تازہ ترین  
جمعہ‬‮   16   ‬‮نومبر‬‮   2018

کشمیر کی دیوار برلن کب گرے گی؟


آج 9نومبر ہے۔ جرمن جشن منا رہے ہیں۔ جرمن قوم کو آزادی اور اتحاد کا جشن منانے کے لئے 30سال تک انتظار کرنا پڑا۔اس حقیقت کا ایک بار پھر اعتراف ہوا ہے ۔مگر کشمیری 71سال سے متحد نہ ہو سکے۔ کشمیر کی جنگ بندی لکیر دیوار برلن سے بھی سخت بن چکی ہے۔ جرمن قوم 30سال تک متحد ہونے کا خواب دیکھتی رہی۔ با لآخر اس کی تعبیر 9نومبر 1989ء کو ملی۔ جب دیوار برلن کے توڑنے کا اعلان کر دیا گیا، مشرقی اور مغربی جرمنی متحد ہو گئے۔ 1961ء سے 1989ء تک جرمنوں نے اپنوں کی جدائی اور تقسیم کے دکھ سہے۔ مشرقی جرمنی پر سوویت کنٹرول تھا۔ لوگوں کو مشرق سے مغرب کی طرف جانے سے روکنے کے لئے 161کلو میٹر طویل دیوار تعمیر کی گئی۔جو نو فٹ کنکریٹ تھی۔ اس پرتین فٹ خار دار تاریں لگا دی گئیں۔ دیوار پر مشین گنیں نصب کی گئیں۔ اس کے ارد گرد بارودی سرنگیں بچھ گئیں۔ اس دیوار نے صرف گلیاں اور مضافات ، شہر اور دیہات ہی تقسیم نہیں کئے بلکہ خاندان کے خاندان اور رشتے ناطے توڑ دیئے۔ یہ دیوار کبھی دیوار شرم اور کبھی آہنی پردہ کہلائی۔ لیکن اسے گرانے پڑا۔
اقوام متحدہ کے چارٹر اور دنیا کے تقریباً تمام ممالک کے آئین میں آزادی نقل و حمل کی ضمانت ملتی ہے۔ ایک قوم، خاندانوں، عزیز و اقارب کی تقسیم اگر چہ غیر اخلاقی ہے لیکن اخلاقیات کا اطلاق کمزور قوموں پر نہیں ہوتا۔ اور نہ ہی طاقت کے نشہ میں مست ممالک کسی اخلاقی تصور کے پابند ہوتے ہیں۔ ان کے سامنے مغلوب اور غلام قومیں کیڑے مکوڑے ہیں۔ ان کے کوئی حقوق نہیں۔ کیوں کہ ایسا ہم نے کشمیر میں ہی نہیں بلکہ فلسطین اور دیگر خطوں میں بھی دیکھ لیا۔ دیوار برلن کا گرنا کوئی حادثاتی واقعہ نہیں تھا بلکہ جرمن عوام نے اس کے لئے جدوجہد بھی کی۔ تقریباً 200افراد اس دیوار کو روندتے ہوئے مارے بھی گئے۔ لاتعداد زخمی ہوئے۔ ہفتوں تک عوام نے متحد ہونے کے لئے مظاہرے کئے۔ تا ہم دیوار کے ٹوٹنے کے دیگر عوامل بھی تھے۔ قوموں کی آزادی یا تصفیہ طلب ایشوز کا حل ہونا صرف احتجاج کے مرہون منت نہیں ہے بلکہ اس کے لئے مسلسل جدوجہد کے ساتھ اس خطے اور عالمی حالات و واقعات کو موافق ہونا یا بنانا بھی ضروری ہوتا ہے۔ دیوار برلن کو گرانے میں بھی ایسا ہی ہوا۔ لوگ بھی پر عزم تھے۔ ان کا جذبہ بھی تھا‘ تا ہم حالات بھی ان کے موافق بنے۔ سوویت یونین کو افغانستان میں شکست ہو رہی تھے۔ اس خطے میں سوویت نواز پولینڈ اور ہنگری کی حکومتیں زوال پذیر تھیں یعنی جدوجہد کے ساتھ ہی سیاسی حالات نے بھی جرمنوں کا ساتھ دیا۔ اس لئے 30سال بعد ہی سہی، لیکن ان کا خواب پورا ہوا۔ وہ پھر سے متحد ہوگئے، خاندان ایک دوسرے سے مل گئے۔ جدائیاں ختم ہو گئیں۔ جرمن دیوار برلن گرنے کی سلور جوبلی منا چکے ہیں۔ اتحاد کے30سال۔ جرمن چانسلر نے اس خواب کا زکر کیا جو اس قوم نے دیکھا تھا۔ جس کے پورا ہونے میں تیس برس لگ گئے۔ انہوں نے اس بات کا اعتراف کیا کہ خواب حقیقت بن سکتے ہیں۔ یہ بات سب کے لئے بھی حوصلہ افزا ہے کہ خواب سچ ثابت ہوسکتے ہیں۔ آج جرمنی میں لوگ جشن منا رہے ہیں۔ شہر چراغاں کئے جا رہے ہیں۔ تقریبات ہو رہی ہیں۔ اس دیوار کے لئے لوگ اپنی نفرت کا اظہار کر رہے ہیں۔ عالمی جنگ دوم کے بعد برلن کو چار زون بنا کر اتحادیوں نے اس پر قبضہ کیا۔ مشرقی حصہ پر سوویت یونین قابض ہو گیا۔برلن کے مغربی حصہ کو امریکہ، برطانیہ اور فرانس نے آپس میں تقسیم کر لیا۔
وزیر اعظم عمران خان پاک جرمن تعلقات کی بہتری اور معاہدوں کے ساتھ جرمن رہنمائوں کے ساتھ دنیا میں موجود ایک اور دیوار برلن کا بھی زکر کر سکتے ہیں۔ اس دیوار کو توڑنے کے لئے جرمنی اور اس کے اتحادیوںکی حمایت طلب کر سکتے ہیں۔ کشمیر کی سیز فائر لائن بھی جنوبی ایشیا میںدیوار برلن ہے۔ اس دیوار نے 71سال سے ڈیرھ کروڑ عوام کو ایک دوسرے سے جدا کررکھا ہے۔ دیوار برلن 12فٹ اونچی تھی لیکن کشمیر کی دیوار برلن فلک بوس بن رہی ہے۔ اس کو توڑنے کے بجائے اس کو پختہ بنایا جا رہا ہے۔ اس پر کنکریٹ بنکر تعمیر کئے گئے ہیں۔ آہنی دیوار لگا کر اس میں کرنٹ چھوڑا گیا ہے۔ لیزر ٹیکنالوجی استعمال کی گئی ہے۔ بھارت اس دیوار کو سمارٹ دیوار بندی کا درجہ دے کر فخر کر رہا ہے۔تاکہ کوئی اسے پار نہ کر سکے۔ اس دیوار کی وجہ سے لاکھوں لوگ شہید ہو چکے ہیں۔ کشمیری ہی نہیں بلکہ پاکستان اور بھارت کے فوجی بھی اس دیوار کی وجہ سے مارے جا رہے ہیں۔ اس کے باوجود حالات موافق نہیں۔ لیکن کشمیریوں کا خواب ہے۔ وہ بھی آزادی اور اتحاد چاہتے ہیں۔ 71سال سے اس کا خواب دیکھ رہے ہیں۔ قربانیاں بھی دے رہے ہیں۔ اس لئے یہ خواب ضرور پورا ہوگا۔
حالات کو موافق کرنا ہے۔ وزیر اعظم عمران خان جرمن قوم کو اس آزادی اور اتحاد پر مبارکباد دیں۔آج جرمن دیوار برلن کر گرانے کی سالگرہ منا رہے ہیں۔ ان کے اس جشن میں پاکستان بھی شامل ہے۔وہ اس دیوار کی مصیبتوں کو سمجھتے ہیں۔ اس لئے وہ کشمیر کی دیوار برلن کو بھی سمجھ سکتے ہیں۔ اس کو گرانے میںوہ بھی اپنا تعاون پیش کر سکتے ہیں۔ شاید دنیا کشمیر کی دیوار برلن سے اس طرح آگاہ نہیں جس طرح ہونا چاہیئے۔ شاید دنیا کے سامنے ہم اپنا مقدمہ اس طرح پیش نہیں کر سکے ہیں جس طرح اسے پیش کرنے کاحق ہے۔ دنیا کو خبر ہو کہ کشمیر کی بھی ایک خطرناک دیوار برلن ہے۔ جو 71سال سے قائم ہے۔ جس نے لاکھوں لوگ قربان کر دیئے ہیں۔ جس کی وجہ سے دنیا میں ایک ایٹمی جنگ چھڑسکتی ہے۔ جو سب کچھ تباہ کر دے گی۔ اس لئے اس کا گرانا ضروری ہے۔ بھارت اسے گرانے کے بجائے اسے پختہ کر رہا ہے۔
کشمیری بھی جرمنوں کی طرح آزادی اور اتحاد چاہتے ہیں۔ جرمن قوم کو سالگرہ تقریبات پر مبارکباد پیش ہے۔ انہیں بھارت پر دبائو ڈالنے پر آمادہ کیا جا سکتا ہے۔ اس کا جواز ہے۔ صرف بات درست انداز میںپیش کرنے کی ہے۔ ان کو ان کی ہی زبان ، لہجے، دردمندی اور محاوروں میں سمجھایا جا سکتا ہے۔ جرمن چانسلر کو خبر ہو کہ ایک اور قوم بھی خواب دیکھ رہی ہے۔ اس خواب کو حقیقت بننے میں بھارت رکاوٹ ہے۔ ایک اور دیوار برلن توڑنے کی ضرورت ہے۔ بھارت اس میں حائل ہے۔ لیکن یہ قوم پر عزم ہے اور خواب بھی دیکھ رہی ہے کہ انہیں بھی جرمن قوم کی طرح آزادی بھی ملے گی اور اتحاد بھی ہوگا۔آج دیواریں گرانے اور پل تعمیر کرنے کا دور ہے۔ کشمیری 71 سال سے یہاں کی دیوار برلن گرانے کے لئے بر سر پیکار ہیں۔




 سب سے زیادہ پڑھی جانے والی مقبول خبریں


آج کا مکمل اخبار پڑھیں

تازہ ترین خبریں


کالم /بلاگ


     
     
تمام اشاعت کے جملہ حقوق بحق ادارہ روزنامہ اوصاف محفوظ ہیں۔
Copyright © 2016 Daily Ausaf. All Rights Reserved