تازہ ترین  
جمعہ‬‮   16   ‬‮نومبر‬‮   2018

وزیراعظم کا پرتشدد احتجاج کے متاثرہ افراد کے نقصانات کے ازالے کا اعلان


وفاقی حکومت نے ملک بھر میں پرتشدد احتجاج کے واقعات کے دوران متاثرہ افراد کی داد رسی کا اعلان کرتے ہوئے کہاہے کہ شہریوں کی املاک کو پہنچنے والے نقصانات کا ازالہ کیا جائے گاجبکہ وزیراعظم عمران خان نے کہا ہے کہ ملک مشکل صورتحال سے گزر رہا ہے لیکن انشا اللہ آئندہ کچھ ماہ میں واضح بہتری دیکھنے میںآئی گی، اس ملک میں بے پناہ صلاحیت ہے، ملک میں دس کروڑ کی آبادی پینتیس سال سے کم عمر ہے جو اس ملک کی تقدیر بدلنے کی صلاحیت رکھتی ہے۔
وزیر اعظم کا کہنا تھا کہ پاکستان تحریک انصاف کی حکومت اپنے منشور کو عملی جامہ پہنانے کیلئے پرعزم ہے۔ امن و امان کا قیام اور قانون کی حکمرانی حکومت کی اولین ترجیح ہے۔ حکومتی وزرا ء کی کارکردگی کا جائزہ لینے کی روایت کی بنیاد رکھیں گے۔احتساب سے خائف عناصر کے شوروغل سے قطع نظر حکومت عوام سے کئے گئے وعدوں کو پایہ تکمیل تک پہنچانے کا تہیہ کئے ہوئے ہے۔ وزیراعظم عمران خان نے یمن کے مسئلے پر پاکستان کی طرف سے ثالثی کی پیشکش کی تھی اورکہا تھا کہ پاکستان اس حوالے سے اپنا بھر پور کردار ادا کرے گا تاکہ وہاں امن قائم ہوسکے اور اس مسئلے کا کوئی آبرومندانہ حل نکالاجاسکے،اسی ضمن میں یمن کے سفیر محمد مطہرالعشبی نے وزیر اعظم سے ملاقات کی جس میں وزیراعظم نے یمن میں دیرپا امن کیلئے نیک خواہشات کا اظہار کیا اور کہا کہ یمن کے مسئلے کا فوجی حل نہیں ہے، فریقین کو سیاسی حل پر لانے کیلئے کردار ادا کریں گے۔یہ درست ہے کہ یمن کے تنازع کافوجی حل نہیں ہے اور یمن کے مسئلے سے علاقائی امن واستحکام متاثر ہوا ہے۔فریقین کو سیاسی حل پر لانے کیلئے کردار ادا کیا جانا چاہئے ۔پاکستان منصور ہادی کی حکومت کی بحالی کیلئے حمایت جاری رکھے گا۔ ہماری رائے میں وزیر اعظم کی ان کو ششوں کو عالمی سطح پر پذیرائی ملنی چاہئے اور ایسا قابل قبول حل نکلنا چاہئے جس میں انسانی جانوں کا ضیاع رک جائے اور وہاں امن قائم ہوجائے۔ دنیا میں ہر مسئلے کا حل مذاکرات سے ہی نکالا گیا ہے اور اب بھی اسی طرف فریقین کو لایا جانا چاہئے ۔ دوسری طرف وزیر اعظم کا یہ فیصلہ صائب ہے کہ شہریوں کی املاک کو پہنچنے والے نقصانات کا ازالہ کیا جائے جب کہ وزیراعظم نے صوبائی حکومتوں کو معاوضہ پیکج تیار کرنے کی بھی ہدایت کی ہے۔حالیہ احتجاج کے بعد ملک بھر میں ہنگامہ آرائی کرنے والے افراد کے خلاف متعدد مقدمات درج کرتے ہوئے سینکڑوں افراد کو حراست میں لیا جاچکا ہے۔
ہماری رائے میں جن عناصر نے ملکی رٹ کو چیلنج کیا، عام لوگوں کی گاڑیوں کو جلایا اور عوامی املاک کا نقصان کیا انہیں سخت ترین سزا اور متاثرین کو معاوضہ ملنا چاہئے اور حکومت کو ایسی حکمت عملی اپنانی چاہئے کہ آئندہ ایسے واقعات کا اعادہ نہ ہو اور ایسی صورتحال ہی پیدا نہ ہونے دی جائے ۔امن و امان کا قیام اور قانون کی حکمرانی حکومت کی اولین ترجیح ہونی چاہئے اور حکومتی وزراء کی کارکردگی کا جائزہ لینے کی روایت کی بنیاد رکھی جائے کیونکہ عوام نے اس حکومت سے بے پناہ امیدیں وابستہ کرلی ہیں اور ان کی توقعات پر حکومت کو بہر حال پورا اترنا ہوگا ۔ یہ درست ہے کہ پی ٹی آئی نے نہایت مشکل مالی حالات میں حکومتی باگ دوڑ سنبھالی ہے۔ اب دوست ملکوں کی مدد سے اس وقت ملکی معیشت کو سہارا دیا جارہا ہے تاکہ عوام کو مشکلات سے ممکنہ حد تک ریلیف فراہم کیا جا سکے۔امید کی جاسکتی ہے کہ حکومت کے پچاس لاکھ گھروں کے منصوبوں سے جہاں لوگوں کو گھروں کی سہولت میسر آئے گی وہاں معیشت کا پہیہ بھی چلے گا اور نوجوانوں کو روزگار کے مواقع میسر آئیں گے۔ احتساب سے خائف عناصر کے شوروغل سے قطع نظر حکومت عوام سے کئے گئے اپنے وعدے کو پایہ تکمیل تک پہنچائے جائیں۔
آسیہ رہا ، بیرون ملک روانہ؟حکومت
صورتحال کی وضاحت کرے
سپریم کورٹ کی جانب سے بریت کے فیصلے کے بعد توہین رسالت کے الزام میں سزائیموت پانیوالی مسیحی خاتون آسیہ بی بی کوویمن جیل ملتان سے رہا کر دیاگیا،برطانوی ریڈیو کا کہنا ہے کہ آسیہ بیرون ملک روانہ ہوگئیں تاہم جونیئر افسر کا کہنا ہے کہ آسیہ کو رہا نہیں کیا گیا ۔
عدالت سے جاری کردہ روبکارموصول ہونے کے بعد آسیہ بی بی کوگزشتہ رات سنٹرل جیل ملتان کی ویمن جیل سیرہاکیاگیا اس موقع پرسخت حفاظتی انتظامات کئے گئے تھے روٹ بھی لگایاگیاتھا جبکہ دوسری جانب برطانوی نشریاتی ادارے کے مطابق آسیہ بی بی رہائی کے بعد بیرون ملک روانہ ہو گئی ہے۔ ملتان جیل سے آسیہ بی بی کو راولپنڈی کے نور خان ایئر بیس لایا گیا جہاں وہ اپنے خاندان سمیت ہالینڈ کیلئے روانہ ہو گئی ہیں۔
ہم سمجھتے ہیں کہ ان متضاد اطلاعات اور افواہوں کے بارے میں حکومت کو گو مگو کی کیفیت سے باہر نکلتے ہوئے قوم کو دو ٹوک الفاظ میں واضح کرنا ہوگا کہ کیا واقعی آسیہ مسیح کو بیرون ملک فرار کرادیا گیا ہے یا وہ ابھی ملک میں ہی ہے ۔ ہماری رائے میں حکومت نے ٹی ایل پی کے ساتھ جو پانچ نکاتی معاہدہ کیا تھا اس کی پاسداری حکومت پر لازم ہے اور اس تازہ ترین صورتحال میں حکومت کی طرف سے جامع وضاحت نہ آنا خدشات کی تصدیق کررہی ہے ۔عدالت میں دائر نظر ثانی اپیل کے فیصلے تک ملک سے اسے باہر نہیں جابھجوایا جانا چاہئے۔ مظاہرین سے معاہدے سے انحراف کے بعد حکومتی وزرا ء کے بیانات آسیہ مسیح کے حوالے سے تبدیل ہوگئے ہیں ۔
اگرچہ وزیرمملکت برائے داخلہ نے کہاہے کہ آسیہ بی بی کا نام ان پر جرم ثابت ہونے تک ایگزٹ کنٹرول لسٹ میں نہیں ڈالا جاسکتا۔ دینی جماعتیں اس خدشے کااظہارکررہی ہیں کہ حکومت آسیہ مسیح کوکسی بھی وقت بیرون ملک بھیج سکتی ہے اس حوالے سے ماضی میں بھی کئی مثالیں موجود ہیں کہ توہین رسالت کے الزام میں گرفتارافرادکوعدالت سے ریلیف ملنے کے بعد راتوں رات بیرون ملک بھیج دیاگیا ۔شہریار آفریدی کا موقف ہے کہ جب تک آسیہ بی بی کو کسی الزام میں مجرم قرار نہ دیا جائے یا اس ضمن میں کوئی عدالتی حکم نہ ہو، اس وقت تک ان کا نام ای سی ایل میں کسی صورت نہیں ڈالا جاسکتایہ ظاہر ہے کہ قانونی معاملہ ہے تاہم اگر نظر ثانی کی اپیل میں فیصلہ کچھ اور آتا ہے تو کیا حکومت اس پوزیشن میں ہوگی کہ اسے بیرون ملک سے واپس لاسکے جبکہ پاکستانی عدالتوں کو مطلوب درجنوں ایسے لوگ باہر مزے سے بیٹھے ہیں اور ریڈ وارنٹس جاری ہونے کے باوجود بھی انہیں واپس نہیں لایا جاسکا ہے ۔ان حالات میں یہ کہنا کہ سپریم کورٹ کے فیصلے پر نظرثانی کی اپیل ہر کسی کا قانونی اور شرعی حق ہے اور اپیل پر عدالت عظمیٰ جو حکم دے گی اس پر مکمل عمل درآمد ہوگابادی النظر میں یہ ممکن نظر نہیں آتا ۔ تحریک لبیک پاکستان کے قائد علامہ خادم حسین رضوی نےدرست کہا ہے کہ وزیراعظم معاہدے کی روح کے مطابق حکومت کی جانب سے کیے گئے وعدوں کو جلد از جلد پورا کروا کر ملک میں پھیلی بے چینی اور غیر یقینی صورتحال کا خاتمہ کریں۔ملکی سالمیت اور قوم کی آزادی سے کسی کو بھی کھیلنے کی اجازت نہیں دی جانی چاہئے ۔
ایران پر پابندیوں کے باوجود ہندوستان کو تیل
خریدنے کی اجازت دینادوہرا امریکی معیار
وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی نے کہا کہ افغانستان میں قیام امن کیلئے چین پاکستان اور افغانستان کے مابین سہہ فریقی مذاکرات جلد ہوں گے وزیراعظم کا دورہ سعودی عرب اور چین کے مثبت نتائج سامنے آئے ہیں مشرق وسطیٰ میں جاری کشیدگی کے خاتمے کیلئے پاکستان اپنی کوششیں جاری رکھے گا ۔
گزشتہ روز سینیٹ میں اظہار خیال کرتے ہوئے وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی نے کہا کہ امریکہ کی جانب سے ایران پر پابندیوں کے باوجود ہندوستان کو تیل خریدنے کی اجازت دینا اور پاکستان ایران گیس پائپ لائن منصوبے پر نظر رکھنا اس کا دوہرا معیار ہے ۔ آج پاکستان جس نہج پر کھڑا ہے۔ ضرورت اس امر کی ہے کہ پاکستان کو اس نہج پر پہنچانے میں کون کون ذمہ دار ہے اور یہ نوبت کیسے آئی اور جو دھائیوں سے ہم زوال پذیر ہورہے ہیں اس کی وجہ کیا ہے انہوں نے کہاکہ کاش قومی اسمبلی کا ماحول بھی سینیٹ جیسا ہوجائے اگر قومی اسمبلی کا ماحول ایسا ہی چلتا رہا تو ہم پارلیمنٹرینز سے قوم کی توقعات پوری نہیں ہوں گی۔وزیر خارجہ نے ایوان بالا میں حزب اختلاف کی طرف سے سعودی عرب اور چین کے حالیہ دورے پر پائے جانے والے خدشات کو رد کرتے ہوئے کہا کہ اپوزیشن کو دورہ سعودی عرب اور چین کے بارے میں شکوک و شبہات نہیں ہونے چاہئیں۔ دونوں ممالک کے دورہ میں پاکستان کی سالمیت اور خود مختاری پر کوئی سمجھوتہ نہیں کیا گیا ۔
امر واقع یہ ہے کہ سعودی عرب کی قیادت نے پاکستان کے دیرینہ دوست چین کی طرح پاکستان کی ہر مشکل کی گھڑی میں بھر پور مدد کی ہے اور پاکستان کو کبھی بھی مایوس نہیں کیا ۔ ہم سمجھتے ہیں کہ چین نے اپنی ملکی تاریخ میں پہلی مرتبہ اپنی مقامی کرنسی میں کسی ملک کے ساتھ تجارت بڑھانے کا فیصلہ کیا ہے۔ اگر چین پاکستان کے بعد کسی دوسرے ملک کے ساتھ بھی چینی کرنسی میں تجارتی و دیگر معاہدے کرتا ہے تو اس سے یقینی طور پر ڈالر کا دنیا بھر میں معیشت پر تسلط ختم ہوجائے گا اور دنیا ایک نئے معاشی دور میں داخل ہوجائے گی ۔اس وقت دنیا بھر میں ڈالر کی جارہ داری ہے اور اس میں کوئی دو رائے نہیں کہ سنٹرل بنک آف مریکہ روزانہ کی بنیاد پر کروڑوں ڈالر کمیشن کی صورت میں جمع کرتا ہے۔ہماری رائے میں سعودی عرب نے مشکل معاشی صورتحال میں جو امداد کا وعدہ کیا ہے اس سے معیشت میں غیر یقینی صورتحال کم ہوگئی ہے اور تین سالہ ادائیگیوں کی جو آفر کی ہے اور جو پیکیج ملا ہے اس میں کسی قسم کی شرائط نہیں ہیں ۔ وزیراعظم عمران خان کا دورہ چین بے حد مفید رہا ہے اور چین کے ٹاپ کے چار رہنمائوں نے متعدد علیحدہ نشستیں کیں۔یہ ایک تسلیم شدہ حقیقت ہے کہ اس وقت چین دنیا کی دوسری بڑی معیشت ہے اور پاکستان کو چین کے ساتھ اپنے تعلقات کو کیسے وسعت دینی ہیاس پر کسی کو ابہام نہیں رہنا چاہئے ۔




 سب سے زیادہ پڑھی جانے والی مقبول خبریں


آج کا مکمل اخبار پڑھیں

تازہ ترین خبریں


کالم /بلاگ


     
     
تمام اشاعت کے جملہ حقوق بحق ادارہ روزنامہ اوصاف محفوظ ہیں۔
Copyright © 2016 Daily Ausaf. All Rights Reserved