرت محمد کریم ﷺ کیا کرتے تھے ‘ مولانا سمیع الحق ؒ اگر شہید نہ ہوتے تو اور کتنا عرصہ زندہ رہ لیتے؟بیاسی‘ تراسی سال تو ان کی عمر ہوچکی تھی … ممکن ہے کہ مزید دو ‘ چار ‘ دس سال زندہ رہ لیتے‘ مگر بالآخر مرنا تو تھا ہی ‘ لیکن اللہ نے انہیں شہادت کی موت دے کر جو سرفرازی عطا فرمائی ہے ‘ ان سے یہ اعزاز اب کوئی چھین نہیں سکتا‘ ان کے جسم پر لگنے والے خنجراور چھریاں تکلیف دہ تو بہت ہیں جس پر صرف ان کا خاندان ہی نہیں بلکہ پوری قوم افسردہ ہے‘ لیکن کسی مرد حق کو شہادت کی موت مل جائے اس سے بڑی خوش قسمتی کی بات کوئی دوسری ہو ہی نہیں سکتی۔
تحقیقات ہو رہی ہیں اور ہوتی رہیں گی ‘ کیا اس سے قبل اس ملک میں جید علماء شہید نہیں ہوئے؟ ولی کامل حضرت مولانا یوسف لدھیانویؒ کے گولیوں سے چھلنی لاشے کو‘ کون بھول سکتاہے؟ مفتی نظام الدین شامزی‘ مفتی محمد جمیل خان‘ مولانا محمد عبد اللہ‘ مولانا سعید جلال پوری‘ مولانا عبد الغفور ندیم‘ علامہ حسن ترابی‘ مفتی سرفراز نعیمی ‘ غرضیکہ کس کس شہید عالم دین کا نام لکھوں؟ یہاں تو شہداء کی ایک لمبی قطار ہے کہ دہشت گردوں نے طاغوتی طاقتوں کے ایما پر جن کے حسین وجود تہہ خاک سلا دیئے‘ ان کی تحقیقات بھی ہو رہی ہیں اور ہوتی ہی رہیں گی۔
شاید پاکستان میں بڑھتی ہوئی بے سکونی ‘ بے اطمینانی اور نحوست کا اک سبب یہ بھی ہے کہ یہاں بڑے بڑے اکابر علماء اور صلحاء کو نفرت کے سوداگروں نے خون میں نہلا کر شیطان اور اس کے حواریوں کی راہ ہموار کرنے کی کوشش کی ہم تعزیت کرکے ’’جامعہ حقانیہ سے رخصت ہونے لگے تو امن کمیٹی کے چیئرمین پیر سید اظہار بخاری نے مجھ سے مخاطب ہوکر کہا کہ ذرا جامعہ کا پیغام بھی سنیئے ۔‘‘ جامعہ حقانیہ زبان حال سے کہہ رہا ہے کہ ’’مولانا سمیع الحق ؒ تو خلدبریں جاپہنچے‘ مگر میں ابھی قائم و دائم ہوں اور یہاں سے قرآن و سنت کی خوشبو پہلے ہی کی طرح چہار دانگ عالم میں پھیلتی رہے گی‘‘۔
1947 ء میں قائم ہونے والا جامعہ حقانیہ71 سال کا ہونے کے باوجود ابھی تک کڑیل جوان ہے اور کسی اسلامی لشکر کے بہادر سپہ سالار کی طرح عالم کفر کی آنکھوں میں کانٹے کی طرح کھٹک رہا ہے ‘ آپ حضرات سرکار کی زیر کمان چلنے والی یونیورسٹیوں کی تعلیمی خدمات کا ریکارڈ بھی چیک کرلیجئے … تنہا جامعہ حقانیہ تعلیمی خدمات میں ان سب میں ممتاز نظر آئے گا۔
جامعہ حقانیہ نے طاغوت کے پھیلائے ہوئے خوف و ہراس اور بدنامی کے جھکڑوں میںبھی علم‘ تصوف اور جہاد کی شمع کو فروزاں رکھا‘ آج71 سال بعد ’’جامعہ‘‘ کو نئی اور جدید تعمیرات کا پیراہن پہنایا جارہا ہے ‘ اللہ کرے کہ عمارتوں کی جدت پسندی میں بھی قرآن و حدیث کے علوم کے ساتھ ساتھ ‘ بدر واحد کے معرکوں کی خوشبو بھی برقرار رہے۔ (آمین)
وما توفیقی الا باللہ




 سب سے زیادہ پڑھی جانے والی مقبول خبریں


آج کا مکمل اخبار پڑھیں

تازہ ترین خبریں


کالم /بلاگ


     
     
تمام اشاعت کے جملہ حقوق بحق ادارہ روزنامہ اوصاف محفوظ ہیں۔
Copyright © 2016 Daily Ausaf. All Rights Reserved