تازہ ترین  
منگل‬‮   13   ‬‮نومبر‬‮   2018

پاکستان بحران سے نکل گیا، وزیر خزانہ کا اعلان؟


٭وزیر خزانہ اسد عمر کا اعلان، پاکستان ادائیگیوں کے بحران سے نکل گیا !O..چین سے صرف دو ارب ڈالر کی یقین دہانی ملی ہے، مشیرتجارت عبدالرزاق داؤد !O..ملک کے تمام بینکوں کا ڈیٹا چوری ہو چکا ہے: ایف آئی اے !O.. قومی اسمبلی، ہنگامہ ختم، صلح،معذرت !O..پاکستان دہشت گردوں کی مالی امداد بند کرے، امریکی نائب وزیرایلس ویلز !O..یورپی یونین آسیہ بی بی کے خاندان کو پناہ دے گی، صدر یونین !O..مجھے گرفتارکرنے کی کوشش کی جارہی ہے: آصف زرداری !O..ایم کیو ایم نے ایک ارب40 کروڑ روپے باہر بھیجے: نیب !
٭مبارک سلامت! کہ وزیر خزانہ کے مطابق پاکستان ادائیگیوں کے بحران سے نکل گیا( بالکل عارضی طورپر) اور ذہن کہہ رہاہے کہ کس بات پر مبارک سلامت؟ ملک پر مزید 12 ارب ڈالر کے قرضوں کااضافہ ہورہاہے ، یہ کون ادا کرے گا؟آج خوش ہورہے ہو، کل کیا بنے گا؟ قارئین کرام! دل تو ہر وقت آتشِ نمرود میں کُودنے کے لیے تیار رہتا ہے مگر دماغ اس کی ایک نہیں چلنے دیتا۔ اب ذرادیکھیں عالم کیا ہے؟ وزیرخزانہ کا بیان کہ چھ ارب ڈالر سعودی عرب سے آرہے ہیں باقی چھ ارب کا بھی انتظام ہوگیا ہے، یوںبارہ ارب ڈالر کا خلا پورا ہوگیاہے۔ وزیر خزانہ نے ساتھ ہی یہ اشارا بھی دےدیا ہے کہ چین سے ڈالروں کی بجائے چینی کرنسی یوان میں امداد آسکتی ہے! تجارت و صنعتوں کے مشیر عبدالرزاق داؤد کہہ رہے ہیں کہ ابھی9 نومبر کو ایک وفد چین جا کر مذاکرات کرے گا وہاں سے دو ارب ڈالر ملنے کی توقع ہے! پھر بارہ ارب کیسے پورے ہوں گے؟ کچھ نہیں بتایا جا رہا!عجیب گورکھ دھندا ہے۔ سر دُکھنے لگا ہے! آئیے کوئی دوسری باتیں کرتے ہیں۔
٭ایف آئی اے کاانکشاف ہے کہ ملک کے تمام بینکوں کا کھربوں کا ڈیٹا چوری ہوچکا ہے، اس کے جعلی اے ٹی ایم کارڈ سر عام بک رہے ہیں۔ استغفار! یہ دن بھی دیکھنے تھے۔ بینکوں میں جمع سرمایہ کو محفوظ ترین سمجھا جاتا تھامگراب بینک سب سے زیادہ غیر محفوظ ہوگئے ہیں۔ گھر میں رکھےپیسوں کو چوروں سے بچایا جاسکتا ہے مگر بینکوں سے تو بیٹھے بٹھائے رقمیں ملک سے باہر منتقل ہورہی ہیں۔ خودایک بینک سے میرے 30 ہزار روپے چوری ہوچکے ہیں، دو ماہ سے تحقیقات ہورہی ہیں، ادائیگی نہیں ہورہی۔ سیدھی بات ہے کہ بینک سے کوئی رقم چوری ہوتی ہے تو یہ بینک کا معاملہ ہے، صارفین کوادائیگی کیوں روکی جاتی ہے؟
٭قومی اسمبلی میں پیر کے روز حکومتی اوراپوزیشن میں ’’ پاک بھارت جنگ‘‘ہوئی،ایک دوسرے پر چڑھائی، گالیاں اور شدید ہلڑ بازی!( اس بار میز نہیں ٹوٹے)۔ اس پر اس دن اجلاس ملتوی کردیاگیا تھا۔ ایک خاص ذات والے قبیلے کی خواتین کے بارے میں مشہور ہے کہ اس کی ایک دوسرے ہم سایہ خواتین دوپہرکو ہانڈی روٹی سے فارغ ہوکر چھت پر چڑھ کرایک دوسرے سے لڑنے لگتی ہیں۔ ایک دوسرے کے حسب نسب کے بارے میں نئے نئے انکشافات، نئے نئے امکانات کے اعلانات کا سلسلہ شام تک جاری رہتا ہے۔ شام ہونے پر دونوں طرف کی خواتین اپنی اپنی ہانڈیاں الٹی رکھ کر جنگ بندی کا اعلان کردیتی ہیں۔ اگلے روز مقررہ وقت پر ہانڈیاں سیدھی کردی جاتی ہیں اور لڑائی پھر شروع ہو جاتی ہے۔ قارئین کر ام!پیر کے روز قومی اسمبلی میں خاصے مناسب اور معقول ہلّے گُلّے اور گالم گلوچ کے بعد ہانڈیاں الٹی کردی گئی تھیں۔ بہت یقینی امکان تھاکہ اگلے روز منگل کے دن، اجلاس دوبارہ شروع ہوتے ہی ہانڈیاں پھر سیدھی کردی جائیں گی اور پانی پت کی ایک اور تاریخی لڑائی شروع ہو جائے گی۔ بہت سے حضرات تماشا دیکھنے کے لیے اسمبلی کی کی گیلریوں میں جمع ہو گئے۔ مگر وائے حسرت! کہ اجلاس بڑے پرامن طریقے سے شروع ہوا اورختم بھی ہوگیا۔ بقول غالبؔ ’’دیکھنے ہم بھی گئے تھے یہ تماشا نہ ہوا‘‘ ۔ گیلری نشینوں کو یہ جان کر بہت مایوسی ہوئی کہ پیر کے روز نہائت اثر انگیز ہنگامے کے بعد ایوان میں موجود تمام بڑی پارٹیوں کے بابے ایک جگہ مل بیٹھے اور پیر کے روز والے واقعہ پر اظہار افسوس اور اپنی اپنی پارٹیوں کی معذرت بھی پیش کی ۔ یوں بات آگے بڑھنے سے رک گئی۔ اس فیصلے سے اسمبلی کے رکن ان خواتین کو بھی بہت مایوسی ہوئی ہوگی جوکوئی الیکشن لڑے بغیر گھروں میں ہانڈی روٹی کرتے کرتے اچانک اسمبلیوں میں پہنچ جاتی ہیں۔آئین ،قانون وغیرہ ان کامسئلہ نہیں ہوتا۔ گھروں سے ہی اسمبلی میں کچھ کرنے کاسوچ کر آتی ہیں۔ پیر کے روز والابدترین ہنگامہ بھی ایک خاتون کے مخالف فریق پر سخت ناروا جملوں سےہوا تھا۔ کچھ قارئین کو شائد اسی اسمبلی میں 18فروری 1994 والا اسی قسم کا ماردھاڑ والا ہنگامہ یاد ہو جب یوسف رضا گیلانی سپیکر اور بے نظیر بھٹو دوسری باروزیراعظم بنی تھیں۔ مجھے ماضی کے انگریزی اخبار پاکستان ٹائمز میں مشہور کارٹونسٹ ’’ ننھا‘‘ کاایک کارٹون یاد آگیا ہے۔ ’’ننھا کے ماں باپ حسب معمول ناشتے کے بعد ایک دوسرے سے لڑنے لگتے ہیں اور ’’ننھا‘‘ دیوار پرکھڑا ہوکر اعلان کررہاہے کہ ’’ شو شروع ہوگیا ہے، جلدی ٹکٹیں خرید لیں‘‘۔
٭ایک امریکی خاتون کی بھی سن لیں۔ ایلس ویلزنام کی امریکہ کی یہ نائب وزیر خارجہ ہر دو تین ہفتے بعد پاکستان آ دھمکتی ہے اور درس دینے لگتی ہے کہ دہشت گردوں کی مالی امداد بند کرو! امریکہ ایک عرصے سے دنیا میں فساد پھیلا نے کے لیے اپنی خواتین کو ذمہ داریاں دے رہاہے۔ کنڈولیزا رائس ‘ ہیلری کلنٹن اور اب ایلس ویلز! عجیب بات ہے کہ ڈینگی بخار بھی مادہ مچھر ہی پھیلاتی ہے!
٭نیب کا اعلان کہ ایم کیو ایم کی قیادت نے منی لانڈرنگ کے ذریعے پاکستان سے ایک ارب40 کروڑ روپے الطاف حسین کو بھجوائے تھے۔ اس بارے میں ٹھوس ثبوت مل گئے ہیں۔ نیب نے ملک کے ان ’خیرخواہوں‘ کو تحقیقات کے لیے طلب کرلیا ہے۔ ان میں ایم کیو ایم کے بڑے ناموں کے علاوہ، دوموجودہ وفاقی وزیر بھی شامل ہیں! نام اخبار میں درج ہیں۔ کیا تبصرہ کیاجائے؟
٭یورپی یونین کے صدر انتونیو تاجانی نے بری ہونے والی آسیہ بی بی کے خاوند عاشق مسیح کویونین کے صدر دفتر برسلز( بلجیم) میں بلایا ہے تاکہ آسیہ اور ان کے خاندان کو سیاسی پناہ دیئے جانے کی تفصیل طے کی جاسکے۔ دریں اثنا اقوام متحدہ نے آسیہ کے وکیل سیف الملوک کے اس بیان کی تردید کی ہے کہ اسے زبردستی پاکستان سے باہر بھیجا گیا ہے۔ اقوام متحدہ کا بیان ہے کہ سیف الملوک نے خودایسی درخواست کی تھی، اقوام متحدہ کسی بھی ملک کے کسی شہری کو ملک بدر نہیں کر سکتی۔
٭ایک خبر : اسلام آباد کی احتساب عدالت میں میاں نوازشریف کیس کی سماعت کے سلسلے میں عدالتی کارروائی جاری تھی کہ اچانک ن لیگ کے سابق وزیر دانیال عزیز کمرہ عدالت میں داخل ہوئے اور وہاں پرموجود مسلم لیگی رہنماؤں سے مصافحے شروع کردیئے۔ اس پر عدالت بر ہم ہوگئی۔ نوازشریف کے ایک وکیل صفائی نے عدالت سے معذرت کی دانیال عزیز عدالتی آداب سے واقف نہیں ہیں۔ جج نے کہا یہ کیسے ہوسکتا ہے کہ بڑے بڑے عہدوں پر ( وفاقی وزیر) رہنے والا شخص عدالتی آداب سے واقف نہ ہو؟ فاضل جج نے سارجنٹ کے ذریعے دانیال عزیز کو عدالت سے باہر نکال دیا! اس واقعہ پر کچھ کہنے کی ضرورت نہیں۔ البتہ وکیل صفائی کی معذرت کے الفاظ پر اتفاق سا ہورہاہے کہ سیاسی پارٹی کوئی بھی ہو، بڑے عہدوں پر آنے والوں کے لیے عدالتی بلکہ کسی بھی قسم کے سیاسی، اخلاقی و حکمرانی کے آداب سے واقفیت ضروری نہیں، آباؤ اجداد کی جاگیر ہو، جیب میں پیسے ہوں، بس کافی ہے!




 سب سے زیادہ پڑھی جانے والی مقبول خبریں


آج کا مکمل اخبار پڑھیں

تازہ ترین خبریں


کالم /بلاگ


     
     
تمام اشاعت کے جملہ حقوق بحق ادارہ روزنامہ اوصاف محفوظ ہیں۔
Copyright © 2016 Daily Ausaf. All Rights Reserved