تازہ ترین  
جمعرات‬‮   15   ‬‮نومبر‬‮   2018

آندھی چلی تو دھوپ کی سانسیں الٹ گئیں


حقوق اور فرائض کی دنیا میں توازن اور احساس کھو جانے والی عظیم قوم ،فضیلت مآب ملت اور تاریخت مآب کارواں کو ولادت نبوی کی خوشیاں مبارک ہوں ۔
حکومتی اور غیر حکومتی عاشقان رسول کو
خوبصورت خوشیاں ،پائیدار خوشیاں
اور سرمدی خوشیاں مبارک ہوں
لبیک یارسول اللہ
عسکری اداروں!حکومتی وفاداروں !اور عجیب التخلیق فتوی داروں کو میلاد کی !خوشیاں مبارک ہوں
پاسدارِ فکر عدلیہ!اور
ایوانِ معنی سے محروم قلمدان سنبھالنے والے قانون دانوں کو عید مبارک لبیک یارسول اللہ
کھلی اور بند سڑکوں پر آدمیت کی نعش پر جشن منانے والوں کو بھی سلام اور غریب بچوں کے ہاتھ سے روزینہ چھین کر پیٹ بھرنے والے غیور دینی کارکنوں کو عزم نو مبارک ہو ،ہمت خسروی مبارک ہو اور رازِ دروں سے آشنا دوستوں کی ہمدمی مبارک ہو ۔احساس کی دنیا زندہ رکھنا بڑی عید ہے تمہیں بڑی عید مبارک ہو۔آئو مل کر نعرہ زن ہوں لبیک یارسول اللہ!
ہمارے ایک عاشق رسول مفکر نے کہا تھا :
ہمارا خود اپنے اوپر سب سے بڑا احسان یہ ہوگا کہ ہم اپنے دل کو محسوس کرنے والا دل بنا لیں ۔
یہ درست بات ہے سوچنے والاذہن ، محبت میں دھڑکنے والا دل اور احساس سے لبریز روح نصیب والوں کا سرمایہ ہوتا ہے ….لبیک یارسول اللہ !
مذہب میں علم ہو!عمل ہو اور احساس ہو اور اقدار فروشی سے دوری نصیب ہو تو قلب ، قالب اور ملت ملک مدینہ کی فلاحی ریاست سے قریب ہو سکتے ہیں لیکن حسد ،ظلم، بے دینی اور اغیار سے وفاداری مقصود ہو تو وطن کو فلاح کا مرکز نہیں بنایا جا سکتا ۔سمجھ نہیں پڑ رہی کہ میلاد کی خوشیاں منائی جائیں یا غداروں کی اسرائیلی آرزوئوں کا نوحہ کیا جائے ۔ہاں وفا کا ایک نشان تو قائم کیا جا سکتا ہے کہ خلوص سے اپنے دلوں کا رخ سوئے مدینہ کرکے استغاثہ کر لیا جائے ….لبیک یارسول اللہ!
اچانک دل دھڑکا ہے ،جسم لرزا ہے اور روح کانپی ہے قضاداروںاور ان کے دوستوں کا ایک فیصلہ ایک ملعونہ کے بارے میں نظروں سے گزرا ہے فیصلہ تو ان کے ضمیر سے قریب ہے وہ ساری زندگی اپنے حرفوں کی کمائی کھاتے رہیں گے ،بخت کی غاروں میں محصور رہیں گے ۔اصل تکلیف دہ بات یہ ہے کہ انہوں نے یہ فیصلہ غازی علم دین شہید کے یومِ شہادت پر صادر فرمایا ہے ۔اللہ قسم دل تو کرتا ہے بلہے شاہی چولا پہن کر میں بھی سرِ راہ دھرنا دوں اور پکاروں لبیک یارسول اللہ اور ایسا کرنا میرا حق بھی ہے کہ ارض وطن کی خاک میں یہ روشنی بھرنے کے لیے صاحب قلم کی بڑی خدمات ہیں لیکن مشکل یہ بن گئی ہے کہ مشکل بن گئی ہے ۔اس لیے آپ خودہی پرخلوص استغاثہ کی شش جہات متعین کر لیں اور آواز بر زبان اور گونج گو در آسمان ہو جائیں ۔
لبیک یارسول اللہ!ہمارے نئے پاکستان نے ہم سے بہت کچھ چھین لیا ۔امید یہ تھی کہ بہت کچھ پائیں گے ۔ ابھی تک تو پرانے پاکستان کی تحریک چلانے والے مخلص کارکنوں ،عظیم تر شہیدوں اور باہمت دلداروں کے عزائم کی روشنی فضائوں میں قائم ہے ۔واصف علی واصف نے نئے حالات کی پرانی کہانی کتنے خوبصورت لفظوں میں رقم کی ہے ۔
عزائم کے تقدسات کو پامال ہونے سے بچایا جائے کہیں انسانیت اپنی اصلیت ہی سے محروم نہ ہوجائے ۔دل پرانی یادوں سے آباد رہیں اور پیشانیاں سجدوں سے سرفراز رہیں ۔ پرانا کلمہ پھر سے پڑھا جائے اور مسجدوں کے پرانے خطبوں میں نئے نام نہ شامل کیے جائیں ۔ پرانی عقیدتیں ہی دینی عقیدتیں ہیں کہیں محبت اور احترام سے خالی ہو کر ہم گستاخ نہ بن جائیں اور ہماری خود غرضی اور گستاخی ہمارے لیے عذاب نہ لکھ دے
لبیک یارسول اللہ!لبیک یارسول اللہ!! لبیک یارسول اللہ!!
ایک مرتبہ رسول اکرمؐ نے اپنی زبان نور ترجمان سے رحمتوں کے جلوے نچھاور فرمائے !
بنی اسرائیل میں تین آدمی تھے ۔ایک سفید داغ والا ، دوسرا گنجا اور تیسرا اندھا ۔اللہ نے ایک فرشتہ بھیج کر انہیں آزمایا ۔فرشتہ نے کوڑھی کے مریض سے پوچھا تمہیں کیا چیز پیاری ہے ۔اس نے کہا اچھا رنگ اور خوبصورت کھال ۔فرشتے نے لمس کیا اور اسے اچھا رنگ اور عمدہ کھال نصیب ہوگئی اور ساتھ مال میں ایک حاملہ اونٹنی بھی مل گئی ۔یوں ہی گنجے نے بال مانگے تو اسے یہ خزانہ مل گیا اور ساتھ ایک خوبصورت گائے بھی مل گئی ۔اس کے بعد فرشتہ نابینا کہ پاس گیا تو اس کی طلب بینائی کی صورت میں پائی ۔فرشتے نے ہاتھ پھیرا تو اللہ نے بینائی عطا کر دی اور ساتھ ایک بکری بھی مل گئی ۔اصل میں اونٹنی ،گائے اور بکری شکر کا امتحان تھا اس سے آگے روایت کتب حدیث میںملاحظہ ہو ۔
توجہ خیر کی طرف مبذول کروانے کے لیے صرف اتنا کہنا چاہوں گا کہ خدا کی ہر عطا کا قولی اور عملی شکر ادا ہونا چاہیے اور یہ بھی کہ ہم کبھی اعلیٰ مقاصد کی خاطر سڑکوں پر رسم شبیری ادا کرنا ضروری سمجھیں تو ہمارے مطالبے صرف گنجے ،نابینا اور کوڑھی کے مریض ایسے نہیں ہونے چاہئیں بڑے دروازے سے بڑی چیزوں کا انتخاب ہونا چاہیے اور ہماری تحریکوں کا انجام صرف اونٹ ،گائے اور بکری پر ختم نہیں ہو جانا چاہیے ہم لوگ تو محروم لوگ ہیں ہمارے حصے میں سوائے لید اور مینگنیوں کے کچھ نہیں آتا۔ آیئے ذہن صاف کرنے کے لیے نعرہ لگائیں …. لبیک یارسول اللہ




 سب سے زیادہ پڑھی جانے والی مقبول خبریں


آج کا مکمل اخبار پڑھیں

تازہ ترین خبریں


کالم /بلاگ


     
     
تمام اشاعت کے جملہ حقوق بحق ادارہ روزنامہ اوصاف محفوظ ہیں۔
Copyright © 2016 Daily Ausaf. All Rights Reserved