تازہ ترین  
جمعہ‬‮   16   ‬‮نومبر‬‮   2018

کشمیر کا مقدمہ اور ہمارا داخلی انتشار


نومبر میں پاکستان کی جانب ہجرت کرنے والے نہتے کشمیریوں کو ڈوگرہ سپاہیوں ، انتہا پسند ہندوئوں اور بھارتی افواج نے نہایت بے دردی سے شہید کر دیا تھا ۔ مقبوضہ کشمیر سمیت دنیا بھر میں مقیم کشمیری نومبر میں مظلوم شہدائے جموں کی یاد مناتے ہوئے بھارتی مظالم کی مذمت کرتے ہیں ۔ چند ہفتے قبل اقوام متحدہ کے ذیلی ادارے کی جانب سے کشمیر میں انسانی حقوق کی بدترین خلاف ورزیوں کی تفصیلات پر مبنی چشم کشا رپورٹ نے بھارت سرکار کے گھنائونے کرتوتوں سے پردہ اٹھایا تھا ۔ ِ گو مقبوضہ کشمیر کے معاملے میں مجموعی طور پر عالمی طاقتیں شرمناک مصلحت کا شکار ہیں لیکن گاہے بگاہے ایسے اقدامات بھی سامنے آتے ہیں کہ جنہیں دیکھ کر یہ امید تقویت پاتی ہے کہ بالآخر تحریک ِ حریت کامیابی سے ہمکنار ہوگی ۔
برطانوی پارلیمانی گروپ کی جانب سے مقبوضہ کشمیر کے متعلق جاری کی جانے والی حالیہ رپورٹ بھی ایک ایسا ہی احسن اقدام ہے کہ جس نے ڈنکے کی چوٹ پر بھارتی ریاستی اداروں کے بھیانک مظالم کا پردہ چاک کر ڈالا ہے ۔ اس رپورٹ کے منظرعام پر آنے سے مظلوم کشمیریوں کے مبنی برحق موقف کو تقویت ملی ہے ۔ یہ حقیقت ایک مرتبہ پھر دنیا پر منکشف ہوئی ہے کہ بھارتی افواج اور دیگر سیکورٹی ادارے مقبوضہ کشمیر میں نہتے عوام کے خلاف بد ترین جنگی جرائم کے ارتکاب میں ملوث ہیں ۔ برطانوی پارلیمانی گروپ کی رپورٹ کا وہ حصہ دل دہلا دینے والا ہے جس میں مقبوضہ کشمیر کے مختلف علاقوں میں دریافت ہونے والی اجتماعی قبروں میں مدفون شہدا کی شناخت سمیت بھیانک اجتماعی قتل میں ملوث سرکاری اہلکاروں کا تعین کرنے کے لیے جامع تحقیقات کا مطالبہ کیا گیا ہے ۔
القصہ مختصر برطانوی پارلیمانی گروپ کی رپورٹ نے دنیا پر یہ تلخ حقیقت منکشف کر دی ہے کہ مقبوضہ کشمیر میں انسانی حقوق کا کوئی تصور رائج نہیں ۔ ریاست خطے پر اپنا تسلط قائم رکھنے کے لیے ہتھیار کی طاقت پر انحصار کیے ہوئے ہے ۔ بھارتی آئین میں درج سیکیولرازم اور مذہبی آزادی کے دلکش اصول مقبوضہ کشمیر میں نافذالعمل نہیں ۔ دنیا کی سب سے بڑی جمہوریہ ہونے کے دعویدار بھارت نے کشمیر کو دنیا کے سب سے بڑے فوج زدہ خطے میں تبدیل کر دیا ہے ۔ تحریک حریت کشمیر ایک نازک مرحلے سے گذر رہی ہے ۔ بھارتی جنگی جنون اپنے عروج پر پہنچ چکا ہے ۔ نزدیک آتے الیکشن کی وجہ سے حکمران جماعت بی جے پی بھارت میں مسلم دشمن جذبات اور پاکستان مخالف جنگی جنون کو ہوا دے کے ووٹرز کو رجھانے کے لیے کشمیریوں کے خون سے ہولی کھیلنے سے دریغ نہیں کرے گی ۔ پاکستان پر بھاری ذمہ داری عائد ہوتی ہے کہ سفارتی محاذ پر جارحانہ حکمت عملی کے تحت بھارت کے کالے کرتوتوں کو دنیا کے سامنے آشکار کرتے ہوئے کشمیری عوام کی بھر پور ترجمانی جاری رکھے ۔ سابقہ حکومتوں کے تساہل اور نیم دلانہ رویے کی بدولت عالمی برادری کے سامنے پاکستان کی پوزیشن بھی خراب ہوئی اور اہلیانِ کشمیر کے دل بھی بارہا ٹوٹے ۔ برطانوی پارلیمانی گروپ کی رپورٹ میں اجتماعی قبروں کے ذکر نے یہ ثابت کردیا ہے کہ بھارتی ریاستی ادارے اجتماعی قتل عام جیسے بھیانک جنگی جرائم میں ملوث ہیں ۔
ایک سعودی صحافی کے سفاکانہ قتل پر عالمی میڈیا پر واویلا مچ سکتا ہے تو ہزاروں مظلوم کشمیریوں کے سفاکانہ قتلِ عام اور منظم نسل کشی پر حشر بپا کیوں نہیں ہو سکتا ۔ ہمیں یہ تلخ حقیقت تسلیم کرنی چاہیے کہ بطور ریاست ہم مظلوم کشمیری عوام کی بھر پور معاونت اور وکالت کرنے میں کوتاہی کے مرتکب ہوتے رہے ہیں ۔ گذشتہ چند دنوں کے دوران داخلی عدم استحکام اور انتشار کی کیفیت نے ملک میں بے یقینی کو بڑھاوا دیا ہے ۔ بے قابو عوامی احتجاج ، بعض مذہبی قائدین کی ریاستی اداروں کے خلاف قابلِ اعتراض گفتگو ، نامعلوم افراد کی جانب سے جلائو گھیرائو ، پولیس کی روایتی نااہلی ، بعض وزرا کی غیر ضروری زبان درازی ، سوشل میڈیا پر جاری طوفانِ بدتمیزی اور منفی پروپیگنڈے نے ایک مرتبہ پھر ہماری اجتماعی کمزوریوں کو پوری شدت سے آشکار کر دیا ہے۔
دشمن ہماری کمزوریوں سے فائدہ اٹھانے کے لیے گھات لگائے بیٹھا ہے ۔ راولپنڈی میں مولانا سمیع الحق صاحب جیسی معتبر دینی شخصیت کی دردناک شہادت ملک و قوم کے لیے بہت بڑا دھچکا ہے ۔ افغانستان میں جاری بحران کے پرامن حل کی جانب ہونے والی کسی بھی مثبت پیش رفت میں مولانا سمیع الحق کا کردار بہت اہمیت کا حامل تھا ۔ قحط الرجال کے اس دور میں مولانا سمیع الحق کا دم غنیمت تھا ۔ بلاشبہ مولانا سمیع الحق شہید معدودے ان نایاب شخصیات میں سے تھے جنہوں نے مسلکی اختلافات کو بالائے طاق رکھ کر ہمیشہ اتحاد بین المسلمین کی فضا بنائے رکھی ۔ مولانا سمیع الحق شہید کا نام تاریخ میں ان قابل احترام علما کی فہرست میں لکھا جائے گا جو ہمیشہ اللہ کے دین کی سر بلندی ، ناموس رسالت کے تحفظ ، عقیدہ ختم نبوت کی پاسداری اور ملکی استحکام کے لیے کوشاں رہے ۔
علامہ شاہ احمد نورانی اور قاضی حسین احمد جیسی معاملہ فہم اور مخلص شخصیات کے رخصت ہونے کے بعد دینی حلقوں کی صفوں میں پیدا ہونے والا قیادت کا خلا آج مولانا سمیع الحق کی شہادت سے مزید گہرا ہو گیا ہے ۔ یہ رسمی لفاظی نہیں ۔ گذشتہ چند برسوں کے دوران دینی حلقوں میں تیزی سے پھیلتا اشتعال اور بار بار ریاست کی قابل اعتراض کرتوتوں پر تصادم کی کیفیت کا پیدا ہونا مثبت علامت نہیں ۔ مولانا سمیع الحق کی شہادت پر پاکستان دشمن حلقوں کی جانب سے سوشل میڈیا پر زہریلے پروپیگنڈے اور جاہلانہ انداز میں اظہارِ مسرت نے یہ بات واضح کردی ہے کہ شہید کا وجود کن عناصر کی آنکھ میں کانٹا بن کے کھٹکتا تھا ۔ مولانا کے صاحبزادے نے واضح الفاظ میں اپنے والد کے قتل میں افغان حکومت کے ملوث ہونے کے شبہے کا اظہار کر دیا ہے ۔ یہ سمجھنا کچھ مشکل نہیں کہ جب ذکر افغان حکومت کا ہو تو پھر اس کی پشت پر امریکہ اور بھارت کا ہی ہاتھ کا ر فرما ہو تا ہے ۔




 سب سے زیادہ پڑھی جانے والی مقبول خبریں


آج کا مکمل اخبار پڑھیں

تازہ ترین خبریں


کالم /بلاگ


     
     
تمام اشاعت کے جملہ حقوق بحق ادارہ روزنامہ اوصاف محفوظ ہیں۔
Copyright © 2016 Daily Ausaf. All Rights Reserved