تازہ ترین  
جمعرات‬‮   15   ‬‮نومبر‬‮   2018

شہادت کا شوق


شوق شہادت توغیرت ایمانی کا مظہر ہے‘ جو دل شوق شہادت سے خالی ہوں، وہاں منافقت ڈیرے ڈال لیا کرتی ہے، 4روز قبل اسلام آباد میں طلبہ المرابطون کے زیراہتمام مختلف کالجز اور یونیورسیٹز کے طلبا کے درمیان’’شوقِ شہادت‘‘کے عنوان سے ہونے والے تقریری مقابلے میں25طلبا نے حصہ لیا، تقریری مقابلے کا یہ اجتماع اس لحاظ سے منفرد تھا کہ اس میں کشمیری شہدا کے کئی ورثاء بھی شریک تھے،اور تقریری مقابلے میں اول،دوئم،سوئم آنے والے نوجوانوں میں انعامات بھی تقسیم کئے گئے۔
نوجوان طلبا کے اس مبارک اجتماع سے خطاب کرتے ہوئے اس خاکسار نے عرض کیا کہ” میرا دل تو چاہتا ہے کہ’’شوق شہادت ‘‘ کے عنوان پر تقریر کرنے والے ہر نوجوان کو اول قرار دے دیا جائے کیونکہ شہادت کی تڑپ اور شوق رکھنے والا کوئی شخص کبھی دو نمبر ہو ہی نہیں سکتا‘ مگر مجبوری یہ ہے ،کہ آج کے تقریری مقابلے میں باقاعدہ’’ججز‘‘بھی موجود ہیں، اور آجکل کے ’’ججز‘‘ سے ڈر کر رہنا بھی ضروری ہے۔
طلبہ المرابطون کے ذمہ داران اس لحاظ سے بھی مبارک باد کے مستحق ہیںکہ یہ کالجز اور یونیورسٹیوں کے طلبا کی دینی اور اصلاحی تربیت کرنے کی کوششیں کرتے رہتے ہیں، بدقسمتی سے ہم ایک ایسے دور میں زندہ ہیں،کہ حکمرانوں سے لیکر دانشوروں اور میڈیا تک سب کی کوششیں مسلمان نوجوانوں کے دل و دماغ سے دین اسلام کی محبت ختم کرنے پر صرف ہو رہی ہیں۔
کالجز اور یونیورسٹیوں میں علما ء کے بیانات پر تو پابندی عائد ہے، مگر ڈالر خور این جی اوز کے گماشتے کالجز اور یونیورسٹیز کو اپنے باپ کی جاگیر سمجھ کر نوجوان طلبا و طالبات میں گمراہی پھیلانے کے مشن پر گامزن ہیں، کشمیر پاکستان کی شہہ رگ ہے، کشمیر میں جہاد عروج پر ہے‘ مگر کالج اور یونیورسٹیوں کے طلبا وطالبات میں کشمیر کے جہاد میں شریک مجاہدین کو تو بات کرنے کی اجازت نہیں ہے، ہاں البتہ جہاد کشمیر کی مخالف انڈین پٹاری سے وابستہ خواتین و حضرات کھل کر وہاں بھارتی ایجنڈے پر عمل پیرا ہیں، لیکن انہیں کوئی روکنے والا نہیں ہے۔
یونیورسٹیوں کی صورت حال اس حد تک دِگرگوں ہو چکی ہے کہ ڈالر خور این جی اوز کے ’’کھونٹے‘‘ سے بندھے ہوئے بعض پروفیسر، طلبا وطالبات کے اخلاق و کردار کے ساتھ ساتھ ایمان تباہ کرنے پر بھی تلے ہوئے ہیں‘ لمز یونیورسٹی سے اسسٹنٹ پروفیسر تیمور الرحمان کا طلبا وطالبات کے ایک وفد کو دجال قادیانیوں کے مرکز میں لے کر جانا اسی سلسلے کی ایک کڑی ہے۔
ان حالات میں طلبہ المرابطون کا عصری طلبا کو ہر قسم کی مذہبی و سیاسی فرقہ واریت، لسانیت، صوبائیت، اور دیگر تمام تعصبات سے پاک، خالص دینی اور اصلاحی ماحول فراہم کرنا نہایت خوش آئند بات ہے، شوق شہادت عطیہ خداوندی ہے‘ شوق شہادت، ایمانی کیفیات کی معراج ہے، شوق شہادت ایمان کی سلامتی کا ضامن ہے، جذبہ شوق شہادت، غیرت و حمیت کی علامت ہے‘ ایک لاکھ 24 ہزار صحابہ کرام رضوان اللہ علیہ اجمعین میں سے کوئی ایک صحابی رضی اللہ عنہ ایسے نہ تھے کہ جن کے دل میں شہادت کا شوق نہ ہو۔
سیدالانبیا حضرت محمد کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے دل میں تو ایسا شوق شہادت تھا کہ ٹرپ، تڑپ کر اللہ کے حضور’’شہادت‘‘ کی دعا فرمایا کرتے تھے۔
اسلام کی سوا چودہ سو سالہ تاریخ میں کوئی ایک بھی مسلمان لیڈر،راہنما یا مسلم جرنیل ایسا نہیں گزرا کہ جسے شہادت کی تمنا اور شوق نہ ہو، طلبہ المرابطون نے ’’شوق شہادت‘‘کے عنوان پر تقریری مقابلہ کروا کر نوجوانوں میں جذبہ شوق شہادت کو ابھارنے کی کوشش کی ہے، اللہ ان کی اس کوشش کو قبول فرمائے۔
طلبا کے اجتماع میں المرابطون پاکستان کے ذمہ داران ڈاکٹر اسامہ، عنایت الرحمان مرکز الجمیل الاسلامی کے پرنسپل مولانا اشتیاق کے علاوہ ابو الشہدا بابا دین محمد بھی شریک تھے، اس خاکسار نے اپنے خطاب میں مزید عرض کیا کہ جذبہ شوق شہادت چھیننے اور جہاد و قتال کی عبادت کو گھٹانے کیلئے عالم کفر پورا زور لگا رہا ہے لیکن جہاد و قتال کی عبادت کا تذکرہ چونکہ قرآن کے اوراق پر موجود ہے اس لئے “جہاد و شہادت” کے دشمنوں کا دنیا و آخرت میں منہ کالا ہو کر رہے گا۔
پاکستان کی حکومت اور مسلمانوں سمیت پوری دنیا کے مسلمانوں نے ہالینڈ کے گستاخ ملعون کو احتجاج کے ذریعے گستاخانہ حرکت سے باز رکھنے کی کوشش کی مگر اس ملعون پر ایک ارب سے زائد مسلمانوں کے احتجاج کا ذرا بھر بھی اثر نہ ہوا، نہ ہی ہالینڈ کا وہ ملعون اپنی غلیظ حرکت سے باز آیا۔ پس آج کے حالات نے بھی ثابت کر دیا کہ ہالینڈ کے ملعون جیسے شیطانوں کا علاج بھی صرف اور صرف جہاد کے ذریعے ہی ممکن ہے،شوق شہادت اور جذبہ جہاد کے مخالفین دراصل ’’طاغوت‘‘ اور طاغوتی طاقتوں کے وہ سہولت کار ہیں کہ جو ڈالروں اور وقتی مفادات کی خاطرپوری ملت اسلامیہ کا سودا کرنے سے بھی دریغ نہیں کرتے۔




 سب سے زیادہ پڑھی جانے والی مقبول خبریں


آج کا مکمل اخبار پڑھیں

تازہ ترین خبریں


کالم /بلاگ


     
     
تمام اشاعت کے جملہ حقوق بحق ادارہ روزنامہ اوصاف محفوظ ہیں۔
Copyright © 2016 Daily Ausaf. All Rights Reserved